*درگاپور میں ووٹنگ سے قبل 50 لاکھ روپے برآمد، بہار کے دو نوجوان گرفتار، سیاسی ہلچل تیز*
آسنسول 18 اپریل: اسمبلی انتخابات سے قبل ریاست میں ایک بار پھر بھاری مقدار میں نقدی برآمد ہونے سے سنسنی پھیل گئی ہے۔ صنعتی شہر درگاپور میں بہار کے دو نوجوانوں کے قبضے سے تقریباً 50 لاکھ روپے ضبط کیے گئے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں سیاسی گہماگہمی بڑھ گئی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق جمعہ کی رات درگاپور ریلوے اسٹیشن پر انڈال جی آر پی نے مشتبہ حالت میں دو نوجوانوں کو حراست میں لیا۔ گرفتار شدگان کی شناخت گڈو رائے اور تپن کمار مترا کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں بہار سے آنے والی ایک ٹرین سے اترے تھے اور ان کے پاس بھاری بیگ موجود تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق دونوں کی حرکات و سکنات اور بیانات میں تضاد دیکھ کر اہلکاروں کو شک ہوا، جس کے بعد ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔ تلاشی لینے پر بیگ سے نوٹوں کے بنڈل برآمد ہوئے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 50 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ دونوں نوجوانوں کا ہدف درگاپور کے راستے ہوڑہ پہنچنا تھا۔ تاہم یہ رقم کس کو دی جانی تھی اور اس کا اصل ذریعہ کیا ہے، اس بارے میں ابھی تک کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ سنیچر کی صبح گرفتار شدگان کو انڈال جی آر پی کی جانب سے آسنسول ضلع عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں پولیس نے مزید تفتیش کے لیے ریمانڈ کی درخواست کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ادھر انتخابات سے عین قبل اتنی بڑی رقم کی برآمدگی کے بعد سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ آیا یہ رقم ووٹروں کو متاثر کرنے یا خریدنے کے لیے تو نہیں لائی جا رہی تھی؟ تاہم پولیس اور جی آر پی حکام کا کہنا ہے کہ وہ معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے سنجیدگی سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے میں محکمہ انکم ٹیکس کو بھی اطلاع دی جا سکتی ہے۔ پولیس اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ آیا اس بڑی رقم کے پیچھے کسی بڑے نیٹ ورک یا بااثر شخصیت کا ہاتھ تو نہیں ہے۔








