Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*دفتر چیف منسٹر کمیشن خوری اور دھندوں کا اڈہ بن گیا: کلواکنٹلہ کویتا* *ہر کام کے لئے 15 فیصد کمیشن کا تقاضا۔  کانگریس حکمرانی میں عوامی خدمت نہیں بلکہ کھلی لوٹ مار* *خاتون کسانوں کی خودمختاری کے لئے مہاراشٹرا کی طرز پر قانون سازی کا مطالبہ*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16908288

*دفتر چیف منسٹر کمیشن خوری اور دھندوں کا اڈہ بن گیا: کلواکنٹلہ کویتا*

*ہر کام کے لئے 15 فیصد کمیشن کا تقاضا۔  کانگریس حکمرانی میں عوامی خدمت نہیں بلکہ کھلی لوٹ مار*

*خاتون کسانوں کی خودمختاری کے لئے مہاراشٹرا کی طرز پر قانون سازی کا مطالبہ*

حیدرآباد: تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کلواکنٹلہ کویتا نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ کے چیف منسٹر کے  آفس کو کمیشن خوری کا اڈہ بنا دیا گیا ہے اور ہر کام کے لئے 15 فیصد کمیشن کا مطالبہ کرتے ہوئے براہ راست سی ایم او سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے جمعرات کو سوشیل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کانگریس حکومت کے طرزِ عمل کو شرمناک قرار دیا۔ کویتا نے الزام لگایا کہ اپنے حامیوں اور قریبی افراد کو فائدہ پہنچانے کے لئے قانون اور قواعد کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور مبینہ طور پر کمیشن حاصل کرنے کی خاطر نااہل افراد کو بھی کام سونپے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عوامی حکمرانی نہیں بلکہ کھلی لوٹ مار ہے اور تلنگانہ کے عوام کسی بھی صورت ایسی مبینہ بے ضابطگیوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ عوام اور تاجروں کو تحفظ فراہم کرنے کے مجاز چیف منسٹر اور ان کے دفتر سے ایسے اقدامات کیسے ہو سکتے ہیں۔ کویتا نے خبردار کیا کہ عوام کو لوٹنے اور کمیشن کے لئے دھمکیاں دینے والوں کو بخشا نہیں جائے گا اور ان کی پارٹی اقتدار میں آنے پر مبینہ لوٹ مار میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائےگی۔کلواکنٹلہ کویتا نے یوم خاتون کسانوں کے موقع پر تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ مہاراشٹرا کی طرز پر ریاست میں بھی خاتون کسانوں کی خودمختاری کا قانون متعارف کرایا جائے۔ انہوں نے  خاتون کسانوں کی مشکلات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین گھریلو ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ صبح سے رات تک کھیتوں اور مویشیوں کی دیکھ بھال کے کاموں میں مصروف رہتی ہیں لیکن ان کی محنت کو مناسب شناخت نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ دیہی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والی خواتین کی محنت اور قربانیوں کو تسلیم کیا جانا چاہئے۔کویتا نے مطالبہ کیا کہ مہاراشٹرا کےخاتون کسانوں کی خودمختاری قانون 2026 کو مثال بناتے ہوئے تلنگانہ میں بھی قانون سازی کی جائے۔ اس کے تحت خاتون کسانوں اور زرعی مزدوروں کو قانونی شناخت فراہم کرنے کے ساتھ سرکاری اسکیموں اور سماجی تحفظ کی سہولتوں سے استفادہ کے مواقع فراہم کئےجائیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں میں خواتین کی 80 فیصد شراکت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی محنت کا احترام کیا جانا چاہئے۔

Latest News

Related News