Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*جی ایچ ایم سی اور ایچ ایم ڈی اے میں بڑے پیمانے پر بدعنوانیاں*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*جی ایچ ایم سی اور ایچ ایم ڈی اے میں بڑے پیمانے پر بدعنوانیاں*

*چیف منسٹر ریونت ریڈی  راست ذمہ دار۔ ٹنڈر نظام کے دوبارہ نفاذ کا مطالبہ*

*کانگریس حکومت میں حیدرآباد شہر کی بنیادی ترقی نظر انداز۔ صدر تلنگانہ جاگروتی کے کویتا کی پریس کانفرنس*

صدر تلنگانہ جاگروتی  کلواکنٹلہ کویتا نے الزام عائد کیا ہے کہ جی ایچ ایم سی اور ایچ ایم ڈی اے میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہو رہی ہے اور اس کے لئے براہ راست وزیراعلیٰ ذمہ دار ہیں۔ بنجارہ ہلز میں واقع جاگروتی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نےکہا کہ وزیراعلیٰ اپنے قریبی افراد کو نامینیشن کے طریقے سے ٹھیکے دے رہے ہیں جو کہ مالیاتی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔کویتا نے کہا کہ جی ایچ ایم سی کے قیام کے بعد اگرچہ کچھ مثبت تبدیلیاں آئیں مگر آج بھی معمولی بارش کے دوران شہر کی حالت ابتر ہو جاتی ہے ۔ جگہ جگہ پانی جمع ہو جانے کے باعث ٹریفک نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد کی ترقی کے نام پر ایچ ایم ڈی اے کے دائرہ کار میں 35 ہزار کروڑ روپئے مالیت کے فلیٹس فروخت کئے گئےمگر ان وسائل کو شہر کی ترقی پر خرچ نہیں کیا گیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بڑے پیمانے پر کنٹراکٹس بغیر ٹنڈر کے نامینیشن کے ذریعہ دیئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس حکومت کے دور میں 2017 سے 480 کروڑ روپئے کے کنٹراکٹس اس طریقے سے دیئے گئے جبکہ موجودہ کانگریس حکومت نے بھی اسی روایت کو جاری رکھتے ہوئے 1148 کروڑ روپئے کے کام نامینیشن کے ذریعہ الاٹ کئے ہیں جس میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہوئی ہے۔
کویتا نے کہا کہ ریاستی مالیاتی ضابطوں کے مطابق 50 کروڑ سے زائد کے کاموں کے لئے ٹنڈر لازمی ہے مگر اس اصول کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر نامینیشن کے طریقہ کار کو ختم کر کے شفاف ٹنڈر نظام نافذ کیا جائے تاکہ عوامی خزانے کا تحفظ ممکن ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکموں میں ہزاروں ملازمین کو مناسب تنخواہیں نہیں دی جا رہی ہیں اور ان کے حقوق سلب کئے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے نرسری ڈپارٹمنٹ اور آؤٹر رنگ روڈ سے متعلق بدعنوانیوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان معاملات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے۔کویتا نے الزام عائد کیا کہ ریئل اسٹیٹ کاروباریوں کو “حیدرا” کے نام پر ہراساں کر کے فی مربع فٹ 150 روپئے وصول کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ سلسلہ بند نہ کیا گیا تو وہ اس بدعنوانی کے تمام ثبوت انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو فراہم کریں گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت مستقبل کے منصوبوں کے نام پر بدعنوانی کو مزید فروغ دینا چاہتی ہے جبکہ حیدرآباد شہر کی بنیادی ترقی کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پہلے شہر کے موجودہ مسائل حل کئے جائیں اور عوامی مفادات کو ترجیح دی جائے۔کویتا نے خواتین ریزرویشن بل پر بھی مرکز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 2011 کی مردم شماری کو بنیاد بنا کر ریزرویشن دینا ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2027 کی مردم شماری کے بعد ہی ریزرویشن نافذ ہونا چاہئے تاکہ خواتین، خصوصاً او بی سی طبقات کو مناسب نمائندگی مل سکے۔انہوں نے کہا کہ جاگروتی پارٹی کے قیام کے لئے 21 کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، جن میں ہر کمیٹی میں 30 اراکین اور 500 نمائندے شامل ہوں گے تاکہ پروگرام کو منظم انداز میں منعقد کیا جا سکے۔کویتا نے نظام آباد کے رکن پارلیمنٹ اروند کے بیانات پر بھی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ غیر سنجیدہ بیانات دے رہے ہیں اور اگر اس طرح کی زبان جاری رہی تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔آخر میں انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے تلنگانہ کے عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا اور کا لیشورم پروجیکٹ کی مرمت کے نام پر بھی کمیشن حاصل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس پروجیکٹ کو ناکام ثابت کرنے کے لئے لاکھوں ایکڑ اراضی کو خشک چھوڑ دیا گیاجو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔