Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*سیڑھیوں پر چڑھتا چین، چوٹی پر کھڑا امریکہ – اور دنیا کے بیچ کھڑی خاموش سفارت کاری*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*سیڑھیوں پر چڑھتا چین، چوٹی پر کھڑا امریکہ – اور دنیا کے بیچ کھڑی خاموش سفارت کاری*

از قلم:اسماء جبین فلک

بین الاقوامی سیاست میں طاقت ہمیشہ توپوں، میزائلوں اور معیشت سے ظاہر نہیں ہوتی۔ بعض اوقات طاقت کی سب سے بڑی علامت خاموشی ہوتی ہے، رفتار ہوتی ہے، انتظار نہ کرنے کا سلیقہ ہوتا ہے، اور یہ فیصلہ بھی کہ آپ مہمان کو کتنی دیر تک اپنے برابر کھڑا رکھتے ہیں۔
دنیا نے بیجنگ میں ایک بار پھر یہی منظر دیکھا، جب ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) اور شی جن پنگ (Xi Jinping) آمنے سامنے آئے۔ بظاہر یہ دو صدور کی ملاقات تھی، مگر درحقیقت یہ دو تہذیبوں، دو سیاسی نفسیات، اور دو عالمی تصوراتِ طاقت کا مقابلہ تھا۔ ایک طرف وہ امریکہ تھا جو پچھلی صدی کے بیشتر حصے میں دنیا کی واحد سپر پاور رہا، اور دوسری طرف وہ چین تھا جو بغیر شور مچائے، بغیر نعرے لگائے، سیڑھی در سیڑھی اوپر آتا رہا۔
بیجنگ کے “گریٹ ہال آف پیپل” (Great Hall of the People) کی اُن انتالیس چوڑی سیڑھیوں پر چلتے ہوئے دنیا صرف دو رہنماؤں کو نہیں دیکھ رہی تھی؛ دنیا یہ دیکھ رہی تھی کہ اب کون کس کو راستہ دکھا رہا ہے۔
شی جن پنگ آگے تھے، ٹرمپ پیچھے۔
یہ محض پروٹوکول نہیں تھا، یہ ایک استعارہ تھا۔
طاقت کے انتقال کی تاریخ ہمیشہ جنگوں سے نہیں لکھی جاتی، کبھی کبھی وہ کیمروں کے سامنے خاموش قدموں سے لکھی جاتی ہے۔ چین نے اس ملاقات میں کوئی نعرہ نہیں لگایا کہ وہ نئی سپر پاور بن چکا ہے، مگر اس نے پوری دنیا کو یہ ضرور محسوس کرا دیا کہ اب عالمی طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔ امریکہ اب بھی بلند چوٹی پر کھڑا ہے، مگر چین ابھی تک سیڑھیاں چڑھ رہا ہے، اور شاید اسی لیے اس کی سانسیں ابھی منظم ہیں۔
ٹرمپ کی سیاست ہمیشہ شور، دعووں، دھمکیوں اور ذاتی طاقت کے مظاہرے پر قائم رہی ہے۔ وہ سیاست کو کاروباری مذاکرات کی طرح چلاتے ہیں جہاں مخالف کو خوفزدہ کرنا ہی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ چین پہنچنے سے پہلے بھی وہ یہی تاثر دیتے رہے کہ وہ اپنے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی کارپوریٹ طاقت لے کر جا رہے ہیں۔
ایلون مسک (Elon Musk)، جینسن ہوانگ (Jensen Huang)، لیری فنک (Larry Fink) اور سنجے مہروترا (Sanjay Mehrotra) جیسے نام اس وفد میں شامل تھے۔ گویا پیغام یہ تھا کہ امریکہ صرف ایک ریاست نہیں، پوری عالمی سرمایہ داری کا نمائندہ بن کر آیا ہے۔
مگر چین نے اس طاقت کے مظاہرے کے جواب میں کوئی ردعمل نہیں دیا۔ یہی اس کی اصل حکمتِ عملی تھی۔
چین جانتا ہے کہ جو طاقت واقعی طاقتور ہو، اسے ہر وقت اپنی طاقت ثابت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اسی لیے نہ وہاں جذباتی استقبال تھا، نہ کیمروں کے سامنے حد سے زیادہ مسکراہٹیں، نہ گلے ملنے کی بے قراری۔
چین نے احترام ضرور دیا، مگر عقیدت نہیں دکھائی۔
یہاں عالمی سفارت کاری اور جنوبی ایشیائی سیاسی نفسیات کا فرق واضح ہو جاتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں اکثر رہنما عالمی طاقتوں سے ملاقات کو داخلی سیاست کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تصویریں، گلے ملنا، کندھے تھپتھپانا، ہاتھ پکڑ کر چلنا۔یہ سب عوامی تاثر سازی کا حصہ بن جاتا ہے۔ لیکن چین نے ہمیشہ سفارت کاری کو جذبات کے بجائے نظم و ضبط سے چلایا ہے۔ وہاں کی باڈی لینگویج بھی ریاستی فلسفے کا حصہ ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب شی جن پنگ سیڑھیوں پر رک کر پیچھے مڑتے ہیں تاکہ ٹرمپ کو سانس لینے کا موقع ملے، تو یہ محض تہذیب نہیں رہتی؛ یہ طاقت کی نفسیات بن جاتی ہے۔
پیغام صاف تھاکہ “ہم دوڑ نہیں رہے، ہمیں جلدی نہیں ہے، وقت اب ہمارے ساتھ چل رہا ہے۔”
امریکہ کئی دہائیوں تک دنیا کو یہ یقین دلاتا رہا کہ اس کے بغیر عالمی نظام قائم نہیں رہ سکتا۔ مگر چین نے گزشتہ تیس برسوں میں ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ اس نے نہ جمہوریت برآمد کرنے کی کوشش کی، نہ جنگوں کے ذریعے اپنی طاقت ثابت کی۔ اس نے بندرگاہیں بنائیں، ریلیں بچھائیں، فیکٹریاں کھڑی کیں، سپلائی چین پر قبضہ کیا اور دنیا کی معیشت میں اتنی گہرائی سے داخل ہو گیا کہ اب امریکہ بھی اس سے مکمل علیحدگی کا تصور نہیں کر سکتا۔
یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ جیسے جارح مزاج رہنما بھی بیجنگ پہنچ کر نسبتاً محتاط دکھائی دیے۔
جو ٹرمپ یورپی رہنماؤں کو سرِ عام طنز کا نشانہ بناتے ہیں، ولودیمیر زیلینسکی (Volodymyr Zelenskyy) کے لباس پر تبصرہ کرتے ہیں، ایمانوئل میکرون (Emmanuel Macron) پر طنز کرتے ہیں، وہی ٹرمپ چین میں نپی تلی زبان بولتے نظر آئے۔ دنیا حیران تھی کہ آخر بیجنگ میں ٹرمپ کی آواز کی گرج کیوں کم ہو گئی؟
اس کی وجہ صرف چین کی معاشی طاقت نہیں، بلکہ چین کی تہذیبی خود اعتمادی ہے۔
چین دنیا کو متاثر کرنے کے لیے شور نہیں مچاتا؛ وہ ماحول ایسا بنا دیتا ہے کہ سامنے والا خود اپنی آواز نیچی کر لے۔
اس ملاقات کا سب سے اہم لمحہ شاید وہ تھا جب شی جن پنگ نے “تھوسیڈائیڈز ٹریپ” (Thucydides Trap) کا ذکر کیا۔
یہ محض ایک تاریخی حوالہ نہیں تھا؛ یہ ایک تہذیبی انتباہ تھا۔
قدیم یونانی مؤرخ تھوسیڈائیڈز (Thucydides) نے لکھا تھا کہ جب کوئی نئی طاقت ابھرتی ہے تو پرانی طاقت خوفزدہ ہو جاتی ہے، اور یہی خوف جنگوں کو جنم دیتا ہے۔ اسپارٹا (Sparta) اور ایتھنز (Athens) کی جنگ اسی نفسیات کا نتیجہ تھی۔
شی جن پنگ نے دراصل امریکہ کو یہ سمجھایا کہ چین اب صرف ایک علاقائی طاقت نہیں رہا۔ اگر امریکہ اپنی بالادستی بچانے کے خوف میں جارحانہ راستہ اختیار کرے گا تو نقصان دونوں کا ہوگا۔
یہ بیان سفارتی زبان میں دیا گیا ایک سخت ترین پیغام تھا۔
خاص طور پر تائیوان (Taiwan) کے مسئلے پر چین نے واضح کر دیا کہ یہی اس کی “ریڈ لائن” (Red Line) ہے۔
امریکہ نے برسوں تک تائیوان کو چین کے خلاف ایک اسٹریٹجک دباؤ کے طور پر استعمال کیا، مگر اب چین اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ وہ براہِ راست خبردار کر سکتا ہے کہ اس معاملے میں مداخلت عالمی تصادم کا سبب بن سکتی ہے۔
ٹرمپ کا بعد کا محتاط بیان بھی اسی تبدیلی کا اشارہ تھا۔
انہوں نے پہلی بار یہ تاثر دیا کہ امریکہ ہر جگہ جنگ لڑنے کے لیے تیار نہیں۔
یہ وہی امریکہ ہے جو کبھی دنیا کے کسی بھی خطے میں مداخلت کو اپنا حق سمجھتا تھا۔
درحقیقت یہ صرف امریکہ اور چین کی کہانی نہیں؛ یہ پوری دنیا کے بدلتے ہوئے سیاسی مزاج کی کہانی ہے۔
اکیسویں صدی میں طاقت کا معیار بدل رہا ہے۔ اب صرف فوجی قوت کافی نہیں۔ اب وہ ملک زیادہ طاقتور سمجھا جاتا ہے جو دوسروں کو اپنی معیشت، اپنی ٹیکنالوجی اور اپنی منڈی پر انحصار کرنے پر مجبور کر دے۔
چین یہی کر رہا ہے۔
آج دنیا کی بیشتر صنعتیں چینی سپلائی چین کے بغیر ادھوری ہیں۔ حتیٰ کہ بھارت بھی، جو ایک وقت میں چینی ایپس پر پابندی لگا کر خود کو سخت موقف کا حامل ثابت کر رہا تھا، اب چینی سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کی ضرورت محسوس کر رہا ہے۔
یہی عالمی سیاست کی ستم ظریفی ہےنعروں سے زیادہ اہمیت معاشی حقیقتوں کی ہوتی ہے۔
اس سارے منظر میں بھارت کے لیے بھی ایک بڑا سبق چھپا ہوا ہے۔
بھارت نے گزشتہ برسوں میں عالمی سطح پر اپنی شبیہ بنانے کے لیے بے پناہ توانائی صرف کی۔ جی-20 (G20) کو داخلی سطح پر اس طرح پیش کیا گیا جیسے بھارت فوری طور پر عالمی قیادت کے منصب پر پہنچ چکا ہو۔ مگر عالمی سیاست محض ایونٹس، نعروں اور میڈیا کوریج سے نہیں چلتی۔
طاقت کا اصل امتحان بحران کے وقت ہوتا ہے، اور وہاں سنجیدگی، توازن اور مستقل مزاجی کی ضرورت پڑتی ہے۔
چین کی خارجہ پالیسی میں ایک خاموش تسلسل نظر آتا ہے۔
وہ جذباتی ردعمل کم دیتا ہے، طویل منصوبہ بندی زیادہ کرتا ہے۔
اس کے برعکس جنوبی ایشیائی سیاست اکثر داخلی جذبات کو عالمی سفارت کاری پر ترجیح دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی دوستیوں میں ضرورت سے زیادہ گرمجوشی دکھائی دیتی ہے اور کبھی اختلافات میں غیر ضروری سختی۔
شی جن پنگ نے ٹرمپ کو بیجنگ کے تاریخی “چانگ آن ہائی گارڈن” (Chang’an High Garden) لے جا کر بھی ایک علامتی پیغام دیا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بہت کم عالمی رہنماؤں کو رسائی ملتی ہے۔ جب ٹرمپ نے پوچھا کہ یہاں اور کون آ چکا ہے تو جواب تھا:
ولادیمیر پیوٹن (Vladimir Putin)۔
یہ محض ایک جواب نہیں تھا، بلکہ عالمی اتحادوں کے نئے نقشے کی جھلک تھی۔
دنیا اب سرد جنگ والے ایک قطبی نظام میں واپس نہیں جا رہی، بلکہ ایک پیچیدہ کثیر القطبی دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقتیں ایک دوسرے سے مقابلہ بھی کریں گی اور ایک دوسرے پر انحصار بھی۔
بیجنگ کی اُن سیڑھیوں پر اصل میں صرف ٹرمپ نہیں چڑھ رہے تھے۔
وہاں پوری دنیا ایک نئے دور کی طرف بڑھ رہی تھی۔
ایک ایسا دور جہاں پرانی سپر پاور کو یہ سیکھنا ہوگا کہ خوف کے ذریعے ہمیشہ حکومت نہیں کی جا سکتی، اور نئی ابھرتی ہوئی سپر پاور کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ طاقت کا استعمال شور سے نہیں، وقار سے بھی کیا جا سکتا ہے۔
شی جن پنگ نے اس ملاقات میں دنیا کو یہی سبق دیا کہ
طاقت اگر تہذیب کے ساتھ نہ ہو تو وہ صرف غنڈہ گردی بن جاتی ہے، اور تہذیب اگر طاقت کے بغیر ہو تو وہ محض کمزوری سمجھی جاتی ہے۔
عالمی قیادت دراصل انہی دونوں کے درمیان توازن قائم کرنے کا نام ہے۔