**ممتا بنرجی کا اسمبلی حلقہ بھوانی پور*
محمد ہاشم القاسمی (خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال) موبائل 9933598528
مغربی بنگال کی سیاست میں جب بھی اقتدار کے توازن کی بات ہوتی ہے، تو کولکتہ کے قلب میں واقع ایک چھوٹی سی مگر انتہائی اہم اسمبلی نشست ‘بھوانی پور’ کا ذکر ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بھوانی پور محض ایک انتخابی حلقہ نہیں ہے، بلکہ اسے بنگال کی سیاست کا ‘اعصابی مرکز’ (Nerve Centre) کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ جنوبی کولکتہ کا یہ علاقہ نہ صرف وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا سیاسی گڑھ ہے، بلکہ یہ بنگال کی بدلتی ہوئی سیاسی وفاداریوں کی ایک زندہ مثال بھی ہے۔ بھوانی پور کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا متنوع سماجی ڈھانچہ ہے۔ یہاں بنگالیوں کے ساتھ ساتھ گجراتی، مارواڑی، پنجابی اور مسلم کمیونٹی کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ لسانی اور مذہبی رنگوں کے اس حسین امتزاج کی وجہ سے اسے ‘منی انڈیا’ کہا جاتا ہے۔ یہی تنوع اس سیٹ کو سیاسی طور پر حساس اور پیچیدہ بناتا ہے، کیونکہ یہاں کی جیت صرف ایک طبقے کی حمایت سے ممکن نہیں بلکہ تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کا فن مانگتی ہے۔ تاریخی طور پر بھوانی پور کانگریس کا ناقابل تسخیر قلعہ رہا ہے۔ 1950 اور 60 کی دہائی میں یہاں کانگریس کے بڑے لیڈروں کا طوطی بولتا تھا۔ لیکن 1998 میں جب ممتا بنرجی نے ترنمول کانگریس (TMC) کی بنیاد رکھی، تو اس علاقے کی سیاسی فضا بدلنے لگی۔ ممتا بنرجی، جو اسی علاقے کی رہائشی ہیں اور جن کا گھر ‘ہریش چٹرجی اسٹریٹ’ پر واقع ہے، نے یہاں کے عوام کے ساتھ ایک جذباتی رشتہ استوار کیا۔ آہستہ آہستہ کانگریس کا روایتی ووٹ بینک ٹی ایم سی کی طرف منتقل ہو گیا اور آج یہ سیٹ ممتا بنرجی کی طاقت کی علامت بن چکی ہے۔ 2011 میں جب ممتا بنرجی نے 34 سالہ بائیں بازو (Left Front) کے اقتدار کا سورج غروب کیا، تو انہوں نے اپنی سیاسی بساط کے لیے بھوانی پور کا ہی انتخاب کیا۔ 2011، 2016 اور پھر 2021 کے تاریخی ضمنی انتخاب میں ان کی ریکارڈ ساز جیت نے یہ ثابت کر دیا کہ یہاں کے عوام اپنی ‘گھر کی بیٹی’ پر ہر بار بھرپور اعتماد کرتے ہیں۔ 2021 کے ضمنی انتخاب میں 58 ہزار سے زائد ووٹوں کی جیت نے اپوزیشن کے ان تمام دعوؤں کو مسترد کر دیا تھا کہ یہاں کی غیر بنگالی آبادی ممتا بنرجی سے دور ہو رہی ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں، خاص طور پر 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد، بھوانی پور کا سیاسی میدان ‘دو قطبی’ (Bipolar) ہو چکا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) نے یہاں کے کاروباری اور غیر بنگالی طبقے میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ بی جے پی کی آمد نے اس الیکشن کو ‘بنگالی شناخت’ بمقابلہ ‘ہندوتوا اور ترقی’ کی بحث میں بدل دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہاں کا انتخاب صرف گلیوں کی ترقی پر نہیں بلکہ بڑے سیاسی نظریات کی بنیاد پر لڑا جاتا ہے۔ جیسے جیسے مغربی بنگال میں اگلے اسمبلی انتخابات قریب آ رہے ہیں، بھوانی پور ایک بار پھر مرکزِ نگاہ ہے۔ ٹی ایم سی کے لیے یہ اپنی ساکھ بچانے کی جنگ ہے، جبکہ بی جے پی کے لیے یہ ممتا بنرجی کے قلعے میں سیندھ لگانے کا سنہری موقع۔ یہاں کے اہم مسائل میں شہری بنیادی ڈھانچہ، تاجروں کا تحفظ اور ریاستی حکومت کی فلاحی اسکیموں (جیسے لکشمی بھنڈار) کا اثر شامل ہے۔ بھوانی پور کا انتخابی نتیجہ صرف ایک سیٹ کا فیصلہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ پورے مغربی بنگال کے سیاسی موڈ کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اگر ممتا بنرجی یہاں مضبوط رہتی ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ کولکتہ کا تخت محفوظ ہے۔ لیکن اگر یہاں کے نتائج میں کوئی بڑا الٹ پھیر ہوتا ہے، تو یہ بنگال کی سیاست میں ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
بھوانی پور ایک ایسا حلقہ ہے جہاں ووٹرز کی تعداد میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ 2021 کے عام انتخابات اور ضمنی انتخاب کے دوران جو اعداد و شمار سامنے آئے، وہ کچھ یوں ہیں: کل ووٹرز (2,00,935 سے 2,10,000 کے درمیان جس میں مرد ووٹرز تقریباً 1,11,000 (53%) خواتین ووٹرز تقریباً 98,000 (47%) بتایا گیا ہے۔ بھوانی پور میں نوجوان ووٹرز (خاص طور پر فرسٹ ٹائم ووٹرز) کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یہ نوجوان سوشل میڈیا اور جدید ترقیاتی ایشوز سے متاثر ہوتے ہیں، جو کہ بی جے پی اور ٹی ایم سی دونوں کے لیے ایک بڑا ٹارگیٹ گروپ ہیں۔ ممتا بنرجی کی ‘لکشمی بھنڈار’ اور دیگر خواتین سے متعلق فلاحی اسکیموں کی وجہ سے یہاں خواتین ووٹرز کا ایک بڑا حصہ روایتی طور پر ترنمول کانگریس کی طرف مائل رہا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، یہاں کے کل ووٹرز میں ایک بڑی تعداد (تقریباً 40 فیصد) غیر بنگالیوں کی ہے، جن میں گجراتی اور مارواڑی ووٹرز کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے۔ مغربی بنگال کی سیاست میں ممتا بنرجی نے ایک بار پھر ‘براہ راست مالی امداد’ (Direct Benefit Transfer) کا وہ کارڈ کھیلا ہے جس کا توڑ فی الحال اپوزیشن کے پاس نظر نہیں آتا۔ حال ہی میں شروع کی گئی ‘بنگلار یوا ساتھی’ اسکیم، جس کے تحت 21 سے 40 سال کی عمر کے میٹرک (مدھیامک) پاس بے روزگار نوجوانوں کو ماہانہ 1500 روپے دیے جا رہے ہیں، 2026 کے اسمبلی انتخابات میں ایک بڑا سیاسی طوفان لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ جس طرح 2021 کے انتخابات میں ‘لکشمی بھنڈار’ نے خواتین کے ووٹوں کو ترنمول کانگریس (TMC) کے حق میں یکطرفہ کر دیا تھا، اب یہ نئی اسکیم نوجوان ووٹرز کے ایک بڑے حصے کو حکومت کا وفادار بنانے کی کوشش ہے۔ ریاست کے بجٹ میں اس کے لیے تقریباً 5000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس سے اندازاً 27 لاکھ سے زائد نوجوان مستفید ہوں گے۔
اس اسکیم کا اثر صرف مالی امداد تک محدود نہیں، بلکہ اس کے نفسیاتی اور سیاسی معنی بہت گہرے ہیں: یہ اسکیم ان لاکھوں نوجوانوں کو ایک سہارا فراہم کرتی ہے جو ملازمت کی تلاش میں ہیں یا کسی مسابقتی امتحان کی تیاری کر رہے ہیں۔ بی جے پی اور دیگر جماعتیں اسے “انتخابی رشوت” قرار دے رہی ہیں، لیکن غریب اور متوسط طبقے کے لیے یہ 1500 روپے ایک بڑی ضرورت کو پورا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اپوزیشن کا تنقیدی بیانیہ کمزور پڑ سکتا ہے۔ آثار بتا رہے ہیں کہ 2026 کی مہم میں ٹی ایم سی اس اسکیم کو اپنی سب سے بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرے گی، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں بے روزگاری ایک سنگین مسئلہ ہے۔ بھوانی پور کے دو لاکھ سے زائد ووٹرز میں سے خواتین کی بڑی تعداد ممتا بنرجی کی ‘سائیکل’ (خاموش ووٹ بینک) ثابت ہوتی ہے، جبکہ نوجوان طبقہ روزگار اور آئی ٹی (IT) سیکٹر میں ترقی کے خواب لے کر پولنگ بوتھ تک جاتا ہے۔ ممتا بنرجی کی اس اسکیم (جسے عام طور پر ‘یووا شری’ (Yuvasree) یا اسی طرز کی حالیہ مالی امدادی اسکیموں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے) کا مغربی بنگال کی سیاست، خاص طور پر 2026 کے اسمبلی انتخابات پر بہت گہرا اثر پڑنے والا ہے۔
اگرچہ پندرہ سو روپے بظاہر ایک چھوٹی رقم لگتی ہے، لیکن زمینی سطح پر اس کے اثرات درج ذیل ہو سکتے ہیں: 1بنگال میں بے روزگاری ایک بڑا انتخابی مسئلہ رہا ہے۔ میٹرک پاس نوجوانوں کو براہ راست مالی امداد دے کر ممتا بنرجی ان لاکھوں نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہیں جو پہلی بار ووٹ ڈالیں گے۔ یہ رقم ان کے لیے انٹرنیٹ پیک، فارم بھرنے کی فیس یا چھوٹے اخراجات میں مددگار ثابت ہوتی ہے، جس سے ووٹر کے دل میں حکومت کے لیے ایک “نرم گوشہ” پیدا ہوتا ہے۔ 2. ‘لکشمی بھنڈار’ کی طرح کا اثر جس طرح ‘لکشمی بھنڈار’ اسکیم (خواتین کے لیے مالی امداد) نے 2021 کے انتخابات میں ترنمول کانگریس (TMC) کو یکطرفہ جیت دلانے میں مدد کی تھی، اسی طرح یہ نئی اسکیم نوجوانوں کے لیے “سوشل سیکیورٹی” کا کام کرے گی۔ یہ براہ راست فائدہ (DBT) ووٹر اور حکومت کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرتا ہے۔ 3. بنگال کے دیہی علاقوں (جیسے پورولیا، بانکوڑا یا مدنا پور) میں پندرہ سو روپے کی اہمیت شہروں کے مقابلے زیادہ ہے۔ وہاں کے غریب گھرانوں کے لیے یہ رقم ایک سہارا بنتی ہے۔ جب گھر کے نوجوان کو یہ رقم ملے گی، (رواں ماہ یہ رقم نوجوانوں کے اکاؤنٹ میں آچکی ہے) تو پورے خاندان کا سیاسی جھکاؤ حکمران جماعت کی طرف ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ 4. بی جے پی اور بائیں بازو (Left) اکثر ٹی ایم سی پر “خیراتی سیاست” کا الزام لگاتے ہیں۔ لیکن جب عوام کی جیب میں براہ راست پیسہ پہنچتا ہے، تو اپوزیشن کے لیے “ترقی” یا “بدعنوانی” جیسے نعروں سے ووٹر کو توڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اپوزیشن کے پاس اب اس کا توڑ کرنے کے لیے اس سے بڑی کسی مالی اسکیم کا وعدہ کرنا پڑے گا۔ 5. اس اسکیم کا ایک مثبت سماجی اثر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ غریب والدین اپنے بچوں کو کم از کم میٹرک (مدھیامک) پاس کروانے کی کوشش کریں گے تاکہ وہ اس سرکاری امداد کے اہل بن سکیں۔ جیسے کنیا شری: اس کا بنیادی مقصد لڑکیوں کو اسکولوں تک لانا اور کم عمری کی شادی کو روکنا تھا۔ اس نے تعلیمی میدان میں ڈراپ آؤٹ ریٹ کو کم کرنے میں بڑی کامیابی حاصل کی۔ اسی طرح یوا ادھیکار اسکیم کو اگر صحیح طریقے سے نافذ کیا جائے، تو یہ تعلیم مکمل کرنے والے نوجوانوں کو بے روزگاری کے بھنور سے نکال کر معاشی طور پر خود مختار بنا سکتی ہے۔ جیسے کنیا شری میں براہِ راست نقد رقم کی منتقلی (DBT) نے غریب خاندانوں کے لیے بیٹیوں کی پڑھائی کا بوجھ ہلکا کیا۔ بالکل ایسے ہی یوا ادھیکار کے تحت ملنے والے وظیفے یا اسٹارٹ اپ فنڈز نوجوانوں کو مقابلے کے امتحانات کی تیاری یا اپنا چھوٹا کاروبار شروع کرنے کی ہمت دے سکتے ہیں۔
جس طرح کنیا شری نے خواتین کو بااختیار بنایا، اسی طرح نوجوانوں کے لیے مخصوص پالیسیاں انہیں منفی سرگرمیوں سے دور رکھ کر ریاست کی تعمیرِ نو میں شامل کر سکتی ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ سیاسی بیانیے اپنی جگہ، لیکن عوامی فلاحی اسکیمیں (Social Welfare Schemes) ہی وہ اصل پیمانہ ہیں جو کسی بھی لیڈر یا پارٹی کے لیے عوام کا اعتماد جیتنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔***
نوٹ : (اس مضمون کو جاری تصور کیا جائے اگلا عنوان نندی گرام سیٹ آنے والا ہے)










