Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*تلنگانہ کے مقامی طلبہ کو ہی ایم بی بی ایس کی نشستیں دی جائیں: کلواکنٹلہ کویتا*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*تلنگانہ کے مقامی طلبہ کو ہی ایم بی بی ایس کی نشستیں دی جائیں: کلواکنٹلہ کویتا*

*چار سالہ مقامی ہونے کی شرط سے دیگر ریاستوں کے طلبہ کو فائدہ، تلنگانہ کے طلبہ کے ساتھ ناانصافی۔*

*جی او نمبر 150 کو منسوخ کرنے کا مطالبہ*

حیدرآباد: تلنگانہ رکشنا سینا کی چیف کلواکنٹلہ کویتا نے مطالبہ کیا کہ ریاست میں ایم بی بی ایس کی نشستیں صرف تلنگانہ کے مقامی طلبہ کو ہی دی جائیں۔ جمعہ کو بنجارہ ہلز میں واقع تلنگانہ رکشنا سینا کے دفتر میں NEET میں رینک حاصل کرنے والے تلنگانہ کے طلبہ کے والدین نے کلواکنٹلہ کویتا سے ملاقات کی اورانہیں درپیش مسائل سے واقف کروایا۔ والدین نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ جی او نمبر 150 کے باعث دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو زیادہ ایم بی بی ایس نشستیں حاصل ہورہی ہیں، جس کے نتیجہ میں تلنگانہ کے مقامی طلبہ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ آئندہ ایک ہفتہ میں ایم بی بی ایس نشستوں کی تقسیم کا امکان ہے، اس لئے حکومت فوری طور پر ایسے اقدامات کرے کہ تلنگانہ کے مقامی طلبہ کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ تعلیمی سال تک تلنگانہ کے طلبہ کے مفادات کو نقصان پہنچانے والے جی او نمبر 150 کو منسوخ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے غیر دانشمندانہ فیصلہ کے باعث طلبہ اور ان کے والدین میں تشویش پائی جاتی ہے۔ گزشتہ دو برس سے طلبہ اور ان کے والدین احتجاج کررہے ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے اس مسئلہ پر توجہ نہ دینا افسوسناک ہے۔ جی او نمبر 150 کے تحت نویں جماعت سے انٹرمیڈیٹ تک چار سال تلنگانہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو مقامی قرار دیا جارہا ہے، جس کا فائدہ دیگر ریاستوں سے آکر تلنگانہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو زیادہ ہورہا ہے۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ ہر سال تقریباً 1,500 سے 2,000 ایم بی بی ایس نشستیں دیگر ریاستوں کے طلبہ کو حاصل ہورہی ہیں، جس کے نتیجہ میں اتنی ہی تعداد میں تلنگانہ کے طلبہ کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سابقہ جی او کو بحال کرتے ہوئے پہلی جماعت سے دسویں جماعت تک سات سال جس ریاست میں تعلیم حاصل کی گئی ہو، اسی ریاست کی مقامی حیثیت کو تسلیم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ NEET کی وجہ سے پہلے ہی تلنگانہ کو 15 فیصد نشستوں کا نقصان ہورہا ہے۔ اگر ہر ریاست میں میڈیکل نشستوں کی بھرتی کے لئے متعلقہ ریاست ہی اپنا انٹرنس امتحان منعقد کرے تو نشستوں کے نقصان کا امکان نہیں رہے گا۔ طلبہ کے مستقبل سے وابستہ یہ ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے، اس لئے حکومت کو ایک ہفتہ کے اندر فیصلہ کرنا ہوگا ورنہ تلنگانہ کے طلبہ کے ساتھ ایک مرتبہ پھر ناانصافی ہوگی۔ انہوں نے بیرون ملک دورہ پر موجود چیف منسٹر ریونت ریڈی سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس معاملہ میں ضروری کارروائی کی ہدایات جاری کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

راہول جی! تلنگانہ میں طلبہ پر پولیس کی زیادتی پر خاموشی کیوں؟: کلواکنٹلہ کویتا
تلنگانہ رکشنا سینا چیف کا ’ایکس‘ پر قائد کانگریس سے استفسار

دہلی میں طلبہ کے ساتھ پولیس کے مبینہ ناروا سلوک پر فوری ردعمل ظاہر کرنے والے کانگریس کے سینئر قائد راہول گاندھی سے تلنگانہ رکشنا سینا کی چیف کلواکنٹلہ کویتا نے سوال کیا کہ تلنگانہ میں کانگریس حکومت کے دور میں طلبہ کے ساتھ پولیس کی مبینہ زیادتی انہیں نظر کیوں نہیں آتی؟ انہوں نے سوال کیا کہ کیا دہلی کے لئے ایک انصاف اور تلنگانہ کے لئے دوسرا انصاف ہے؟کلواکنٹلہ کویتا نے جمعہ کو ’ایکس‘ پر راہول گاندھی کی جانب سے دہلی میں طلبہ کے ساتھ پولیس کے رویہ کے خلاف آواز اٹھانے والی پوسٹ کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں طلبہ کے ساتھ پولیس کے برتاؤ پر راہول گاندھی کا طلبہ کے ساتھ پولیس اسٹیشن پہنچ کر شکایت درج کروانا قابلِ ستائش ہے اور پولیس کے رویہ کو ظلم قرار دینے والے ان کے موقف کی تائید کی جاتی ہے، لیکن تلنگانہ میں اس سے بھی زیادہ سنگین واقعات پر ان کی آواز خاموش کیوں ہے؟
انہوں نے کہا کہ کانگریس کے زیر اقتدار ریاست میں طلبہ کے ساتھ مبینہ زیادتی ہورہی ہو تو راہول گاندھی اس پر خاموش کیوں ہیں؟ ان کا یہ دوہرا رویہ افسوسناک ہے۔ کلواکنٹلہ کویتا نے تلنگانہ کے محبوب آباد ضلع کلکٹریٹ کے سامنے جی او نمبر 97 کے خلاف 19 اگست کو پالی ٹیکنک طلبہ کے پُرامن احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپنے حقوق کے لئے احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ مقامی سی آئی نے مبینہ طور پر انتہائی غیر انسانی رویہ اختیار کیا اور دو طلبہ کا گلا پکڑ کر انہیں پیچھے دھکیلا۔انہوں نے سوال کیا کہ طلبہ کے ساتھ اس مبینہ زیادتی پر راہول گاندھی کیوں ردعمل ظاہر نہیں کررہے ہیں؟ کیا کانگریس کے زیر اقتدار ریاستوں میں طلبہ کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں انہیں نظر نہیں آتیں؟ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام کانگریس کے اس دوہرے رویے کو دیکھ رہے ہیں۔ تلنگانہ میں طلبہ کو مجرموں کی طرح دیکھنے والی کانگریس حکومت کے رویے پر راہول گاندھی کو جواب دینا چاہئے، بصورتِ دیگر مناسب وقت پر تلنگانہ کے طلبہ اور عوام کانگریس کو اپنے ووٹ کی طاقت سے جواب دیں گے۔

Latest News