Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

# ایس آئی آر کے خلاف کانگریس کی تحریک تیز، ’ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ‘ مہم کے تحت گھر گھر پہنچیں گے کارکنان **مغربی بردوان کی 9 اسمبلی نشستوں میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے پر سوالات، 29 اکتوبر کو ضلع کانگریس کی توسیعی میٹنگ**

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

oplus_0

# ایس آئی آر کے خلاف کانگریس کی تحریک تیز، ’ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ‘ مہم کے تحت گھر گھر پہنچیں گے کارکنان

**مغربی بردوان کی 9 اسمبلی نشستوں میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے پر سوالات، 29 اکتوبر کو ضلع کانگریس کی توسیعی میٹنگ**

**آسنسول:** مغربی بنگال کے مغربی بردوان ضلع میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے دوران بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام حذف کیے جانے اور اپیلوں کے تصفیے میں مبینہ تاخیر کو لے کر ضلع کانگریس نے الیکشن کمیشن کی کارروائی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کانگریس رہنماؤں نے الزام لگایا کہ اس عمل میں شفافیت کی کمی اور اپیلوں کے زیر التوا رہنے سے اہل ووٹروں کے حقِ رائے دہی پر اثر پڑ سکتا ہے۔ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ ’ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ‘ مہم کے تحت تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا اور متاثرہ ووٹروں کی شکایات انتظامیہ اور انتخابی حکام کے سامنے رکھی جائیں گی۔

ضلع کانگریس کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس میں ضلع صدر ہرجیت سنگھ، آل انڈیا کانگریس کمیٹی (AICC) کے رکن دیویش بھٹاچاریہ، ضلع جنرل سکریٹری پاملو مجمدار، ششی دوبے، پریم سنگھ اور کمل جیت کور سمیت دیگر رہنما موجود تھے۔ رہنماؤں نے ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے اور متاثرہ افراد کی اپیلوں کے تصفیے میں مبینہ تاخیر پر تشویش ظاہر کی۔

*## ہرجیت سنگھ نے تحریک تیز کرنے کا اعلان کیا*

ضلع کانگریس صدر ہرجیت سنگھ نے کہا کہ کانگریس ایس آئی آر کے معاملے پر مسلسل آواز اٹھا رہی ہے۔ پارٹی کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کسی بھی اہل شہری کو ووٹ دینے کے آئینی حق سے محروم نہ ہونا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ ضلع کی نو اسمبلی نشستوں میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے اور متعدد معاملات زیر التوا رہنے پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کانگریس کارکنان مختلف محلوں میں چھوٹی چھوٹی میٹنگیں کریں گے اور گھر گھر پہنچ کر متاثرہ ووٹروں کی شکایات اور متعلقہ دستاویزات جمع کریں گے۔

اس کے بعد ضلع مجسٹریٹ اور متعلقہ انتخابی افسران سے ملاقات کرکے متاثرہ افراد کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک اہل ووٹروں کے مسائل حل نہیں ہوتے، پارٹی کی تحریک جاری رہے گی۔

*## دیویش بھٹاچاریہ نے اپیلوں کے زیر التوا رہنے پر اٹھائے سوالات*

اے آئی سی سی رکن دیویش بھٹاچاریہ نے کہا کہ ووٹر لسٹ میں شفافیت اور اپیلوں کا وقت پر تصفیہ جمہوری نظام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بڑی تعداد میں نام حذف کیے جانے کے بعد اپیل کرنے والے افراد کو بروقت راحت نہیں مل رہی ہے۔

کانگریس رہنماؤں کے مطابق، الیکشن کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ میں داخل حلف نامے سے متعلق پارٹی کے پیش کردہ اعداد و شمار میں مغربی بردوان ضلع میں نام حذف کیے جانے کے خلاف **64,829 اپیلوں** کا ذکر کیا گیا تھا۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ متعلقہ تاریخ تک ان میں سے صرف **934 معاملات** کا تصفیہ ہوا تھا، جبکہ **63,895 اپیلیں زیر التوا** تھیں۔

کانگریس نے ان اعداد و شمار کی بنیاد پر اپیلوں کے تصفیے کی رفتار پر سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ متاثرہ ووٹروں کو جلد انصاف فراہم کیا جائے۔ پارٹی نے یہ بھی کہا کہ نام حذف کرنے کی وجوہات واضح ہونی چاہئیں اور ہر اہل شہری کو اپنا موقف پیش کرنے کا مناسب موقع ملنا چاہیے۔

*## نو اسمبلی نشستوں کے اعداد و شمار پیش کیے*

پریس کانفرنس میں کانگریس رہنماؤں نے کُلٹی، آسنسول جنوبی، آسنسول شمالی، بارابنی، جاموڑیا، رانی گنج، پانڈویشور، درگاپور مشرقی اور درگاپور مغربی اسمبلی حلقوں کے اعداد و شمار پیش کیے۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ ان علاقوں میں بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام حذف ہوئے ہیں اور ان اعداد و شمار کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے۔

کانگریس کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پانڈویشور اسمبلی حلقے میں ووٹر لسٹ سے مجموعی طور پر 35,409 نام کم ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ پارٹی کے مطابق، پہلے شائع شدہ فہرست میں یہاں 2,18,507 ووٹر تھے، جبکہ 7 اکتوبر 2025 کی پری ڈرافٹ فہرست میں یہ تعداد 2,18,573 بتائی گئی تھی۔ اس کے بعد 16 دسمبر 2025 کی ڈرافٹ فہرست میں 25,307 نام کم ہونے اور حتمی فہرست میں مزید 10,102 نام گھٹنے کا دعویٰ کیا گیا۔

کانگریس نے مطالبہ کیا کہ ان اعداد و شمار کا الیکشن کمیشن کے سرکاری ریکارڈ سے موازنہ کرکے جانچ کی جائے۔ پارٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ ووٹر لسٹ سے نام حذف ہونے اور کسی امیدوار کی انتخابی جیت کے درمیان براہِ راست تعلق ثابت کرنے کے لیے الگ شواہد ضروری ہیں۔
*
*## ٹریبونل میں اپیل نہ کرنے والے ووٹروں کی صورتحال پر تشویش**

کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ جن ووٹروں کے ناموں پر اعتراض کیا گیا ہے یا جن کے نام مسترد ہونے کی اطلاع ہے، ان میں سے کئی افراد نے اب تک ٹریبونل میں اپیل نہیں کی ہے۔ پارٹی ایسے لوگوں کی صورتحال اور اپیل نہ کرنے کی وجوہات جاننے کی کوشش کرے گی۔

کانگریس کارکنان اور بوتھ سطح کے نمائندے متاثرہ افراد سے رابطہ کرکے شکایات، دستاویزات اور اپیلوں کی موجودہ صورتحال کی تفصیلات جمع کریں گے۔ بعد ازاں یہ معلومات ضلع انتظامیہ اور متعلقہ انتخابی حکام کو پیش کی جائیں گی۔

پارٹی نے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے ووٹر شناختی دستاویزات اور ووٹر لسٹ میں اپنے نام کی موجودگی کی جانچ کریں۔ اگر نام سے متعلق کوئی مسئلہ ہو تو مقامی کانگریس رہنماؤں یا بوتھ نمائندوں سے رابطہ کریں۔

*## ششی دوبے نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ دہرایا*

کانگریس رہنما ششی دوبے نے ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خصوصی گہری نظرثانی کے دوران ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کے عمل میں کئی سطحوں پر وضاحت کی کمی ہے۔

انہوں نے راہل گاندھی کی جانب سے ووٹر لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں پر اٹھائے گئے سوالات کا بھی ذکر کیا۔ ششی دوبے نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی زندہ شخص کو مردہ ظاہر کرکے اس کا نام حذف کیا گیا ہے یا کسی اہل ووٹر کا نام غلط طریقے سے ہٹایا گیا ہے تو ایسے معاملات کی جانچ ہونی چاہیے۔

انہوں نے آدھار کارڈ، پیدائش کے سرٹیفکیٹ اور دیگر دستاویزات کی قبولیت کے بارے میں واضح رہنما ہدایات جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا، تاکہ ووٹروں کو غیر ضروری پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

*## 29 اکتوبر کو ضلع کانگریس کی توسیعی میٹنگ*

کانگریس رہنماؤں نے بتایا کہ **29 اکتوبر کو مغربی بردوان ضلع کانگریس کمیٹی کی توسیعی میٹنگ** منعقد کی جائے گی۔ اس میں اے آئی سی سی اور پردیش کانگریس کمیٹی کے اراکین، ضلع کمیٹی کے نمائندے، بوتھ لیول ایجنٹس اور پارٹی کی مختلف تنظیموں کے عہدیداران شرکت کریں گے۔

اس کے بعد بوتھ لیول ایجنٹ-2 کے لیے تربیتی پروگرام منعقد کیا جائے گا۔ کانگریس کارکنان تقریباً 20 سے 21 دن تک ضلع کے مختلف علاقوں میں گھر گھر جاکر ووٹروں سے رابطہ کریں گے۔ اس دوران ان افراد کی تفصیلات جمع کی جائیں گی جن کے نام ووٹر لسٹ سے حذف ہوئے ہیں، جن کے معاملات زیر التوا ہیں یا جنہوں نے ٹریبونل میں اپیل کی ہے۔

پارٹی نے یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں مجوزہ پروگرام کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایس آئی آر کے خلاف قومی سطح پر احتجاج درج کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

*## ’ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ‘ مہم جاری رکھنے کا اعلان*

ضلع کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ ووٹر لسٹ میں شفافیت، شکایات کا غیر جانبدارانہ تصفیہ اور اہل ووٹروں کے حقوق کا تحفظ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ پارٹی نے خدشہ ظاہر کیا کہ اپیلوں کا وقت پر تصفیہ نہ ہونے سے آئندہ آسنسول اور درگاپور میونسپل کارپوریشن انتخابات میں بھی متاثرہ ووٹروں کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

کانگریس نے اعلان کیا کہ مغربی بردوان ضلع میں ’ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ‘ مہم کے تحت عوامی رابطہ اور احتجاج جاری رہے گا۔ پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ حقِ رائے دہی کا تحفظ جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے اور اس معاملے کو انتظامیہ، الیکشن کمیشن اور قانونی فورمز پر مسلسل اٹھایا جائے گا۔

**نوٹ:** اپیلوں اور ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے سے متعلق تمام اعداد و شمار کانگریس کی جانب سے پیش کردہ دعووں پر مبنی ہیں۔