*بے روزگار نوجوانوں سے ٹکر لینے والی کوئی حکومت نہیں بچی، ریونت ریڈی کو بھی عوام سبق سکھائیں گے*
*5 ہزار نہیں، کم از کم 20 ہزار کانسٹیبل اسامیوں پر فوری نوٹیفکیشن جاری کیا جائے*
*یہ عوامی حکومت نہیں بلکہ دھوکہ باز حکومت ہے*
*بے روزگاروں کے حقوق کی جنگ میں آخری سانس تک ساتھ کھڑی رہوں گی: کویتا*

تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کلواکنٹلہ کویتا نے کانگری س حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے روزگار نوجوانوں سے ٹکر لینے والی کوئی بھی حکومت کبھی کامیاب نہیں ہوئی اور اگر وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنا بند نہ کیا تو یہی بے روزگار نوجوان انہیں اقتدار سے بے دخل کر دیں گے۔
دل سکھ نگر چوراہے پر بے روزگار نوجوانوں کی جانب سے جاری احتجاجی دھرنے میں شرکت کرتے ہوئے کویتا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ریاست میں فوری طور پر ملازمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کیے جائیں دو لاکھ سرکاری اسامیاں پُر کی جائیں جاب کیلنڈر نافذ کیا جائے اور کانسٹیبل کی صرف پانچ ہزار نہیں بلکہ کم از کم بیس ہزار اسامیوں پر بھرتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت کے مطالبات تسلیم کرنے تک وہ بے روزگار نوجوانوں کے شانہ بشانہ رہیں گی۔
اپنے خطاب میں کویتا نے کہا کہ دل سکھ نگر میں احتجاج کرنے والے نوجوان چنگاری نہیں بلکہ شعلے ہیں، اور بے روزگاروں کے غصے کو نظر انداز کرنا آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت اپنے انتخابی وعدوں سے منحرف ہو کر نوجوانوں کے جذبات سے کھیل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے اعلان کیا تھا کہ 19 ہزار سے زائد کانسٹیبل اسامیوں کو پُر کیا جائے گا، لیکن اب صرف پانچ ہزار اسامیوں کا اعلان کر کے لاکھوں امیدواروں کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ خود نائب وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں 19 ہزار سے زائد خالی آسامیوں کا اعتراف کیا تھا، جبکہ ڈی جی پی نے بھی یہی اعداد و شمار پیش کیے تھے۔ اسمبلی میں سوال اٹھائے جانے پر بھی حکومت نے یہی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن اب اپنے وعدے سے انحراف کرتے ہوئے صرف پانچ ہزار ملازمتوں کی بات کی جا رہی ہے۔
کویتا نے کہا کہ تلنگانہ رکشنا سینا اس معاملے میں بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ پوری مضبوطی سے کھڑی ہے اور جب تک اس مسئلے کا حل نہیں نکلتا، وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سیاسی زندگی کا اصول ہے کہ جس مسئلے کو اٹھاتی ہیں اس کے حل تک پیچھے نہیں ہٹتیں اور کانسٹیبل بھرتیوں کے معاملے میں بھی نوجوانوں کو انصاف دلا کر رہیں گی۔
انہوں نے یاد دلایا کہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد کانسٹیبل بھرتیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن دلانے کی جدوجہد میں وہ خود پیش پیش رہی تھیں۔ آج سینکڑوں خواتین اپنے گھروں سے دور رہ کر ملازمت کی امید میں کوچنگ اور تربیت حاصل کر رہی ہیں، مگر حکومت کے فیصلے نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بھی ایک بیٹی ہے، لہٰذا انہیں ان نوجوان خواتین کی مشکلات کا احساس ہونا چاہیے۔
انہوں نے حکومت کے اس مؤقف پر بھی سوال اٹھایا کہ 19 ہزار سے زائد امیدواروں کو ایک ساتھ تربیت دینا ممکن نہیں۔ کویتا نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس تربیت کی سہولت نہیں تھی تو اسمبلی میں اتنے بڑے وعدے کیوں کیے گئے؟ انہوں نے عمر کی حد میں رعایت کے معاملے پر بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ پہلے جی او نمبر 31 کے ذریعے عمر میں رعایت دی گئی، لیکن اب نیا حکم نامہ جاری کر کے وہ رعایت واپس لے لی گئی ہے جو نوجوانوں کے ساتھ کھلا دھوکہ ہے۔
کویتا نے مطالبہ کیا کہ کانسٹیبل کی ملازمتوں کے لیے عمر کی حد 36 سال اور سب انسپکٹر کی بھرتیوں کے لیے 38 سال تک بڑھائی جائے تاکہ ہزاروں امیدواروں کے ساتھ انصاف ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اقتدار میں آنے سے پہلے دو لاکھ سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اب تک صرف تقریباً 11 ہزار ملازمتیں ہی دی گئی ہیں۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف حکومت روزگار فراہم کرنے سے قاصر ہے جبکہ دوسری طرف سات ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے موسیٰ ریور فرنٹ منصوبہ ہر قیمت پر نافذ کرنے پر بضد ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ آخر موسیٰ منصوبہ عوام نے کب مانگا تھا؟ غریبوں کے مکانات مسمار کر کے ایسا منصوبہ نافذ کرنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ لاکھوں نوجوان روزگار کے لیے دربدر ہیں؟ ریونت ریڈی کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کویتا نے کہا، تم بے روزگار نوجوانوں سے ٹکر لے رہے ہو یاد رکھو یہی نوجوان تمہیں اقتدار سے بے دخل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ 2 جولائی کو بے روزگار نوجوان سیکریٹریٹ کا گھیراؤ کرنے جا رہے ہیں جبکہ اسی دن تلنگانہ تحریک کے کارکنان بھی اپنی بھوپوراٹم تحریک چلا رہے ہوں گے۔ اگر ضرورت پڑی تو تحریک کے کارکن بھی بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ متحد ہو کر ان کی جدوجہد میں شامل ہوں گے۔ کویتا نے واضح کیا کہ بے روزگار نوجوان تنہا نہیں ہیں۔ تلنگانہ تحریک کے کارکن، سماجی تنظیمیں اور تمام انصاف پسند سیاسی قوتیں ان کے ساتھ کھڑی ہوں گی۔
آخر میں انہوں نے کانگریس حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوامی حکومت نہیں بلکہ دھوکہ باز حکومت ہے، جس نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے ایک بھی انتخابی وعدے کو پورا نہیں کیا اور مسلسل عوام کو دھوکہ دے رہی ہے۔










