Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*نندی گرام: احتجاج کی مٹی سے اقتدار کے سنگھاسن تک*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*نندی گرام: احتجاج کی مٹی سے اقتدار کے سنگھاسن تک*

محمد ہاشم القاسمی (خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال) موبائل 9933598528

​نندی گرام تحریک (2007-2008) مغربی بنگال کی سیاسی تاریخ کا وہ اہم موڑ تھا جس نے ریاست میں 34 سالہ کمیونسٹ اقتدار کی جڑیں ہلا کر رکھ دیں۔ اس وقت مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ بدھ دیو بھٹاچاریہ کی حکومت نے انڈونیشیا کے ‘سلیم گروپ’ کے لیے نندی گرام میں خصوصی اقتصادی زون (SEZ) بنانے اور کسانوں کی زمین لینے کا فیصلہ کیا، تو ممتا بنرجی نے اسے کسانوں کے حقوق پر حملہ قرار دیا۔ ان کا دیا ہوا نعرہ “ما، ماٹی، مانوش” (ماں، مٹی اور لوگ) اس تحریک کی روح بن گیا۔ ​ممتا بنرجی نے اس مقامی احتجاج کو قومی سطح پر سیاسی پہچان دی۔ انہوں نے نندی گرام کے دیہاتوں کا دورہ کیا، پولیس کی ناکہ بندیوں کو توڑا اور کسانوں کو اپنی زمین نہ چھوڑنے پر آمادہ کیا۔ 3. 14 مارچ 2007 کے دوران نندی گرام میں جب پولیس فائرنگ سے 14 کسان ہلاک ہوئے، تو ممتا بنرجی نے اسے ریاستی دہشت گردی قرار دے کر کولکتہ سے نندی گرام تک تحریک کو پھیلا دیا۔ انہوں نے سڑکوں پر احتجاج کیا، بھوک ہڑتالیں کیں اور دانشوروں، فنکاروں اور سول سوسائٹی کو اپنے ساتھ ملا کر بائیں بازو کی حکومت کو اخلاقی طور پر تنہا کر دیا۔ ممتا بنرجی نے اس تحریک کو صرف زمین بچانے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے “بنگال کی تبدیلی” (Parivartan) کی بنیاد بنا دیا۔ چنانچہ سنگور اور نندی گرام کے مشترکہ اثر نے دیہی بنگال کے کسانوں کو ترنمول کانگریس (TMC) کی طرف مائل کر دیا۔ اس تحریک کی کامیابی ہی تھی جس نے 2011 کے انتخابات میں ممتا بنرجی کی تاریخی جیت کی راہ ہموار کی۔ اس وقت شوبھیندو ادھیکاری، ممتا بنرجی کے سب سے قابلِ اعتماد سپہ سالار تھے۔ ممتا بنرجی پالیسی اور سیاسی چہرہ تھیں، جبکہ شوبھیندو ادھیکاری گراؤنڈ پر ان کی ہدایات پر عمل درآمد کروانے والے لیڈر تھے۔ آج کی سیاست میں یہ دونوں مد مقابل ہیں، لیکن نندی گرام تحریک کے دوران دونوں ایک ہی صف میں کھڑے تھے۔ ممتا بنرجی نے نندی گرام تحریک کے ذریعے خود کو ایک “باغی لیڈر” سے “عوامی نجات دہندہ” کے طور پر منوایا۔ اس تحریک نے ثابت کیا کہ وہ زمین اور کسانوں کے مسائل پر بڑی سے بڑی طاقت سے ٹکرا سکتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ نندی گرام آج بھی ان کی سیاست کا جذباتی مرکز مانا جاتا ہے۔​
نندی گرام ریاست مغربی بنگال کے ضلع پوربا مدنی پور میں واقع ہے۔ یہ خلیج بنگال کے قریب دریائے ہلدیا اور دریائے ہوگلی کے سنگم پر واقع ایک ساحلی علاقہ ہے۔شمال میں دریائے ہلدیا اسے ہلدیا شہر سے جدا کرتا ہے۔ مشرق میں دریائے ہوگلی بہتا ہے۔ جنوب میں کھیجوری کا علاقہ واقع ہے۔​نندی گرام کا زیادہ تر حصہ سطح سمندر سے بہت معمولی بلندی پر واقع ایک ہموار میدانی علاقہ ہے۔ یہ علاقہ گنگا کے ڈیلٹا کا حصہ ہے، اس لیے یہاں کی مٹی انتہائی زرخیز اور چکنی ہے۔ ساحلی پٹی ہونے کی وجہ سے یہاں کئی چھوٹے چھوٹے نالے اور کھالیں موجود ہیں جو آبپاشی اور نکاسی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ نندی گرام کی آب و ہوا مرطوب استوائی ہے۔ یہاں گرمیاں کافی شدید اور حبس والی ہوتی ہیں، جہاں درجہ حرارت 35 سے 40 ڈگری تک جاتا ہے۔ جون سے ستمبر تک یہاں بھاری بارش ہوتی ہیں، جو زراعت (خاص طور پر دھان کی فصل) کے لیے بہت مفید ہیں۔ سردیاں معتدل اور خوشگوار ہوتی ہیں، درجہ حرارت 10 سے 25 ڈگری کے درمیان رہتا ہے۔ خلیج بنگال سے قربت کی وجہ سے نندی گرام جغرافیائی طور پر سمندری طوفانوں (Cyclones) کی زد میں رہتا ہے۔ ‘امفان’ اور ‘یاس’ جیسے طوفانوں نے یہاں کے جغرافیہ اور زراعت کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ سمندر کا نمکین پانی اکثر سیلاب کے دوران کھیتوں میں داخل ہو جاتا ہے، جو زمین کی زرخیزی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ نندی گرام کی معیشت کا 80 فیصد سے زیادہ دارومدار زراعت پر ہے۔ دھان (Rice) یہاں کی سب سے بڑی فصل ہے۔ اس کے علاوہ پان کے باغات یہاں کی خاص پہچان ہیں، جو بڑے پیمانے پر آمدنی کا ذریعہ ہیں۔ دریاؤں اور سمندر سے قریب ہونے کی وجہ سے مچھلی پالنا اور ماہی گیری یہاں کا دوسرا بڑا پیشہ ہے۔ نندی گرام کی جغرافیائی اہمیت اس کے ہلدیا بندرگاہ (Haldia Port) سے قریب ہونے کی وجہ سے بھی ہے۔ یہی وہ جغرافیائی عنصر تھا جس کی وجہ سے حکومت یہاں “Special Economic Zone” (SEZ) بنانا چاہتی تھی، جس کے خلاف مشہور عوامی تحریک شروع ہوئی۔ نندی گرام دریاؤں، زرخیز زمین اور سمندری قربت کا ایک ایسا سنگم ہے جو اسے معاشی طور پر خود کفیل بناتا ہے، لیکن ساتھ ہی موسمیاتی تبدیلیوں اور طوفانوں کے حوالے سے حساس بھی رکھتا ہے۔ نندی گرام کا سیاسی دنگل اس مرتبہ (2026) انتہائی دلچسپ اور پیچیدہ رخ اختیار کر چکا ہے۔ اگر ہم موجودہ حالات اور سیاسی صف بندی کا جائزہ لیں تو ٹی ایم سی (TMC) کے لیے نندی گرام کی سیٹ واپس جیتنا ایک بڑا چیلنج بھی ہے اور ساکھ کا سوال بھی۔
نندی گرام کی سیاست میں شوبھیندو ادھیکاری کا اثر و رسوخ محض ایک لیڈر کا نہیں بلکہ ایک “مقامی زمیندار” جیسا رہا ہے۔ اور اس کے اثر کی بنیاد بھی 2007 کی اراضی حصول کے خلاف تحریک ہے۔ اس وقت انہوں نے ممتا بنرجی کے دستِ راست کے طور پر کام کیا اور گراؤنڈ پر تحریک کی قیادت کی۔ وہاں کے عوام آج بھی شوبھندو ادھیکاری کو اس تحریک کا ایک اہم چہرہ مانتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا ایک مضبوط جذباتی تعلق اور کیڈر بیس موجود ہے۔2021 کے اسمبلی انتخابات میں انہوں نے خود کو نندی گرام کا “بھومی پتر” اور ممتا بنرجی کو “باہری” قرار دیا تھا۔ ان کا خاندان (ادھیکاری فیملی) دہائیوں سے مشرقی مدنا پور کی سیاست پر حاوی رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کا نیٹ ورک بہت گہرا اور وسیع ہے۔​ان کے اثر کا سب سے بڑا ثبوت 2021 کا الیکشن ہے جہاں انہوں نے ایک انتہائی سخت مقابلے میں ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو شکست دی۔ اگرچہ جیت کا فرق بہت کم (1956 ووٹ) تھا، لیکن ترنمول کانگریس کی لہر کے باوجود اپنی سیٹ نکال لینا ان کی مضبوط گرفت کو ظاہر کرتا ہے۔ شوبھنا ادھیکاری بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد نندی گرام کے ہندو اکثریتی علاقوں میں اپنی جڑیں مزید مضبوط کیں۔ آج بھی نندی گرام میں بہت سے لوگ پارٹی سے زیادہ ادھیکاری خاندان کے وفادار ہیں، کیونکہ وہ مقامی لوگوں کے مسائل میں براہِ راست مداخلت کے لیے جانے جاتے ہیں۔ اگرچہ ان کا اثر ابھی بھی برقرار ہے، لیکن ترنمول کانگریس (TMC) نے ان کے قلعے میں دراڑ ڈالنے کے لیے بھرپور کوششیں شروع کر رکھی ہیں۔ کئی مقامی لیڈر جو پہلے ان کے وفادار تھے، اب دوبارہ TMC میں شامل ہو چکے ہیں، جس سے ان کے “ناقابل تسخیر” ہونے کے تاثر کو چیلنج ملا ہے۔ 2026 کے حالیہ اسمبلی انتخابات کے لیے ترنمول کانگریس (TMC) نے نندی گرام سیٹ سے اپنے امیدوار کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ ٹی ایم سی نے اس بار نندی گرام سے پوترو کار کو ٹکٹ دیا ہے۔ واضح رہے کہ پوترو کار پہلے بی جے پی (BJP) میں تھے اور شوبھیندو ادھیکاری کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ انہوں نے ٹکٹ کے اعلان سے کچھ ہی دیر پہلے باقاعدہ طور پر ترنمول کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ ٹی ایم سی نے ایک ایسے شخص کو میدان میں اتارا ہے جو شوبھیندو ادھیکاری کے کام کرنے کے طریقے اور وہاں کے مقامی انتخابی نیٹ ورک سے بخوبی واقف ہے۔ ابھی حال ہی میں (25 مارچ 2026 کو) ابھیشیک بنرجی نے نندی گرام میں ایک عوامی جلسہ بھی کیا ہے جس میں انہوں نے نندی گرام کی ذمہ داری خود لینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ سیاسی صورتحال
​اس بار نندی گرام کا مقابلہ دلچسپ ہے کیونکہ پوترو کار ٹی ایم سی کی طرف سے شوبھیندو ادھیکاری کو چیلنج کریں گے۔ ٹی ایم سی نے “گھر کے بھیدی” (پوترو کار) کو شوبھیندو ادھیکاری کے خلاف نندی گرام میں اتار ایک تیر سے کیا کئی نشانے سامنے کی کوشش کی ہے۔ بی جے پی میں شوبھیندو ادھیکاری کا قد محض ایک ایم ایل اے کا نہیں، بلکہ وہ ریاست میں پارٹی کے سب سے طاقتور چہرے بن کر ابھرے ہیں۔ ممتا بنرجی کو براہِ راست چیلنج کرنے اور اسمبلی کے اندر حکومت کو گھیرنے کی وجہ سے وہ مرکزی قیادت نریندر مودی اور امیت شاہ کے انتہائی قابلِ اعتماد بن چکے ہیں۔ ان کی جارحانہ سیاست نے انہیں بنگال میں بی جے پی کا “فرنٹ لائن واریر” بنا دیا ہے۔ شوبھیندو ادھیکاری کے پاس اپنا ایک ذاتی سیاسی نیٹ ورک ہے جو انہوں نے دہائیوں کی محنت سے بنایا ہے۔ ضلع اور اس کے گرد و نواح (جنگل محل بیلٹ) میں پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے پر ان کا گہرا اثر ہے۔ بہت سے نچلی سطح کے کارکنان بی جے پی سے زیادہ شوبھیندو کے وفادار مانے جاتے ہیں، جو الیکشن مینجمنٹ میں ان کا بڑا ہتھیار ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے ہندوتوا ایجنڈے کو مقامی بنگالی ثقافت اور “بھومی پتر” (دھرتی پتر) کے نعرے کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ وہ اکثر ’70 فیصد بمقابلہ 30 فیصد’ کی بات کرتے ہیں، جس سے وہ بی جے پی کے بنیادی ووٹروں میں بہت مقبول ہو چکے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ شوبھیندو ادھیکاری ان چند علاقائی لیڈروں میں سے ہیں جن کی رسائی براہِ راست دہلی تک ہے۔ امیت شاہ اور جے پی نڈا کی جانب سے انہیں اکثر اہم سیاسی فیصلوں میں شامل کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بنگال بی جے پی کے دیگر پرانے لیڈروں کے مقابلے میں ان کا پلڑا بھاری رہتا ہے۔ ایک طرف جہاں ان کا اثر بہت زیادہ ہے، وہیں پارٹی کے اندر کچھ پرانے لیڈروں کے ساتھ ان کے اختلافات کی خبریں بھی آتی رہتی ہیں۔ بی جے پی کے بعض پرانے کارکنان کا خیال ہے کہ “نئے آنے والوں” (TMC سے آئے ہوئے لیڈروں) کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے، لیکن اپنی انتخابی کارکردگی کی وجہ سے شوبھیندو فی الحال ناقابلِ تسخیر پوزیشن میں ہیں۔ نندی گرام میں تقریباً 30% سے 35% مسلم آبادی ہے، جبکہ باقی ہندو آبادی ہے۔ 2021 میں دیکھا گیا کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں ٹی ایم سی کو بھاری برتری ملی۔ وہیں ہندو اکثریتی علاقوں میں بی جے پی نے یکطرفہ ووٹ حاصل کیے۔ حالیہ الیکشن 2026 میں اصل چیلنج یہ ہوگا کہ کیا ٹی ایم سی ہندو ووٹوں میں دراڑ ڈال پائے گی یا بی جے پی اپنی گرفت برقرار رکھے گی؟
نندی گرام کے کسانوں کے لیے ‘پی ایم کسان سمان ندھی’ (مرکزی حکومت) اور ‘کرشک بندھو’ (ریاستی حکومت) کے درمیان موازنہ ایک بڑا انتخابی (مسئلہ) بنتا ہے۔ خواتین ووٹرز میں ممتا بنرجی کی مقبولیت کی بڑی وجہ لکھی بھنڈار اسکیم ہے، جو خاموش ووٹرز (Silent Voters) کا رخ بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ نندی گرام ایک ساحلی اور دیہی علاقہ ہے جہاں ہلدیا انڈسٹریل بیلٹ قریب ہونے کے باوجود مقامی نوجوانوں میں بے روزگاری ایک سنگین مسئلہ ہے۔ نوجوان ووٹرز (عمر 18-30) اس بار روزگار کے ٹھوس وعدوں پر ووٹ دے سکتے ہیں۔ نندی گرام اب صرف زمین بچانے کی جگہ نہیں رہی، بلکہ یہ وقار کی جنگ بن چکی ہے۔ 2026 کا معرکہ یہ طے کرے گا کہ بنگال کی سیاست ‘ترقی اور فلاح’ کے گرد گھومے گی یا ‘شناخت اور قطبیت’ کے گرد۔ نندی گرام کی مٹی ایک بار پھر اپنے نئے یا پرانے لیڈر کے انتخاب کا حتمی فیصلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ***