Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*آسنسول کاشمالی علاقہ بنا میدان جنگ* *شرپسندوں کاتھانہ پر حملہ اور توڑ پھوڑ،دو پولس اہلکار زخمی* *پولس اور مرکزی فورس کی مشترکہ کارروائی، 7گرفتار ، پورے علاقے میں دہشت*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16908288

*آسنسول کاشمالی علاقہ بنا میدان جنگ*                                                                       *شرپسندوں کاتھانہ پر حملہ اور توڑ پھوڑ،دو پولس اہلکار زخمی*                                                                     *پولس اور مرکزی فورس کی مشترکہ کارروائی، 7گرفتار ، پورے علاقے میں دہشت*

     جمعہ کی رات شمالی آسنسول کے کئی علاقوں میں اس وقت افراتفری پھیل گئی جب شرپسندوں کی ایک بڑی بھیڑ نے آسنسول اتر تھانہ کے  جہانگیری محلہ پھانڑی ( فیض عام پولس چوکی)  کے باہر جمع ہوکر احتجاج کرنےلگے۔الزام ہے کہ ان لوگوں نے اچانک تھانہ پر پتھراؤ کرنا شروع کردیا۔ بات یہیں تک نہیں رکی ان شرپسندوں نے تھانہ کے اندر گھس کر زبردست توڑپھوڑ بھی مچائی۔تھانے کے باہر کھڑی کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا۔اس حملےمیں تھانہ کے افسرانچارج اجول ساہاسمیت دوپولس اہلکارزخمی بھی ہوئے۔ حالات کو قابو میں کرنے کے لئے بھاری تعداد میں پولس کے علاؤہ مرکزی فورس کے جوان پہنچ کر مورچہ سنبھالا ۔ بےقابوبھیڑ کو بھگانے کے لیے لاٹھی چارج کرنے کے ساتھ آنسو کے گولے بھی داغے۔بعدازاں بھیڑ کورگیدتے ہوئے پولس اور فورس کے جوانوں نےنہ صرف پولس چوکی کے آس پاس  بلکہ پولس چوکی سے متصل نیامحلہ،مکھو محلہ،چھپریاموڑ اور نورانی مسجد کے علاقے تک پہنچ گئے۔مقامی لوگوں کاالزام ہے کہ اس دوران فورس کے جوانوں نے ان راستوں کے کنارے کھڑی تمام دوپہیہ گاڑیوں کو گرادیا ۔کئی آٹو اور کار کے شیشوں کو بھی توڑڈالا۔ نورانی مسجد کے علاقے کے لوگوں نے مرکزی فورس کے ذریعہ مقامی لوگوں پرطاقت کا بےجااستعمال کرنے اور گالیاں دینے کے ساتھ نورانی مسجد کی کھڑکیوں کے شیشے توڑنے کابھی الزام لگایا ہے۔ اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز بھی وائرل کئے گئے ہیں جن میں شرپسندوں کے تھانہ پر حملے اور فورس کی کارروائی دیکھی جاسکتی ہے۔اس طرح کئی گھنٹوں تک پورا علاقے میدان جنگ بنا رہا۔ اس واقعہ کے پیچھے کیا وجہ ہے یہ صاف تو نہیں ہو پایاویسے اس علاقے کی ایک مسجد کامائک کھولنے کی پولس نے ہدایت دی تھی ، تفتیش کی جارہی ہے کہ کہیں اسی ہدایت  کے نتیجے میں تو یہ واقعہ پیش نہیں آیا ۔۔۔؟ادھر واقعہ کی خبر ملتے ہی مقامی کونسلروں میں ایس ایم مصطفیٰ اور فنصبی عالیہ اسی رات تھانہ پہنچ کر نہ صرف حالات کا جائزہ لیا بلکہ پولس انتظامیہ سے گفت شنید کرنے کے بعد تھانہ پر حملہ کے واقعہ کی پرزور مذمت کیا۔ شرپسنوں کی اس شرپسندی کی وجہ کر پورے علاقے کے ماحول خراب کئے جانے پر افسوس کا اظہار کیا ۔تمام لوگوں کو اپنے گھروں کے اندر رہنے اور افواہوں پر دھیان نہ دیتے ہوئے امن و امان قائم رکھنے کی اپیل بھی کیا۔سنیچر کی صبح بھی اس پورے علاقے میں خوف کا ماحول قائم رہا۔علاقے کی تقریبآ تمام دکانیں اور سبھی تعلیمی ادارے بند رہے۔ پورے علاقے میں مرکزی فورس کے جوان پہرہ دیتے نظر ائے۔ آسنسول درگاپور پولس کمشنریٹ کے ڈی سی پی (سنٹرل) دھرب داس نے بتایا کہ کس وجہ سے یہ واقعہ پیش آیااس کی جانچ کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جمعہ کی رات قریب نو بجے لوگوں کی ایک بھیڑ پھانڑی پہنچی اور پھر حملہ کردیا ۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کھنگالا جارہا ہے اور شرپسندوں کی شناخت کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسی دوپہر آسنسول درگاپور پولس کمشنریٹ کے پولس کمشنر ڈاکٹر پرنب کمار بھی جہانگیری محلہ پھانڑی پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس وقت حالات مکمل قابو میں ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کےذریعہ سات لوگوں کی گرفتاری کی جاچکی ہے بقیہ لوگوں کی تلاش جاری ہے۔کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا ۔اسنسول اتر کےنومنتخب رکن اسمبلی کرشنندو مکھرجی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جمعہ کی رات جو واقعہ پیش آیا ہےوہ انتہائی افسوناک اور قابل مذمت ہے۔ شرپسندوں کی ایک جماعت ایک سازش کے تحت پھانڑی پر حملہ کرکے توڑپھوڑ مچائی ہے اور انتظامیہ کے سامنے ایک چیلنج رکھنے کی کوشش کی ہے۔ملزمین کو کسی بھی حالت میں بخشا نہیں جائے گا اور سخت سے سخت سزا دی جائے گی ۔ کرشنندو مکھرجی نےالزام لگاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ صرف ملزمین کو نہیں بلکہ پردے کےپیچھے سے جن لوگوں نے اس واقعہ کوانجام دلوانے کی سازش رچی ہے، انتظامیہ اس کے خلاف بھی کارروائی کرےگی۔انہوں نے عام لوگوں سے کسی بھی حالت میں بہکاوے میں نہ آنے، سکون بنائے رکھنے  اور انتظامیہ کے ساتھ تعاؤن کرنے کی اپیل کی ہے۔ ادھر پچھم بردوان ضلع اوقاف کمیٹی کے کوآرڈینیٹر مفتی سعید اسعد قاسمی نے بھی ایک ویڈیو پیغام جاری کرکے اہلیان شہر اور پوری ریاست کے مسلمانوں سے پرامن اور پرسکون رہنے کی تلقین کی ہے۔ انہوں نے ریلپار کے دکانداروں سے معمول کے مطابق اپنی اپنی دکانوں کو کھولنے کی اپیل کرنے کے ساتھ نوجوانوں کو بلا ضرورت سڑکوں پر بھیڑ لگانے سے پرہیز کرنے، افواہوں پر دھیان نہ دینے اور کسی بھی صورت قانون ہاتھ میں نہ لیتے ہوئے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔ ملی اور لسانی تنظیم آواز کے ضلعی رہنما نعمان اسفر خان نے بھی شہریوں  کو صبر وتحمل اورپ جوش کے بجائے ہوش سے کام لینے کی اپیل جاری کیا ہے۔
اس واقعہ پر وزیر اعلٰی شبھندو ادھیکاری نے ڈائمنڈ ہاربر کی سبھا سے سخت ردِعمل ظاہر کیا۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ آسنسول تشدد معاملے میں اب تک 15 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور ان کے خلاف سخت دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے پولیس پھانڑی پر حملہ کرکے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا ہے، ان سے نقصان کی بھرپائی بھی وصول کی جائے گی۔ وزیرِ اعلیٰ کے اس بیان کے بعد پولیس انتظامیہ مزید سخت کارروائی کی تیاری میں مصروف ہوگیا ہے۔