*ایران دنیا کا چوتھا سپر پاور: مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری*
ازقلم:
*ڈاکٹر محمد عظیم الدین*
وہ اخبار جس نے کبھی ایران کو “بدمعاش ریاست” (Rogue State) لکھا تھا، آج اسے دنیا کی چوتھی سپر پاور قرار دے رہا ہے اور یہ اعتراف کسی جذباتی لمحے میں نہیں بلکہ ٹھوس تزویراتی تجزیے کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ اپریل 2026ء میں دی نیویارک ٹائمز نے شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ پیپ کا مضمون شائع کیا جس کا عنوان تھا: “یہ جنگ ایران کو ایک بڑی عالمی طاقت میں بدل رہی ہے” (The War Is Turning Iran Into a Major World Power)۔ پروفیسر پیپ نے ڈیموکریسی ناؤ کو دیے گئے انٹرویو میں صراحت سے کہا کہ ایران محض چالیس دن پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور ہو چکا ہے، یہ دنیا کے بیس فیصد تیل پر کنٹرول رکھتا ہے اور یہ ایک ابھرتا ہوا چوتھا مرکزِ قوت (Fourth Pole of Power) ہے۔ ایک طرف امریکہ ہے اور دوسری طرف چین، روس اور اب ایران۔ یہ الفاظ کسی ایرانی ریاستی میڈیا کے نہیں بلکہ ایک امریکی یونیورسٹی کے پروفیسر کا سرد اور حقیقت پسندانہ اعتراف ہیں جن کا وزن اسی لیے دوچند ہے۔
اس تجزیے کو سمجھنے کے لیے ایک نظریاتی بنیاد ضروری ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں “جارحانہ حقیقت پسندی” (Offensive Realism) کے علمبردار جان میئرشیمر کا کہنا ہے کہ عالمی نظام میں کوئی بھی ملک مستقل بالادستی برقرار نہیں رکھ سکتا کیونکہ طاقت کا توازن ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق جب کوئی ریاست اپنی جغرافیائی حیثیت، وسائل پر کنٹرول اور علاقائی اتحاد کو ہم آہنگ کر لیتی ہے تو وہ ایک ایسی تزویراتی برتری (Strategic Leverage) حاصل کر لیتی ہے جو محض فوجی بجٹ یا اقتصادی حجم سے کہیں زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ ابنِ خلدون نے اپنے شاہکار “مقدمہ” میں اسی حقیقت کو “عصبیت” کے تصور میں بیان کیا تھا یعنی وہ قومیں جو مشترکہ مقصد اور داخلی یکجہتی رکھتی ہیں، ایک دن وہ طاقتیں بھی تسخیر کر لیتی ہیں جو ظاہری اعتبار سے کہیں زیادہ قوی ہوتی ہیں۔ ایران کی موجودہ حیثیت ان دونوں نظریوں کا عملی ثبوت ہے۔ میئرشیمر کی جغرافیائی تزویراتی حقیقت پسندی اور ابنِ خلدون کی داخلی یکجہتی، دونوں ایران میں یکجا نظر آتی ہیں اور یہی اس کے عروج کا اصل راز ہے۔
اس پوری بحث کا مرکزی نکتہ آبنائے ہرمز ہے۔ یہ خلیجِ فارس اور بحیرۂ عرب کو ملانے والی صرف اکتیس میل چوڑی سمندری گزرگاہ ہے لیکن امریکی توانائی اطلاعاتی ادارے (U.S. Energy Information Administration) کے مطابق 2023ء میں روزانہ اوسطاً اکیس ملین بیرل خام تیل اسی راستے سے گزرا جو دنیا کی مجموعی تیل فراہمی کا بیس فیصد ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا، بھارت اور یورپ کی صنعتی معیشتیں اس گزرگاہ کی سلامتی پر منحصر ہیں۔ ایران کی ساحلی پٹی اس آبنائے کے شمالی کنارے پر پھیلی ہوئی ہے اور جزیرۂ قشم اس گزرگاہ کے عین وسط میں واقع ہے۔ کوئی بھی فوجی تجزیہ کار یہ تسلیم کرتا ہے کہ ایران کے پاس اس آبنائے کو عارضی طور پر بند کرنے کی عملی صلاحیت موجود ہے اور یہ صلاحیت ہی اس کی سب سے بڑی تزویراتی طاقت ہے۔ جب مذاکرات کی میز پر یہ اختیار موجود ہو تو فوجی بجٹ کا حجم ثانوی اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
امریکہ کی “انتہائی دباؤ” پالیسی جو 2018ء میں صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں متعارف کرائی گئی، اس مفروضے پر قائم تھی کہ اقتصادی پابندیاں ایران کو اپنے ایٹمی پروگرام اور علاقائی اثرورسوخ سے دستبردار ہونے پر مجبور کریں گی۔ لیکن نتیجہ بالکل الٹا نکلا۔ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کے اعداد و شمار کے مطابق ایران نے پابندیوں کے باوجود اپنی مقامی دفاعی صنعت کو مستحکم کیا، خصوصاً ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبے میں نمایاں ترقی حاصل کی۔ ایران کا شاہد 136 ڈرون جسے “چکراتا گولہ بارود” (Loitering Munition) بھی کہا جاتا ہے، یوکرین کی جنگ میں بھی اپنی تباہ کن صلاحیت ثابت کر چکا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں اس نے مغربی دفاعی نظاموں کے لیے سنگین چیلنج کھڑا کیا ہے۔ یہ وہی مظہر ہے جسے بین الاقوامی تعلقات میں “پرچم تلے متحد ہونے کا اثر” (Rally Around the Flag Effect) کہتے ہیں یعنی بیرونی دباؤ داخلی یکجہتی کو توڑنے کے بجائے اسے مزید مضبوط کر دیتا ہے۔
تاریخ میں اس کی نظیریں موجود ہیں۔ ویتنام نے 1975ء میں امریکہ کو اس وقت شکست دی جب اس کا فوجی بجٹ امریکہ کے مقابلے میں ناقابلِ ذکر تھا۔ کیوبا نے پچاس سال سے زائد عرصے تک امریکی اقتصادی ناکہ بندی برداشت کی لیکن اپنی سیاسی خودمختاری سے دستبردار نہیں ہوا۔ 1979ء کے انقلاب کے بعد سے ایران نے بھی مسلسل بیرونی دباؤ کا سامنا کیا یعنی ایران عراق جنگ (1980ء تا 1988ء)، اقتصادی پابندیاں، سائبر حملے جن میں اسٹکس نیٹ (Stuxnet) نمایاں ہے، اور سائنسدانوں کے قتل۔ لیکن ہر بار اس نے نہ صرف بقا برقرار رکھی بلکہ نئی صلاحیتیں پیدا کیں۔ یہ تینوں تاریخی مثالیں ایک ہی سبق دیتی ہیں: جب کوئی قوم اپنے مقصد میں سچی ہو تو بیرونی دباؤ اسے ختم نہیں کرتا، پختہ کرتا ہے۔
بعض مغربی تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ ایران کو سپر پاور کہنا مبالغہ آرائی ہے۔ ان کے مطابق ایران کا مجموعی قومی پیداوار (GDP) 2024ء میں تقریباً چار سو ارب ڈالر تھا جو چین کے اٹھارہ ٹریلین اور امریکہ کے ستائیس ٹریلین ڈالر کے سامنے انتہائی محدود ہے۔ افراطِ زر کی شرح چالیس فیصد سے زائد رہی ہے، نوجوانوں میں بے روزگاری بلند ہے اور ملکی کرنسی ریال بین الاقوامی مالیاتی نظام سے عملاً کٹی ہوئی ہے۔ یہ دلائل اپنی جگہ وزنی ہیں اور انھیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم پروفیسر پیپ کا جواب یہ ہے کہ سپر پاور کا تعین صرف مجموعی قومی پیداوار سے نہیں بلکہ اس صلاحیت سے ہوتا ہے کہ کوئی ملک عالمی نظام کو کس حد تک اپنی مرضی سے متاثر کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز پر گرفت، علاقائی اتحادیوں کا جال جس میں حزب اللہ، حوثی اور حشدالشعبی شامل ہیں، اور ڈرون ٹیکنالوجی میں مہارت، یہ تین عوامل مل کر ایران کو وہ “حقِ استرداد” (Veto Power) دیتے ہیں جو عالمی سیاست میں حقیقی اثرورسوخ کی اصل علامت ہے۔
کثیرالقطبی نظام کے اس نئے منظرنامے میں روس اور چین کا کردار بھی اہم ہے۔ روس توانائی کی بلند قیمتوں سے اپنی آمدنی بڑھا رہا ہے اور چین ایران سے رعایتی نرخوں پر تیل حاصل کر رہا ہے۔ یہ تینوں مل کر بغیر کسی تحریری معاہدے کے ایک فطری تزویراتی محور تشکیل دے رہے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کی باقاعدہ رکنیت جو 2023ء میں حاصل ہوئی، اس محور کو ادارہ جاتی شکل دے چکی ہے۔ الجزیرہ کے سینئر تجزیہ کار مارون بشارا نے مارچ 2026ء میں لکھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات نے ایران کو وہ تزویراتی مقام دے دیا ہے جس کے لیے وہ عشروں سے کوشاں تھا یعنی ایک ایسی طاقت جس کے بغیر علاقائی امن و استحکام ممکن نہیں۔
البتہ ایک سنجیدہ سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایران یہ تزویراتی برتری طویل مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے؟ ایران کی اندرونی اقتصادی کمزوریاں، نوجوان نسل کی اصلاح پسند خواہشات اور بین الاقوامی تنہائی وہ عوامل ہیں جو اس عروج کو محدود کر سکتے ہیں۔ اگر ایران اپنی داخلی معیشت کو مستحکم کرنے میں ناکام رہا تو بیرونی تزویراتی طاقت بھی بالآخر کھوکھلی ثابت ہوگی۔ یہ وہ “ایڑی آشیل” (Achilles Heel) ہے جسے ایران کے حکمرانوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ قوتیں جنھوں نے بیرونی فتوحات کے ساتھ ساتھ اندرونی اصلاح کو نظرانداز کیا، ان کا عروج زیادہ دیر قائم نہ رہا۔
سپر پاور کی روایتی تعریف اب ناکافی ہو چکی ہے۔ اکیسویں صدی کی طاقت کا پیمانہ صرف فوجی بجٹ یا مجموعی قومی پیداوار نہیں بلکہ یہ ہے کہ کوئی ملک عالمی فیصلوں کو کس حد تک اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکتا ہے۔ دی نیویارک ٹائمز کی یہ رپورٹ اس لیے تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ جب مغرب کی سب سے معتبر صحافتی آواز کسی ملک کے بارے میں اپنا موقف بدلے تو یہ محض ایک رائے نہیں بلکہ ایک عہد کے اختتام اور نئے عہد کے آغاز کا اعلان ہوتا ہے۔ عالمی نظام کا نیا نقشہ واشنگٹن کی مرضی سے نہیں بلکہ تہران کی حکمتِ عملی، ماسکو کی ضد اور بیجنگ کی خاموش چال سے بن رہا ہے۔ یہ تبدیلی ابھی جاری ہے اور آنے والی دہائیاں بتائیں گی کہ ایران اس تاریخی موقع سے کتنا فائدہ اٹھا پاتا ہے۔










