*غزل*
ہوگۓ اپنے بھی جب بیگانہ تیرے شہر میں
کون سنتا درد کا افسانہ تیرے شہر میں
پھرتے ہیں ظالم یہاں قانون ہاتھوں میں لۓ
کیا یہی ہے امن کاپیمانہ تیرے شہر میں
ہر طرف مکرو ریا ،محرومیاں ،مایوسیاں
منہ چھپاتا ہے یہاں آءینہ تیرے شہر میں
ہو کے عاجز ایک دن مفتی نے فتوی دے دیا
“کفر ہے پتھراؤ سے ٹکرانا تیرے شہر میں ”
گھر تو روشن کرلیا تو نے انا کے واسطے
مرگیا جل کر مگر پروانہ تیرے شہر میں
میں اسیر رنج و غم ہوں پھر بھی ہوتا ہے گماں
کون ہے میرے سوا فرزانہ تیرے شہر میں
تو رہی خاموش نازاں تجھ کو کرسی تھی عزیز
آدمی بکتے رہے روزانہ تیرے شہر میں
*ڈاکٹر شمع ناسمین نازاں*
پٹنہ، بہار، بھارت
Post Views: 34










