*کھمم میں زیادتی کا شکار کمسن لڑکی کے افراد خاندان کو ہر ممکن تعاون کا وعدہ*
*کے کویتا نے نمس ہاسپٹل پہنچ کر عیادت کی۔ ریاستی حکومت پر شدید تنقید*
*متاثرہ خاندان کو مکان،خاطر خواہ مالی امداد یا 50 ہزار روپئے ماہانہ پنشن کی فراہمی کا مطالبہ*
حیدرآباد: سربراہ تلنگانہ رکشنا سیناکلواکنٹلہ کویتا نے نمس (NIMS) اسپتال میں زیر علاج کھمم کی کمسن لڑکی کی عیادت کی جسے ظلم و ستم زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔کویتا نے لڑکی کی صحت سے متعلق ڈاکٹروں سے تفصیلات حاصل کیں۔اس موقع پر کویتا نے متاثرہ بچی کے والدین سے ملاقات کر کے انہیں تسلی دی اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ کھمم میں 12 سالہ بچی کے ساتھ پیش آیا یہ واقعہ انتہائی دل دہلا دینے والا اور انسانیت سوز ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ میں ملوث ملزم کو سزائے موت دی جائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض بااثر گوشے اس کیس کو واپس لینے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں، جو نہایت افسوسناک ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملہ میں کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت کے بغیر فوری اور سخت قانونی کارروائی ہونی چاہئے۔کویتا نے کہا کہ سزا میں تاخیر مجرموں کے حوصلے بڑھاتی ہے، اس لئے تیز رفتار کارروائی کے ذریعہ جلد از جلد انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ بچی کی حالت نہایت تشویشناک ہے اور وہ زندگی بھر بستر تک محدود رہنے کے خطرے سے دوچار ہے۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان انتہائی غریب ہے اور والدین مزدور ہیں، اس لئے حکومت کو فوری طور پر ان کی مالی مدد کرنی چاہئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندان کو مکان فراہم کیا جائے۔ خاطر خواہ مالی امداد فراہم کی جائے یا ماہانہ کم از کم 50 ہزار روپئے پنشن مقرر کی جائے تاکہ وہ بچی کی دیکھ بھال کر سکیں۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ملزم ضمانت پر رہا ہو کر متاثرہ خاندان کو دوبارہ نقصان پہنچا سکتا ہے، لہٰذا خاندان کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے۔کویتا نے کہا کہ ریاست میں روزانہ کمسن بچوں کے ساتھ متعدد جرائم پیش آ رہے ہیں، مگر حکومت اس پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خود محکمہ داخلہ کے بھی ذمہ دار ہیں، اس کے باوجود ایسے سنگین واقعات پر خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جا رہےہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اعلیٰ سطحی جائزہ لے کر ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں اور خواتین اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے۔








