Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*ڈاکٹر عمار رضوی کی مؤثر پیروی کے بعد وزارتِ خارجہ حرکت میں آئی*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*ڈاکٹر عمار رضوی کی مؤثر پیروی کے بعد وزارتِ خارجہ حرکت میں آئی*

*فتح پور کے رہائشی امام الدین کے سعودی عرب میں زیرِ حراست ہونے کے معاملے میں بھارتی سفارت خانہ، ریاض کو ضروری کارروائی کی ہدایت*

لکھنؤ: (پریس ریلیز/ابوشحمہ انصاری) آل انڈیا مائناریٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے قومی صدر، اتر پردیش کے سابق کارگزار وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عمار رضوی کی مؤثر پیروی کے بعد سعودی عرب میں زیرِ حراست بھارتی شہری امام الدین کے معاملے میں وزارتِ خارجہ، حکومتِ ہند حرکت میں آ گئی ہے۔ وزارت نے شکایت کو MADAD پورٹل پر درج کرتے ہوئے مزید کارروائی کے لیے اسے بھارتی سفارت خانہ، ریاض کو بھیج دیا ہے۔
سرکاری دستاویز کے مطابق بارہ بنکی ضلع کے قصبہ فتح پور کے محلہ نالاپار جنوبی-1 کی رہائشی سیدہ سراجل خاتون نے ڈاکٹر عمار رضوی سے ملاقات کرکے اپنے بیٹے امام الدین کی رہائی اور اس کی خیریت معلوم کرانے کے لیے مدد کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا سعودی عرب کے مقدس شہر مدینہ منورہ میں ڈرائیور کی حیثیت سے ملازمت کرتا تھا۔ وطن میں تین ماہ کی چھٹی گزارنے کے بعد وہ 17 اکتوبر 2025 کو دوبارہ سعودی عرب روانہ ہوا اور حسبِ معمول اپنی ملازمت انجام دے رہا تھا، لیکن 25 اپریل 2026 کو اہلِ خانہ کو اطلاع ملی کہ امام الدین کو سعودی عرب کی سی آئی ڈی پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ اس کے بعد سے اہلِ خانہ کو اس کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع نہیں مل سکی، جس کی وجہ سے پورا خاندان شدید ذہنی کرب اور اضطراب میں مبتلا ہے۔
معاملے کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے ڈاکٹر عمار رضوی نے 9 جون 2026 کو وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس۔ جے۔ شنکر کو ایک تفصیلی مکتوب ارسال کیا، جس میں متاثرہ خاندان کی پریشانی سے آگاہ کرتے ہوئے امام الدین کی خیریت معلوم کرنے، اس کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرنے اور ضروری سفارتی کارروائی کی درخواست کی گئی۔
وزارتِ خارجہ کے CPV ڈویژن (MADAD سیکشن) نے ڈاکٹر عمار رضوی کو بھیجے گئے اپنے باضابطہ جواب میں بتایا کہ ان کا مکتوب موصول ہو گیا ہے اور اس پر کارروائی کرتے ہوئے شکایت کو MADAD پورٹل پر درج کر لیا گیا ہے۔ وزارت نے اپنے جواب میں واضح کیا ہے کہ سعودی عرب میں زیرِ حراست بھارتی شہری امام الدین کے معاملے کو ضروری کارروائی کے لیے بھارتی سفارت خانہ، ریاض کے سپرد کر دیا گیا ہے تاکہ متعلقہ سعودی حکام سے رابطہ قائم کرکے حقائق معلوم کیے جائیں اور متاثرہ خاندان کو صورتِ حال سے آگاہ کیا جا سکے۔
وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری اسٹیٹس رپورٹ میں اس معاملے کو ’’بیرونِ ملک زیرِ حراست بھارتی شہری‘‘ کے زمرے میں رکھتے ہوئے اعلیٰ ترین ترجیح دی گئی ہے، جس سے اس معاملے کی حساسیت اور اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر عمار رضوی نے کہا کہ بیرونِ ملک مشکلات میں پھنسے ہر بھارتی شہری کی مدد کرنا ایک انسانی اور قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک امام الدین کے بارے میں مکمل معلومات حاصل نہیں ہو جاتیں اور متاثرہ خاندان کو اطمینان نہیں مل جاتا، وہ اس معاملے کی مسلسل پیروی کرتے رہیں گے۔
ڈاکٹر عمار رضوی کی اس مؤثر اور بروقت پیروی کو مختلف سماجی اور عوامی حلقوں نے سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وزارتِ خارجہ اور بھارتی سفارت خانہ، ریاض کی کارروائی کے نتیجے میں جلد ہی امام الدین کے بارے میں مثبت پیش رفت سامنے آئے گی اور متاثرہ خاندان کی طویل بے چینی کا خاتمہ ہوگا۔یہ اطلاع آل انڈیا مائناریٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے شعبۂ نشر و اشاعت کے سیکرٹری ابوشحمہ انصاری نے دی۔