Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*ہولی اور عید ملن پروگرام اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام دیتے ہیں، ضیاء الدین* *ادبی کینوس کا ماہانہ غیر طرحی مشاعرہ منعقد*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*ہولی اور عید ملن پروگرام اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام دیتے ہیں، ضیاء الدین*

*ادبی کینوس کا ماہانہ غیر طرحی مشاعرہ منعقد*

بارہ بنکی:(پریس ریلیز/ابوشحمہ انصاری) ادبی کینوس کے زیر اہتمام لکھپیڑا باغ میں واقع بزم ادبی کینوس کے صدر ضیاء الدین احمد ماڈرن شوز کی رہائش گاہ پر ہولی اور عید ملن کے عنوان سے ایک غیر طرحی مشاعرہ منعقد کیا گیا
مشاعرہ کی صدارت ضیاء الدین احمد نے کی مہمان خصوصی کی حیثیت سے معروف شاعر ایڈوکیٹ ہاشم علی ہاشم اور ایڈوکیٹ جابر موجود تھے ایڈوکیٹ شعور کامل نے بطور مہمان ذی وقار شرکت کی۔مشاعرہ کی نظامت بزم کے سکریٹری آدرش بارہ بنکوی نے انجام دی۔
پروگرام کے آغاز میں ضیاء الدین احمد نے کہا کہ ہولی اور عید ملن کے عنوان سے تقریبات کا انعقاد اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے انہوں نے کہا کہ طرحی نشستیں اردو سیکھنے اور سمجھنے والوں کے لیے درس گاہ کی حیثیت رکھتی ہیں جہاں غزل کے شائقین کو سیکھنے کا قیمتی موقع ملتا ہے۔
اس موقع پر شعرائے کرام نے اپنی بہترین غزلیں پیش کیں جنہیں سامعین نے خوب سراہا منتخب اشعار پیش ہیں۔
ترے جہاں میں قیام مدام کس کا ہے
چکھے نہ موت کی لذت وہ نام کا ہے
ہاشم علی ہاشم
کہتے یہی ہیں شہر کے سارے ادب نواز
جابر کو ایک شعر نے مشہور کر دیا
ایڈوکیٹ جابر
کئی چراغ بجھے کتنے ماہتاب مرے
مگر مجال کہ اردو کی آب و تاب مرے
ضمیر فیضی
بتاؤں کیسے کروں میں یکجا نظام ہستی بکھر چکا ہے
پرندہ فکر و نظر کا میری جنوں کی حد سے گزر چکا ہے
صغیر نوری
شوق سے وار کرو مجھ پہ دوبارہ لیکن
تم نے پہلے جو دیے زخم وہ بھر جانے دو
وقار بارہ بنکوی
جب تیرا ہر جھوٹا وعدہ دنیا کی نظر میں آئے گا
اپنے ماضی کی بھول پہ تب ہر اک انسان پچھتائے گا
ڈاکٹر فدا حسین
ہماری جان لے لے گی اجی یہ آپ کی شوخی
قریب آ کے ذرا سا مسکرانا پھر چلے جانا
ڈاکٹر ریحان علوی
بجھانے شمع کو اڑ کر چلے آتے ہیں پروانے
کبھی جلنے کی حسرت لے کے پروانہ نہیں آتا
کیفی ردولوی
منصف سے رو برو تھا مگر اس کے بعد بھی
دینا پڑا ثبوت کہ زندہ ہوں میں ابھی
آدرش بارہ بنکوی
جس کو پانے کے لیے رستہ چنا تھا خار کا
حال بھی پوچھا نہیں اس شخص نے بیمار کا
ارشاد بارہ بنکوی
ایک خواہش کو دفن کرنا تھا
پی کے آب حیات بیٹھی ہے
حصال باری قدوائی
مری تہذیب پر سارا زمانہ رشک کرتا ہے
یہی تہذیب ہے جس کو ستم ڈھانا نہیں آتا
نفیس احمد پوری
تنکوں کی جھوپڑی کو سجائے ہوئے ہیں ہم
برق تپا کو خوب جلائے ہوئے ہیں ہم
طفیل زید پوری
یہ دنیا ہے یہاں جو کچھ زباں پہ آئے کہہ لیجیے
مگر محشر میں خالی آپ کے اعمال بولیں گے
مجیب ردولوی
اس کے علاوہ ڈاکٹر خالد نے بھی اپنی غزل پیش کی۔اس موقع پر محمد رضوان ذیشان احمد عبدالستار وہاج الدین اور محمد شعیب قدوائی سمیت کثیر تعداد میں شائقین موجود تھے۔
مشاعرہ کے اختتام پر ادبی کینوس کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر ریحان علوی نے تمام شعرائے کرام اور سامعین کا شکریہ ادا کیا اور آئندہ طرحی مشاعرہ کے انعقاد کا اعلان کیا۔