*ٹرمپ انتظامیہ کی داخلی کشمکش اور مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے حالات*
*(واشنگٹن کے بند کمروں میں لڑا جانے والا مشرقِ وسطیٰ کا معرکہ)*
بقلم: *اسماء جبین فلک*
حالیہ مشرقِ وسطیٰ جنگ نے صرف ایران، اسرائیل، خلیج اور امریکہ کے تعلقات کو نہیں جھنجھوڑا، بلکہ اس نے خود ٹرمپ انتظامیہ کے اندر موجود فکری، سیاسی اور حکمتِ عملی کے تضادات کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ اس لیے اس جنگ کو صرف بیرونی محاذ کی جنگ سمجھنا کافی نہیں، کیونکہ اس کا ایک اہم محاذ خود واشنگٹن کے اندر بھی قائم ہو چکا ہے، جہاں جنگ کے مقصد، اس کی مدت، اس کے انجام اور اس کی قیمت پر ایک واضح یکسوئی دکھائی نہیں دیتی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عنوان ٹرمپ کی ٹیم میں پھوٹ: جنگ کے نتائج بدلتے ہوئے اپنی پوری معنویت کے ساتھ سامنے آتا ہے، کیونکہ جب قیادت کے اندر وحدت کمزور پڑتی ہے تو جنگ میدان میں نہیں، پہلے ذہن اور فیصلے میں ہارنے لگتی ہے۔
اس تحریر کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ٹرمپ کی ٹیم میں پیدا ہونے والی دراڑیں کسی ذاتی ناراضی یا وقتی سیاسی اختلاف کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس گہرے بحران کی علامت ہیں جو اس وقت جنم لیتا ہے جب جنگ شروع تو کر دی جائے مگر اس کے سیاسی مقصد پر مکمل اتفاق نہ ہو۔ ایک طرف سخت عسکری دباؤ، زیادہ شدت، اور فیصلہ کن کارروائی کی زبان اختیار کی گئی، اور دوسری طرف جنگ کے اختتام، ممکنہ معاہدے، اور جلد کامیابی کے اشارے بھی دیے گئے۔ اس طرح کے متضاد پیغامات نے نہ صرف مخالف فریق کو اپنی حکمتِ عملی کے لیے وقت دیا بلکہ امریکی اتحادیوں اور خود ٹرمپ کے اندرونی حلقے میں بھی یہ سوال پیدا کیا کہ آیا جنگ کا اصل مقصد واقعی واضح ہے یا نہیں۔
ٹرمپ کی ٹیم کے اندر سب سے بڑی پھوٹ دراصل جنگ کو سمجھنے کے انداز میں ہے۔ کچھ حلقے غالباً اس جنگ کو طاقت کے ایک تیز مظاہرے کے طور پر دیکھتے ہیں، یعنی ایسا دباؤ جس سے ایران جلد جھک جائے، آبی راستے کھل جائیں، اتحادی مطمئن رہیں اور امریکہ سیاسی فتح کا اعلان کر دے۔ لیکن دوسری طرف خود جنگ کے بڑھتے ہوئے آثار نے یہ واضح کر دیا کہ ایران فوری طور پر ٹوٹنے والا فریق نہیں، اور اس نے آبنائے ہرمز، علاقائی دباؤ اور نفسیاتی مزاحمت کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ وہ جنگ کو طول دے کر نتائج بدل سکتا ہے۔ جب کسی جنگ کے بارے میں ایک حلقہ فوری فتح کا تصور رکھتا ہو اور دوسرا حلقہ اس کے طویل اور خطرناک ہونے کا اندیشہ محسوس کرتا ہو، تو ایسی قیادت اندر سے منقسم ہو جاتی ہے۔
یہی داخلی تقسیم جنگ کے نتائج بدلنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں، بلکہ واضح مقصد، متحد قیادت اور مربوط پیغام سے جیتی جاتی ہے۔ اگر سیاسی قیادت ایک روز جنگ کو فیصلہ کن موڑ پر بتائے اور دوسرے روز اس کے انجام کے بارے میں مبہم زبان استعمال کرے، تو اس کا سب سے پہلا نقصان اعتماد کو ہوتا ہے۔ اعتماد کمزور ہو تو اتحادی اپنی راہیں الگ سوچنے لگتے ہیں، مارکیٹیں خوف میں مبتلا ہو جاتی ہیں، اور مخالف فریق کو یہ یقین ہونے لگتا ہے کہ وقت اس کے حق میں کام کر سکتا ہے۔ اسی طرح جنگ کے نتائج بتدریج میدان سے زیادہ نفسیاتی اور سیاسی سطح پر بدلنے لگتے ہیں۔
حالیہ جنگ میں یہی ہوا کہ جس مہم کا مقصد ایران کو دبانا تھا، اسی کے بارے میں معتبر تجزیات میں یہ بات ابھر کر سامنے آئی کہ اگر جنگ واضح سیاسی بندوبست کے بغیر ختم ہوئی تو تہران پہلے سے زیادہ مضبوط نفسیاتی اور دفاعی حیثیت کے ساتھ ابھر سکتا ہے۔ اس نکتے کی اصل اہمیت یہ ہے کہ اگر مخالف فریق مکمل طور پر نہ ٹوٹے، اور اس کے باوجود جنگ کرنے والا فریق اپنے اندر تقسیم، تھکن اور ابہام کا شکار ہو جائے، تو نتیجہ طاقت کے حساب سے نہیں بلکہ برداشت اور تسلسل کے حساب سے نکلتا ہے۔ اس صورت میں ٹرمپ کی ٹیم کے اندر اختلاف رائے محض اندرونی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ وہ براہِ راست جنگی نتیجے کا حصہ بن جاتا ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ٹرمپ کی ٹیم میں پھوٹ کے کم از کم تین نمایاں پہلو ہیں۔ پہلا پہلو جنگ کے مقصد پر اختلاف ہے۔ کیا یہ جنگ ایران کو معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے ہے، اس کی علاقائی طاقت توڑنے کے لیے ہے، آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے ہے، یا صرف طاقت کا نمایشی استعمال ہے؟ جب ایک ہی جنگ کے بارے میں کئی متوازی مقاصد سامنے آئیں تو فیصلہ سازی بکھر جاتی ہے۔ دوسرا پہلو جنگ کے دورانیے سے متعلق ہے۔ کیا یہ مختصر کارروائی ہے یا طویل تصادم؟ اگر قیادت اس سوال پر ایک رائے نہ رکھتی ہو تو فوجی، سفارتی اور معاشی محاذ ایک دوسرے سے کٹنے لگتے ہیں۔ تیسرا پہلو جنگ کے انجام سے متعلق ہے۔ اگر اتحادی خود متبادل منصوبہ بنانے لگیں تو اس کا مطلب ہے کہ خود امریکی قیادت کے قریب ترین حلقوں کو بھی انجام پر پورا یقین نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ حالیہ مشرقِ وسطیٰ جنگ میں ٹرمپ کی ٹیم کی پھوٹ صرف واشنگٹن کے اندر کی سیاست نہیں، بلکہ ایک فعال دفاعی کمزوری ہے۔ جارج ٹاؤن کے تجزیے کے مطابق ٹرمپ کی دوسری انتظامیہ کے آغاز ہی سے سول ملٹری تعلقات حساس نوعیت اختیار کر چکے تھے، اور اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سیاسی مرکز اور عسکری ادارے کے درمیان پہلے ہی مکمل سکون موجود نہیں تھا۔ جب اسی پس منظر میں ایک وسیع علاقائی جنگ ابھرے، تو اندرونی تناؤ اور زیادہ کھل کر سامنے آنا فطری ہے۔ اگر جنگ کے دوران یہ سوال پیدا ہو جائے کہ سیاسی قیادت حقیقت پسندانہ انجام چاہتی ہے یا محض فتح کا بیانیہ، تو ٹیم کے اندر دراڑیں گہری ہو جاتی ہیں۔
حالیہ جنگ میں آبنائے ہرمز کا مسئلہ بھی اسی پھوٹ کو نمایاں کرتا ہے۔ اگر صدر سخت موقف اپنائیں مگر اتحادی متبادل انتظامات سوچنے لگیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سب فریق ایک ہی جنگ کو ایک ہی زاویے سے نہیں دیکھ رہے۔ کوئی اسے طاقت کے امتحان کے طور پر دیکھ رہا ہے، کوئی معاشی خطرے کے طور پر، کوئی بحری سلامتی کے مسئلے کے طور پر، اور کوئی داخلی سیاسی بوجھ کے طور پر۔ جب ایک ہی جنگ کی چار تعبیریں ہوں تو ایک ہی ٹیم کے اندر بھی چار مختلف ذہنی محاذ پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہی پھوٹ ہے، اور یہی پھوٹ نتائج کو بدلتی ہے۔
اس تحریر کا مرکزی استدلال یہ ہے کہ ٹرمپ کی ٹیم میں اختلاف اس لیے خطرناک ہے کہ یہ جنگ کے اخلاقی، سیاسی اور دفاعی جواز کو ایک ساتھ کمزور کرتا ہے۔ اگر ٹیم متحد ہو تو وہ نقصان کے باوجود ایک واضح راستہ اختیار کر سکتی ہے، لیکن اگر ٹیم منقسم ہو تو ہر نقصان ایک بڑے سوال میں بدل جاتا ہے کہ یہ سب ہو کیوں رہا ہے، کب تک چلے گا، اور آخر اس سے حاصل کیا ہوگا؟ جب یہ سوالات اندر سے اٹھنے لگیں تو جنگ کا مرکز دشمن کے مورچوں سے ہٹ کر اپنی قیادت کی میز پر آ جاتا ہے۔ یہی وہ حالت ہے جس میں جنگ کے نتائج بدلنے لگتے ہیں، کیونکہ مخالف فریق آپ کی فوجی طاقت سے پہلے آپ کی سیاسی تھکن اور ذہنی تقسیم کو پڑھ لیتا ہے۔
حالیہ مشرقِ وسطیٰ جنگ نے یہ سبق دیا ہے کہ اگر قیادت متحد نہ ہو تو ابتدائی حملے بھی فیصلہ کن نہیں رہتے۔ الجزیرہ کے تجزیے میں بھی یہ نکتہ نمایاں ہوا کہ ابتدائی دو ہفتوں میں وہ تیز اور فیصلہ کن نتیجہ سامنے نہیں آیا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ جنگ ایک طویل شکل اختیار کر سکتی ہے، اور طویل جنگ ہمیشہ اس فریق کو زیادہ نقصان پہنچاتی ہے جس کی سیاسی قیادت اندر سے منقسم ہو۔ لہٰذا ٹرمپ کی ٹیم کی پھوٹ کسی ثانوی خبر کا عنوان نہیں، بلکہ خود اس جنگ کے بدلتے ہوئے نتائج کا مرکزی سبب ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ جنگ باہر ضرور لڑی جا رہی ہے، مگر اس کے نتائج اندر طے ہو رہے ہیں۔ اگر ٹرمپ کی ٹیم مقصد، پیغام، دورانیہ اور انجام ان چار بنیادی سوالوں پر متحد نہیں، تو پھر عسکری برتری بھی سیاسی کامیابی میں تبدیل نہیں ہو سکے گی۔ حالیہ مشرقِ وسطیٰ جنگ نے اسی حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ داخلی پھوٹ، بیرونی محاذ سے زیادہ مہنگی پڑتی ہے، کیونکہ یہ دشمن کو حوصلہ، اتحادیوں کو شک، اور اپنی ریاست کو تذبذب دیتی ہے۔ اسی لیے ٹرمپ کی ٹیم میں پھوٹ: جنگ کے نتائج بدلتے ہوئے کوئی مبالغہ نہیں، بلکہ اس پورے بحران کا عین خلاصہ ہے۔








