Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*سنگارینی کے تحفظ کے لئے ایک اور عوامی تحریک شروع کرنے کے عزم کا اظہار* *دفتر تلنگانہ جاگروتی میں “سیو سنگارینی” گول میز کانفرنس کا انعقاد۔ کلواکنٹلہ کویتا کا خطاب*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*سنگارینی کے تحفظ کے لئے ایک اور عوامی تحریک شروع کرنے کے عزم کا اظہار*

*دفتر تلنگانہ جاگروتی میں “سیو سنگارینی” گول میز کانفرنس کا انعقاد۔ کلواکنٹلہ کویتا کا خطاب*

صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے سنگارینی ادارے کے تحفظ کے لئے ایک بار پھر بھرپور عوامی تحریک شروع کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ بنجارہ ہلز میں واقع جاگروتی دفتر میں منعقدہ “سیو سنگارینی” راؤنڈ ٹیبل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے کانگریس حکومت اور نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرامارکا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت کو ورکرس کے روزگار پر نہیں بلکہ اپنی بدعنوانیوں پر تحقیقات کرنی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ سنگارینی کے محنت کش اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر کوئلہ نکالتے ہیں مگر موجودہ حکومت کو ان کی مشکلات اور قربانیوں کا کوئی احساس نہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس ادارے نے مشکل حالات میں ہزاروں خاندانوں کو سہارا دیا، آج اسی کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے۔کویتا نے واضح کیا کہ ماضی میں حکومتی پالیسی کے تحت تقریباً 20 ہزار افراد کو ڈیپینڈنٹ بنیادوں پر ملازمتیں فراہم کی گئیں جس سے ہزاروں خاندانوں کو تحفظ ملا مگر اب ان ہی تقررات پر تحقیقات کی بات کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے سوال کیاکہ جب یہ فیصلے سرکاری پالیسی کے تحت ہوئے تو اب ان پر سوال کیوں اٹھائے جا رہے ہیں۔انہوں نے حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمت ہے تو او بی کنٹریکٹس، ڈیزل اسکامس اور بدعنوان افسران اور لیڈروں کے خلاف تحقیقات کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ محنت کشوں پر تحقیقات مسلط کرنا قابل مذمت ہے جبکہ اصل بدعنوان عناصر کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔کویتا نے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (CAG) کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈیزل اسکام سے 250 کروڑ، قواعد کی خلاف ورزی سے 74 کروڑ، لیکیجز سے 24 کروڑ اور اضافی وصولیوں میں ناکامی سے 1078 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے اور ان تمام معاملات کی فوری تحقیقات ہونی چاہئیں۔انہوں نے الزام عائد کیاکہ حکومت کی نااہلی کے باعث سنگارینی کو شدید مالی نقصان ہو رہا ہے جبکہ مزدور اپنی محنت سے ادارے کو سنبھال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بقایہ جات کی عدم ادائیگی کے باعث مزدوروں کی تنخواہوں اور تحفظ پر بھی منفی اثر پڑ رہا ہے۔کویتا نے انکشاف کیا کہ کوئلہ اور بجلی کے بقایہ جات سمیت حکومت پر سنگارینی کے تقریباً 47 ہزار کروڑ روپئے واجب الادا ہیں، جنہیں فوری طور پر ادا کیا جانا چاہئے۔


انہوں نے راجستھان کے ساتھ 11 ہزار کروڑ کے سولار معاہدے اور ایک چھوٹی کمپنی کے ساتھ 2250 کروڑ کے لیتھیم ریفائنری معاہدے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ 2023 میں قائم ہونے والی ایک کمپنی، جس کی آمدنی صرف 27 لاکھ روپے ہے، اس کے ساتھ اتنا بڑا معاہدہ کرنا بدعنوانی کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان معاہدوں کے پس پردہ حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔کویتا نے کہا کہ سنگارینی جیسے خودمختار ادارے پر غیر ضروری حکومتی قوانین مسلط کرنا درست نہیں اور مزدوروں کو منافع میں حصہ دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ میڈیکل بورڈ کو پرانے طریقہ کار کے مطابق بحال کیا جائے، زیر التوا ویجلنس کیسز کو مکمل کیا جائے اور مزدوروں کو انکم ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے تاکہ انہیں مالی راحت مل سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ طبی جانچ میں کامیاب ہونے والے 350 امیدواروں کو فوری ملازمت دی جائے، مخلوعہ کلرک کے عہدوں کو پر کیا جائے اور مزدوروں کے صحت کے معاملات میں سی جی ایچ ایس ریٹس کا اطلاق کیا جائے۔کویتا نے دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر سنگارینی کے ساتھ ناانصافی جاری رہی تو ایک نئی تحریک شروع کی جائے گی جو تلنگانہ تحریک کی طرز پر ہوگی۔ انہوں نے ایچ ایم ایس کی جانب سے چلائی جانے والی تحریک کی مکمل حمایت کا بھی اعلان کیا۔