*رانچی یونیورسٹی میں”ہندوستانی تمدن و تہذیب اور اردو ادب“ پر قومی سیمینار کا انعقاد*
*ماہرین کا خطاب: اردو ادب ہندوستانی مشترکہ ثقافت، قومی یکجہتی اور گنگا جمنی تہذیب کا مؤثر ترجمان*

رانچی، 7 مارچ 2026:رانچی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں آج “ہندوستانی تمدن و تہذیب اور اردو ادب” کے موضوع پر ایک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کا آغاز روایتی انداز میں چراغ روشن کرنے اور تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا۔ قومی سیمینار کے کنوینر ڈاکٹر اعجاز احمد نے مہمانوں کا پُرخلوص استقبال کرتے ہوئے بتایا کہ اس سیمینار میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر محمد علی جوہر، بنارس ہندو یونیورسٹی کے صدر شعبۂ اردو پروفیسر آفتاب احمد افاقی اور پٹنہ یونیورسٹی کے پروفیسر شہاب ظفر اعظمی بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔سیمینار کے صدر نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں اردو ادب اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کے باہمی تعلق کو اجاگر کرنا اس سیمینار کا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی قومی ہم آہنگی اور یکجہتی کو فروغ دینے میں اردو ادب نے نمایاں کردار ادا کیا ہے اور اردو شاعری و نثر میں مختلف قوموں، تہذیبوں، مذاہب، میلوں، ٹھیلوں اور تہواروں کا بھرپور ذکر ملتا ہے۔کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے بنارس ہندو یونیورسٹی کے پروفیسر آفتاب احمد افاقی نے کہا کہ اردو ہندوستانی تہذیب و تمدن اور گنگا جمنی تہذیب کی بہترین ترجمان ہے۔ انہوں نے اردو ادب کی مختلف اصناف میں ہندوستانی تہواروں، ثقافتی روایات اور مختلف مذاہب کے کرداروں کی عکاسی کو نہایت خوش اسلوبی سے بیان کیا۔ اور کہا کہ ہندوستان کے مختلف مذہبی کرداروں کا ذکر اور اساطیروں کا ذکر اردو شعات میں خوب ہوا ہےمہمانِ خصوصی پروفیسر محمد علی جوہر (علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے کہا کہ اردو مثنوی، قصیدہ، غزل اور اردو گیتوں میں ہندوستانی تہذیب کی بھرپور جھلک ملتی ہے، جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اردو خالص ہندوستانی زبان ہے جس کی پرورش اسی سرزمین پر ہوئی ہے۔ پٹنہ یونیورسٹی کے پروفیسر شہاب ظفر اعظمی نے اپنے مقالے میں کہا کہ ہندوستان کی کثیر جہتی تہذیب و ثقافت کا جامع بیان اردو شعر و ادب میں موجود ہے۔اس موقع پر رانچی یونیورسٹی کی فیکلٹی آف ہیومینٹیز کی ڈین ڈاکٹر ارچنا دوبے نے سنسکرت ادب کے اسالیب کو سنوارنے میں مسلمانوں کی خدمات پر روشنی ڈالی، جبکہ آئی کیو اے سی سیل کے ڈائریکٹر اے۔ کے۔ ڈیلٹا نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔سیمینار کے پہلے اجلاس کی نظامت شمس الحق اور تبسم خان نے انجام دی۔ اس موقع پر پروفیسر اسلم ارشد، پروفیسر جمشید قمر، غالب نشتر، پروفیسر عبد الواسع،ذکی اللہ مصباحی، پروفیسر ڈاکٹرمحمدحیدر علی، پروفیسر بھرت ٹھاکر، ڈاکٹر کرشنا گپتا، باسدیو پرساد سمیت مختلف شعبہ جات کے صدور اور اساتذہ کی بڑی تعداد موجود تھے ۔سیمینار میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ اردو زبان جس خطے میں پہنچی وہاں مقامی تہذیبی رنگوں کے ساتھ پروان چڑھی اور اسے مختلف ناموں جیسے ہندوی، دکنی، لشکری، گجری اور اردوئے معلیٰ سے بھی یاد کیا گیا۔ یہ سیمینار قومی یکجہتی اور گنگا جمنی تہذیب کی مؤثر ترجمانی کا ایک اہم علمی اقدام ثابت ہوا۔دوسرے سیشن کے اختتامیہ کے طور پر ڈاکٹر محمد حیدرعلی، جے این کالج،دھروا رانچی نے تمام شرکاے سیمینار، مہمانان، رسرچ اسکالرز اور دیگر حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔










