Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*ارشاد انصاری: میرے محسن، میرے استاد اور اردو کے خاموش خادم*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*ارشاد انصاری: میرے محسن، میرے استاد اور اردو کے خاموش خادم*

تحریر: ابوشحمہ انصاری
سعادت گنج، بارہ بنکی

قصبہ سعادت گنج کی سرزمین ہمیشہ سے علم و ادب، شعر و سخن اور اردو زبان سے محبت کرنے والوں کے لیے زرخیز رہی ہے۔ اس سرزمین نے وقتاً فوقتاً ایسے ادباء، شعراء، اہلِ قلم اور اردو کے شیدائیوں کو جنم دیا ہے جنہوں نے اپنی صلاحیتوں، محنت اور خلوص سے زبان و ادب کی خدمت کی ہے۔ یہاں اردو سے محبت محض اظہارِ خیال تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس کی ترویج و اشاعت کے لیے عملی طور پر کام کرنے والے افراد بھی موجود رہے ہیں۔ انہی مخلص اور خاموش خدمت گزاروں میں ارشاد انصاری صاحب کا نام بھی قابلِ ذکر اور لائقِ احترام ہے، جنہوں نے اپنی فنی مہارت، ادبی ذوق اور بے لوث جذبۂ خدمت سے اردو زبان و صحافت کے لیے قابلِ قدر کردار ادا کیا ہے۔
زندگی میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا احسان وقت گزرنے کے ساتھ کم ہونے کے بجائے مزید گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔ ان کی دی ہوئی تعلیم، شفقت اور ان کے ساتھ گزارے ہوئے چند لمحے انسان کی زندگی کا قیمتی سرمایہ بن جاتے ہیں۔ استاد کا رشتہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ وہ محض کتابوں کا علم نہیں دیتا، بلکہ اپنے شاگرد کے لیے ترقی اور کامیابی کی راہیں ہموار کرتا ہے۔ میرے لیے ارشاد انصاری صاحب بھی ایسی ہی قابلِ احترام شخصیت ہیں، جنہوں نے مجھے کمپیوٹر کی ابتدائی تعلیم دے کر ایک ایسا ہنر سکھایا جس کی بدولت آج میں اپنا اخبار ’’صدائے بسمل‘‘ آپ کے سامنے پیش کرنے کے قابل ہوں۔ میرے دل میں ان کے لیے جو عزت، محبت اور عقیدت ہے، اسے چند سطروں میں سمیٹنا آسان نہیں۔ تاہم، آج ماضی کے ان خوش گوار دنوں کو یاد کرتے ہوئے میں ان کی خدمات اور احسانات کا اعتراف کرنا اپنا اخلاقی فرض سمجھتا ہوں۔
یہ اُس زمانے کی بات ہے جب کمپیوٹر عام لوگوں کی دسترس میں نہیں تھا۔ سرکاری دفاتر اور چند مخصوص اداروں کے علاوہ بہت کم جگہوں پر کمپیوٹر دکھائی دیتے تھے۔ آج کی طرح ہر ہاتھ میں موبائل اور ہر گھر میں کمپیوٹر ہونے کا تصور بھی عام نہیں تھا۔ اُس وقت سفید رنگ کے مانیٹر والا کمپیوٹر ایک نئی اور دلچسپ دنیا کی علامت تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں صبح سات بجے ارشاد انصاری صاحب کے والدِ محترم، سیٹھ مشتاق احمد انصاری صاحب مرحوم، کے ساتھ ان کی دکان پر جایا کرتا تھا۔ مشتاق صاحب اور ہمارے دادا محمد شفیع انصاری صاحب کے درمیان دوستانہ تعلق تھا۔ نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد دادا کے پاس بیٹھنا، کچھ گفتگو کرنا اور دوسرے احباب کے ساتھ وقت گزارنا مشتاق صاحب کا روزانہ کا معمول تھا۔ اس نشست میں کئی احباب بھی موجود رہتے تھے۔ میں بھی اکثر صبح اپنے دادا کے ساتھ بیٹھا کرتا تھا اور بزرگوں کی گفتگو سے لطف اندوز ہوتا تھا۔ ان کی باتوں اور تجربات سے مجھے زندگی گزارنے کے سلیقے سیکھنے کا موقع ملا۔ آج جب ماضی کی طرف پلٹ کر دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ ان بزرگوں کی صحبت نے زندگی کو سمجھنے میں میری بڑی مدد کی۔ ان کی محفل میں اپنائیت بھی تھی اور شفقت بھی، جس کی یادیں آج تک میرے ذہن میں محفوظ ہیں۔
دکان پر پہنچ کر میں اکثر صفائی وغیرہ کے کاموں میں ہاتھ بٹاتا اور پھر ارشاد انصاری صاحب کی آمد کا انتظار کرتا۔ ان کے تشریف لاتے ہی میری کمپیوٹر کی کلاس شروع ہو جاتی۔ وہ مجھے ان پیج پر اے فور سائز کا ایک صفحہ بنا کر دیتے اور سامنے کی بورڈ کا نقشہ رکھ دیتے، تاکہ میں حروف کو پہچان کر ٹائپنگ کی مشق کر سکوں۔ میں اپنی دھن میں ٹائپ کرتا رہتا، یہاں تک کہ پورا صفحہ بھر جاتا۔ پھر لکھے ہوئے متن کو مٹا کر دوبارہ مشق شروع کر دیتا۔ یہ سلسلہ بار بار جاری رہتا۔ آج بظاہر یہ ایک معمولی سی مشق محسوس ہو سکتی ہے، لیکن اُس وقت میرے لیے یہ ایک نئی دنیا سے آشنائی کا ذریعہ تھی۔ ارشاد صاحب نے بڑی خاموشی اور مستقل مزاجی کے ساتھ میری انگلیوں کو کی بورڈ سے واقف کرایا اور مجھے کمپوزنگ کے ابتدائی مراحل سے روشناس کرایا۔ ان کی اسی محنت کا نتیجہ ہے کہ آج میں کمپیوٹر پر اردو کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اپنی صحافتی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہوں۔
ارشاد انصاری صاحب کی سب سے نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا شور نہیں مچاتے، بلکہ خاموشی سے اپنے کام کے ذریعے پہچانے جاتے ہیں۔ وہ اردو کے ان مخلص خادموں میں شامل ہیں جو شہرت اور نمائش سے دور رہ کر زبان و ادب کی خدمت کرتے ہیں۔ ان کے اندر کئی ایسی خوبیاں پوشیدہ ہیں جن سے واقف ہونے کے لیے ان کے قریب بیٹھنا اور ان کے ساتھ وقت گزارنا ضروری ہے۔ وہ اپنے ہنر پر قدرت رکھتے ہیں، مگر ان کی شخصیت کی اصل خوب صورتی یہ ہے کہ وہ اپنے علم اور تجربے کو دوسروں تک پہنچانے میں بخل سے کام نہیں لیتے۔ میرے نزدیک کسی ہنرمند کی عظمت صرف اس بات میں نہیں کہ وہ خود کتنا اچھا کام کرتا ہے، بلکہ اس میں بھی ہے کہ وہ دوسروں کو اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کے قابل بنانے کے لیے کتنا وقت اور محنت صرف کرتا ہے۔ ارشاد صاحب اس خوبی کی ایک عمدہ مثال ہیں۔
ان کی ایک دلچسپ عادت بھی ہے، جس کا ذکر کیے بغیر ان کی شخصیت کا خاکہ ادھورا رہے گا۔ وہ کبھی کبھی بھولنے میں بھی اپنی مثال آپ نظر آتے ہیں۔ ان کے مزاج میں موجود یہ بے ساختگی ان کی شخصیت کو مزید دلچسپ بنا دیتی ہے۔ البتہ کمپوزنگ کے معاملے میں ان کا معیار بہت سخت ہے۔ ان کے بقول، ’’اگر ہماری کمپوزنگ میں کوئی کمی نہ رہ جائے تو سمجھ لیجیے کہ ہم نے کمپوزنگ کی ہی نہیں۔‘‘ ان کے اس جملے میں بظاہر مزاح کا رنگ ہے، لیکن حقیقت میں یہ ان کی پیشہ ورانہ دیانت داری اور کام کے معیار کے بارے میں ان کے سنجیدہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ جو کام بھی ان کے ہاتھ سے نکلے، وہ درست، صاف ستھرا اور قابلِ اعتماد ہو۔ یہی وہ وصف ہے جو ایک عام کاریگر کو اپنے فن کا ماہر بناتا ہے۔
اردو صحافت کے میدان میں بھی ارشاد انصاری صاحب کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ وہ مختلف اردو اخبارات میں بطور کاتب اپنی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں اور اردو کی اشاعت و ترویج میں اپنا حصہ ڈالتے رہے ہیں۔ اخبارات کے صفحات پر شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور دیگر تحریروں کے پیچھے ایسے ہی ہنرمندوں کی محنت شامل ہوتی ہے، جن کے نام اکثر قارئین کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں، مگر جن کے بغیر اشاعت کا عمل مکمل نہیں ہو سکتا۔ ارشاد صاحب بھی انہی خاموش کارکنوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے فن کے ذریعے اردو صحافت کی خدمت کی ہے۔ موجودہ وقت میں وہ ضلع بارہ بنکی کے قصبہ سعادت گنج میں واقع مدرسہ اسلامیہ فیضان العلوم میں بطور مینیجر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، جبکہ فیضان العلوم انٹر کالج (ایف یو) کے صدر کی ذمہ داری بھی انجام دے رہے ہیں۔ ان کا یہ سفر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ محنت، تجربہ اور ذمہ داری کا احساس انسان کو مختلف میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ان کی شخصیت کا ایک اور قابلِ تحسین پہلو ان کی بے لوثی ہے۔ میں نے خود کئی مرتبہ دیکھا ہے کہ اگر کوئی شخص ان کے پاس اردو یا دینی موضوعات سے متعلق مواد کمپوز کرانے کی غرض سے آتا ہے تو وہ اکثر معاوضہ لینے سے گریز کرتے ہیں۔ ان کے لیے یہ کام محض روزگار کا ذریعہ نہیں، بلکہ زبان اور دین سے وابستہ خدمت کا ایک پہلو بھی ہے۔ آج کے دور میں، جب بیشتر کاموں کا معیار ان سے حاصل ہونے والے مالی فائدے سے طے کیا جاتا ہے، ارشاد صاحب جیسے لوگ یاد دلاتے ہیں کہ ہنر کی اصل قدر اس وقت بڑھتی ہے جب اس کے ساتھ خلوص اور خدمت کا جذبہ بھی شامل ہو۔ انہوں نے اپنے فن کو صرف پیسے کمانے کا وسیلہ نہیں بنایا، بلکہ ضرورت مندوں کے کام آنا بھی اپنی زندگی کا حصہ رکھا ہے۔ میرے نزدیک یہی وہ وصف ہے جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔
’’صدائے بسمل‘‘ کے عنوان کی ڈیزائننگ کا ذکر ہو تو ارشاد انصاری صاحب کا نام خصوصی طور پر لیا جانا چاہیے۔ میرے اخبار کے ٹائٹل کو خوب صورت اور مناسب انداز دینے میں انہی کی فنی مہارت شامل ہے۔ کسی اخبار کا ٹائٹل محض چند الفاظ کی ترتیب نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس کی شناخت، مزاج اور پہچان کا پہلا تعارف ہوتا ہے۔ ارشاد صاحب نے اپنی صلاحیتوں کے ذریعے اس شناخت کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جب میں اپنے اخبار کو دیکھتا ہوں تو اس میں اپنی محنت کے ساتھ ان کی مہارت اور تعاون کا عکس بھی محسوس کرتا ہوں۔ یہ میرے لیے محض ایک پیشہ ورانہ تعاون نہیں، بلکہ اس شخص کے احسان کا اعتراف ہے جس نے مجھے کمپیوٹر کی ابتدائی تعلیم دی اور بعد میں میرے صحافتی سفر سے وابستہ ایک اہم کام میں بھی اپنا حصہ ڈالا ہے۔
ارشاد انصاری صاحب صرف کمپیوٹر اور کمپوزنگ کے ماہر ہی نہیں، بلکہ ایک خوش مزاج، ملنسار اور باصلاحیت انسان بھی ہیں۔ کھیلوں سے ان کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ والی بال کے بہترین کھلاڑیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ کھیل انسان میں نظم و ضبط، برداشت، ٹیم ورک اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا جذبہ پیدا کرتا ہے، اور یہ خوبیاں ان کی مجموعی شخصیت میں بھی نمایاں محسوس ہوتی ہیں۔ اسی طرح ادبی محفلوں سے بھی ان کا گہرا تعلق رہا ہے۔ وہ کئی مشاعروں کے انعقاد میں اپنا کردار ادا کر چکے ہیں۔ اردو زبان و ادب سے وابستگی رکھنے والے افراد کے لیے مشاعرے صرف تفریح کا ذریعہ نہیں ہوتے، بلکہ وہ زبان کی بقا، شعری ذوق کی آبیاری اور ادبی روایت کو آگے بڑھانے کا ایک اہم وسیلہ بھی ہیں۔ ارشاد صاحب کی ادبی سرگرمیاں ان کی ہمہ جہت شخصیت کا ایک اور روشن پہلو ہیں۔
میرے لیے ارشاد انصاری صاحب کی اہمیت صرف ان کی صلاحیتوں اور خدمات کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کے خلوص اور ذاتی تعلق کی وجہ سے بھی بہت زیادہ ہے۔ وہ میرے والدِ محترم ذکی طارق بارہ بنکوی صاحب کے ہم عمر ہیں اور میرے ساتھ ہمیشہ ایک شفیق چچا جیسا برتاؤ کرتے رہے ہیں۔ ان کے رویے میں اپنائیت، محبت اور بزرگوں جیسی شفقت رہی ہے۔ میں نے انہیں ہمیشہ ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھا ہے جو لوگوں کے ساتھ اچھا تعلق قائم رکھنا جانتا ہے اور دوسروں کے جذبات کا احترام کرتا ہے۔ میرے مشاہدے میں انہوں نے کبھی کسی کو جان بوجھ کر ناراض کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ایسے لوگ معاشرے میں محبت اور باہمی احترام کی فضا قائم رکھتے ہیں۔ ان کی موجودگی سے رشتوں میں گرم جوشی اور تعلقات میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔
ان کے والدِ محترم سیٹھ مشتاق احمد انصاری صاحب مرحوم کا ذکر بھی میرے لیے جذباتی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ مجھے بہت عزیز رکھتے تھے اور ان کی شفقت مجھے ہمیشہ یاد رہے گی۔ وہ ہمارے قصبے میں کئی مرتبہ گرام پردھان کی ذمہ داری بھی انجام دے چکے تھے۔ ان کی شخصیت میں عوامی تعلق، ملنساری اور بزرگوں والی محبت کے جو نقوش میں نے دیکھے، وہ آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہیں۔ چند سال قبل وہ اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔ بعض انسان دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی اپنے اخلاق اور اچھے برتاؤ کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ مشتاق انصاری صاحب بھی انہی خوش نصیب لوگوں میں سے تھے۔
آج جب میں ماضی کی طرف پلٹ کر دیکھتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ زندگی کے سفر میں بعض چھوٹے دکھائی دینے والے واقعات دراصل بڑے نتائج کی بنیاد ہوتے ہیں۔ صبح سات بجے دکان پر جانا، کمپیوٹر کے سامنے بیٹھنا، ان پیج پر ایک صفحہ کھولنا، کی بورڈ کے نقشے کی مدد سے حروف تلاش کرنا اور صفحہ بھر جانے پر دوبارہ مشق شروع کر دینا، یہ سب بظاہر معمولی باتیں تھیں، مگر انہی سے میرے اندر کمپیوٹر اور اردو کمپوزنگ کا شوق پروان چڑھا۔ اگر ارشاد انصاری صاحب نے اس وقت میری رہنمائی نہ کی ہوتی، مجھے مشق کا موقع نہ دیا ہوتا اور میرے اندر اس ہنر کی بنیاد نہ رکھی ہوتی تو شاید آج میں اس اعتماد کے ساتھ اپنا اخبار ’’صدائے بسمل‘‘ شائع کرنے کے قابل نہ ہوتا۔ اس لیے میں اپنے صحافتی سفر کی بنیادوں میں ان کی محنت کو ہمیشہ یاد رکھوں گا۔
میرے نزدیک کسی استاد کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ اس کے شاگرد اس کا نام کتنی مرتبہ لیتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کی دی ہوئی تعلیم سے کتنے لوگوں کی زندگیوں میں بہتری آتی ہے۔ ارشاد انصاری صاحب نے مجھے جو کچھ سکھایا، وہ میرے لیے محض کمپیوٹر چلانے یا ٹائپنگ کرنے کا ہنر نہیں تھا، بلکہ میرے خواب کو عملی شکل دینے کی سمت ایک اہم قدم تھا۔ آج ’’صدائے بسمل‘‘ کے ذریعے اردو صحافت سے اپنی وابستگی برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہوں تو اس کے پس منظر میں ان کی ابتدائی رہنمائی کا بھی ایک روشن حصہ موجود ہے۔ میں ان کے اس احسان کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ میرے محترم استاد ارشاد انصاری صاحب کو صحت و عافیت والی لمبی عمر عطا فرمائے، ان کے رزق میں برکت دے، ان کے علم و ہنر کو مزید ترقی عطا کرے اور انہیں اسی طرح اردو زبان و ادب کی خدمت کرنے کی توفیق بخشتا رہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی بے لوث خدمات کو قبول فرمائے اور ان کی زندگی کو خوشیوں، سکون اور کامیابیوں سے بھر دے۔ آمین۔
ارشاد انصاری صاحب! آپ نے مجھے کمپیوٹر کے کی بورڈ پر انگلیاں چلانا سکھایا تھا، مگر وقت نے مجھے یہ احساس بھی دلایا کہ آپ نے دراصل میرے خوابوں کو الفاظ دینے کا راستہ دکھایا تھا۔ آج ’’صدائے بسمل‘‘ کی صورت میں جو آواز قارئین تک پہنچ رہی ہے، اس کی بنیادوں میں آپ کی تعلیم، شفقت اور خلوص کا حصہ ہمیشہ شامل رہے گا۔ استاد کا احسان کبھی ادا نہیں کیا جا سکتا، البتہ اسے یاد رکھنا اور برملا تسلیم کرنا شاگرد کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ میرے لیے یہ تحریر اسی ذمہ داری کی ایک چھوٹی سی ادائیگی ہے۔
مضمون نگار آل انڈیا مائناریٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے شعبۂ نشر و اشاعت کے سیکریٹری ہیں۔