*ہفت اقلیم کاشہنشاہ اور جیلان کاتاجدار غوث الاعظم حضرت سیدنا شیخ محی الدین عبدالقادرجیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولانامحمدعلیم الدین فیضی الرضوی ۔ خطیب وامام ایم، اے، ایم، سی جامع مسجد درگاپور
7908825334
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کانام : سیدعبدالقادر رضی اللہ تعالٰی عنہ
مقامِ ولادت : قصبہ جیلان
تاریخِ ولادت : یکّم رمضان المبارک 470 ھ
تاریخِ وصال : 11 / ربیع الثانی 561 ھ
مرقدِ انور : بغداد مقدسہ
عمرشریف : 91 / سال
سلسلۂ نسب : والدماجد کی طرف سے سبطِ رسول حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ اور والدہ ماجدہ کی طرف سے سبطِ پیغمبر حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ تک پہنچتاہے۔
آپ کا لقب : محی الدین ، غوث الاعظم ، محبوبِ سبحانی ، قطب الاقطاب ، دستگیرِ کونین ، خواجۂ کائنات ، سلطان العارفین ، شیخ الثقلین ، مخدوم الوریٰ ، امامِ اعظم۔ شہباز لامکانی۔
سیدعالم ﷺ کی بعثت مقدسہ کےبعدانبیاء عظام علیھم الصلٰوة والسلام کی آمد کاسلسلہ منقطع ہوگیا مگر آپ ﷺ کے تصدق سے آپ کی امت پر رب کائنات نے یہ انعام فرمایاکہ ہردور میں اسے اپنے محبوبین اور مقربین سےنوازا ۔ یہ عظیم مقبولانِ بارگاہ الٰہی تاقیام قیامت اپنے روحانی فیوض وبرکات سے اہلِ عالم کو فیضاب کرتےرہیں گے اور حضور اکرم ﷺ کےسرچشمۂ نبوت سے دلوں کی مردہ زمینوں کوسیراب کرتے رہیں گے ۔انہیں اولیاء عظام اور بزرگانِ دین میں قطب الاقطاب سرکار غوث الاعظم حضرت سیدنا شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ذات بابرکات بہت ہی زیادہ نمایاں حیثیت کا حامل ہے ۔
غوث الاعظم حضرت سیدنا شیخ محی الدین عبدالقادرجیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کواللہ رب العزت نےجس قدرچاہامرتبۂ غوثیت پر بلندوبالاکردیا آپ تمام عالم کےغوث ، غوث الاغوث اورتمام اولیاءاللہ کےسردار ہیں جوولی ہوتےہیں وہ دائمی طورپر تقویٰ وپرہیزگاری کامظاہرہ کرتےہیں ان کی ذاتِ مقدسہ پرعالمِ قدس سے ہرلمحہ رحمت وانوارکی بارشیں ہوتی ہیں ۔ ولی کاتصرف اللہ کا تصرف ہے۔ ولی کاعلم اللہ کاعلم ہے۔ ولی کاکمال اللہ کاکمال ہے۔ ان کی خلوت بھی پاک ہوتی ہے ان کی جلوت بھی پاک ہوتی ہے۔ ان کا کوئی بھی قدم شریعت وسنت کےخلاف نہیں اٹھتا۔ ان کاہرکام سنت وشریعت کے مطابق ہوتاہے۔ اللہ رب العزت جب اپنےولیوں کو روحانی دنیاکی حکومت اور سلطنت سےسرفرازفرمادیتاہے، ان کی نگاہ میں دنیاکی حکومتیں اورسلطنتیں ایک جوکےدانےکےبرابربھی قدروقیمت نہیں رہتیں ۔ اللہ رب العزت نے قرآنِ عظیم میں جس طرح انبیاء کرام علیھم الصلٰوة والسلام کا ذکرفرمایاہے اسی طرح اولیاءعظام رضوان اللہ تعالٰی علیھم اجمعین کابھی ذکر بڑے پیاربھرےاندازمیں فرمایاہے۔ اللہ رب العزت کاارشادعظیم ہے ، وہ راتیں گزار دیتےہیں اپنے رب کےلئے سجدےاورقیام میں ( پ 19 رکوع 4 ) ساری دنیا بسترِ استراحت پر نیند کی آغوش میں مزے لےرہی ہوتی ہے مگراللہ کےنیک بندے نیند سےبیدار ہوکر اللہ کی عبادت میں مکمل شب گزاردیتےہیں اورپھروہ بڑی گریہ وزاری سےکہتےہیں اے ہمارےرب ! ہم سے پھیردے جہنم کاعذاب ، بیشک اسکاعذاب سخت ہے وہ بہت بُری ٹھہرنےکی جگہ ہے۔ اللہ کے ولیوں کا معمولات زندگی نہایت ہی سنجیدہ ہوتاہے۔
کونین کادستگیر حضرت سیدنا شیخ محی الدین عبدالقادرجیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی جلالتِ شان اورعظمتِ مقام کا کیا پوچھنا۔ آپ ہفت اقلیم کےوہ شہنشاہ ہیں جہاں ہواؤں ، صحراؤں ، دریاؤں ، پہاڑوں غرض کہ ہرجگہ آپ کی شوکتِ اقتدارکاپرچم گڑاہواہے۔
فرش گیتی پر جب حضور غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی جلوہ گری ہونےوالی تھی تو وقتِ ولادت آپکی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں ، میری سماعت سے ایک آوازٹکرائی ، اےعبدالقادر کی ماں ام الخیر ! تمھاری گودمیں کوئی عام بچہ نہیں آرہاہے بلکہ تمام ولیوں کاسردار آرہاہے غوث الاغواث آرہاہے۔ سیدہ ام الخیر فرماتی ہیں ، اس شب میں مجھ پر اللہ تبارک وتعالٰی کا سلام آیا ۔ جس روز غوث الاعظم عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے جلوۂ نورسے جیلان کا نصیبہ چمکا اس روز جیلان میں گیارہ سو بچوں کی ولادت ہوئی اللہ رب العزت نے غوث الاعظم کے صدقے میں وہ تمام بچوں کو مقامِ ولایت عطافرمایا۔
شہنشاہِ بغداد فرماتے ہیں ، میں جب حصولِ علم کےلئے استاذگرامی کی بارگاہ میں حاضرہوتا تومیرے استاذ مجھے دیکھ کر باادب کھڑےہو جاتے دوسرے بچوں نے دریافت کیا ، حضور ! ہم میں سے کوئی بھی بچہ آپکی باگاہ میں حصول علم کےلئے آتاہےتو آپ ہمیں دیکھ کر کھڑےنہیں ہوتے اورجب یہ بچہ آتاہےتو آپ ان کی تعظیم میں کھڑےہوجاتےہیں ایسا کیوں ؟ استاذِمحترم فرماتےہیں ، اےبچے ! جسے تم بچہ کہ رہےہو وہ کوئی عام بچہ نہیں ہے ظاہرمیں وہ بچہ ہے لیکن حقیقت میں وہ قطب الاقطاب ہے جب وہ آتےہیں تواسوقت یہ آوازآتی ہے ، کھڑےہوجاؤ کہ تمھاری مجلس میں تمام ولیوں کاسردار آرہاہے غوث الاغواث آرہاہے۔
حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کےبعد آپ ہی ولایت کے سب سے بلند مرتبۂ غوثیت کبریٰ پر فائز ہوئے ۔ حضرت حمادوباس جوسرکا غوث اعظم کےمشائخ میں سےہیں انہوں نے ایک دن سرکار غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عدم موجودگی میں فرمایا کہ اس جوان سیدکاقدم تمام اولیاء کی گردن پرہوگا انہیں اللہ عزوجل حکم دیگا کہ فرمائیں ،، میرا یہ قدم تمام ولی اللہ کی گردن پر ہے ،، سرکار غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کاعلم وفضل اور علومرتبت کااندازہ اس حقیقت سےبھی لگایاجاسکتاہےکہ حضرت خضر علیہ السلام فرماتے ہیں شیخ عبدالقادر تمام محبوبوں میں یکتا اور تمام اولیاء کے قطب ہیں اگراللہ تعالٰی نے اپنےکسی ولی کو مقام تک پہنچایاتواس سے بھی اعلیٰ مقام تک شیخ عبدالقادرکو پہنچایا ۔ اگر کسی حبیب کو جام محبت پلایا تو اس سےبھی زیادہ خوشگوار جام شیخ عبدالقادر کوپلایا ۔ اگرکسی مقرب کو حال بخشا تو شیخ عبدالقادر کو اس سےبھی زیادہ عظمت عطافرمائی۔
شیخ کبیراحمد رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں ، شریعت کا دریا ان کے داہنے ہاتھ پر ہے اور حقیقت کا دریا ان کے بائیں ہاتھ پر ہے جس سے جوچاہیں پی لیں اس وقت شیخ عبد القادر کاکوئی ثانی نہیں
بہت سے اولیاء متقدمین سے متعدد سندوں کےساتھ مروی ہے کہ انہوں نے سرکار غوث الاعظم کی ولادت مبارکہ سےتقریبًا سو برس پہلے یہ خبر دی تھی کہ عنقریب عجم میں ایک عظیم صاحبِ مظہر پیدا ہونگے جو فرمائیں گے میرا یہ قدم ہر ولی اللہ کی گردن پر ہے اس فرمان عالی پر اس وقت کے تمام اولیاء ان کےقدم کےنیچے اپنا سر رکھ دیں گے اور ان کے قدم کے سائےمیں داخل ہونگے ۔ ایک مرتبہ سرکار غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سید عالم ﷺ کے روضۂ مقدسہ کے قریب کھڑے ہوکر محبت رسول میں ڈوبےہوئے ایسے دو اشعار پڑھے جن میں آقا کریم ﷺ کی دست بوسی کی التجا تھی اس پر حضور سید المرسلین ﷺ کا ست انور ظاہر ہوا اورسرکار غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نےنہایت ہی ادب و تعظیم کےساتھ مصافحہ ودست بوسی کیا اورسیدالمرسلین ﷺ کا دست مبارک اپنے سرپر رکھا ۔
حضرت سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عبادت و ریاضت اور مجاہدے بڑے کمال کےتھے ۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمةاللہ تعالٰی علیہ فرماتےہیں ، آپ نے چالیس سال تک عشاء کے وضوسےنمازِ فجراداکی ۔ مسلسل پندرہ سال تک ایک پیرپرکھڑےہوکر عشاءاور فجرکےدرمیان پوراقرآن ختم کئے ۔ آپ جب قرآن عظیم کی تلاوت فرماتےتودل کی پوری کوٹھی عالمِ قدس کےنغموں سےگونج اٹھتی تھی اور آنِ واحدمیں ایک طیب وطاہرروح تجلّیاتِ قرآنی کی بارش میں شرابورہوجاتی تھی۔
غوث الاعظم فرماتےہیں ، میں نے پچیس سال تک جنگلوں میں اس طرح عبادت کی کہ میراجسم سراپاروح بن گیا ۔ میری غذااللہ کاذکراوراللہ کی عبادت بن گئی۔
حضور سیدناغوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ تبلیغِ اسلام کےلئے تین طریقے اختیار کئے تقریروتحریر اورتدریس ۔ جب آپ تقریر فرماتے تو آپکی مجلس میں ستّرستّر ہزار بلکہ اس سےبھی زیادہ کامجمع ہوتاتھا جس میں کل اولیاء اورانبیاء جسمانی حیات اورارواح کے ساتھ اورجن وملائکہ بھی تشریف فرماہوتےتھے۔ آپ کا وعظ ونصیحت جب سنجیدہ ہوتاتوگنہگار اور فاسق وفاجر گروہ درگروہ توبہ کرتے اور کفارومشرکین کے دلوں میں اسلام جلوہ گر ہوجاتاتھا اور وہ دولتِ ایمانی کی حرارت سے مالامال ہوجاتےتھے ۔ آپ کی تقریر اگر جلالتِ شان میں ڈوبی ہوئی ہوتی تو لوگ دھاڑیں مارکرروتے اورکئی کئی جنازے اٹھتے ۔ آپ سےبےپناہ کرامتوں کاصدورہواہے۔ آپ مرتبۂ غوثیت کے اس مقام پر فائزتھے کہ آپ کے سامنے اولیاء، اقطاب ، ابدال واغوث کے سر خم ہوتےتھے ۔ آپ پرعالمِ قدس سےایسے ایسے اسرارو رموز ظاہر ہوتےتھےجس سے ساری دنیا غافل ہوتی تھی ۔ آپ نے اپنے علوم وکرامات ، تقریرو تحریر ، تدریس اور رشدوہدایت سے پوری دنیا کو منور کر 91 / سال کی عمر شریف میں 11 / ربیع الثانی 561 ھ کو اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔










