*آؤٹ سورسنگ ملازمین کے لئے کارپوریشن کے قیام کا مطالبہ*
*مسائل کی عدم یکسوئی پراحتجاج میں شدت پیدا کرنے کا انتباہ*
*بی آر ایس دور میں انصاف فراہم نہ کر پانے پر کھلے عام معذرت خواہی*
*جےاےسی کے احتجاجی پروگرامس کی مکمل تائید و حمایت کا اعلان۔ کے کویتا کا خطاب*

تلنگانہ ریاست کے آؤٹ سورسنگ ملازمین کی جے اے سی کی جانب سے دھرنا چوک،اندرا پارک پر جاری دھرنے میں صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے شرکت کی اور احتجاج کواپنی مکمل تائید و حمایت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر کویتا نے بی آر ایس کے دور حکومت میں آؤٹ سورسنگ ملازمین کو انصاف فراہم نہ کر پانے پر کھلے عام معذرت خواہی کی۔انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی سابقہ حکومت کا حصہ رہی ہیں اور اس دور کی کوتاہیوں میں ان کا بھی حصہ ہے، اس لئے وہ بطور بہن تمام ملازمین سے معافی کی طلبگار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں تقریباً 5 لاکھ افراد آؤٹ سورسنگ ملازمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، مگر آج بھی وہ بنیادی حقوق اور تحفظ سے محروم ہیں۔کویتا نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آؤٹ سورسنگ نظام کے ذریعہ صرف ایجنسیوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے جبکہ لاکھوں ملازمین کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پر ایک روپیہ بھی اضافی بوجھ کےبغیر یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے، مگر اس کے باوجود حکومت اس جانب سنجیدہ نہیں ہے۔انہوں نے فوری طور پر آؤٹ سورسنگ ملازمین کے لئے ایک کارپوریشن کے قیام کا مطالبہ کیا اورکہا کہ اگر حیدرآباد کی سڑکوں پر لاکھوں ملازمین مارچ کریں تو حکومت کو جھکنا پڑے گا۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر دو دن کے اندر اندر مسئلہ حل نہیں کیا گیا تو جدوجہد کو مزید تیز کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جب تک مسئلہ حل نہیں ہوتا، تلنگانہ جاگروتی ملازمین کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ان کی جماعت اقتدار میں آتی ہے تو آؤٹ سورسنگ اور کنٹراکٹ ملازمتوں کا نظام ختم کر دیا جائے گا اور براہ راست سرکاری نظام کے ذریعہ ملازمین کو تنخواہیں فراہم کی جائیں گی۔کویتا نے کہا کہ خواتین آؤٹ سورسنگ ملازمین کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، انہیں زچگی کی چھٹیوں جیسے بنیادی حقوق بھی فراہم نہیں کئے جا رہے ہیں جو ایک سنگین ناانصافی ہے۔انہوں نے دانشوروں کے کردار پر بھی سوال کیا اور کہا کہ بعض معروف شخصیات کی خاموشی آؤٹ سورسنگ ملازمین کے لئے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملازمین کی یہ جدوجہد ایک نئی تلنگانہ تحریک کی طرح محسوس ہو رہی ہے اور جب تک انصاف نہیں ملتا، اس جدوجہد کو جاری رکھا جائے گا۔










