Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*تاج گر رہا ہے*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16908288

*تاج گر رہا ہے*

مملکتِ نورآباد کبھی اپنی خوش حالی، سرسبز کھیتوں، آباد بازاروں اور محنتی عوام کے لیے مشہور تھی۔ یہاں کے لوگ سادہ زندگی گزارتے تھے، مگر ان کی آنکھوں میں مستقبل کے ہزاروں خواب روشن تھے۔ کسان زمین میں بیج بوتا تو اسے یقین ہوتا کہ فصل اس کے بچوں کا پیٹ بھرے گی۔ مزدور اینٹ پر اینٹ رکھتا تو سوچتا کہ اس کے بچوں کو ایک مضبوط چھت نصیب ہوگی۔ طالب علم کتاب کھولتا تو اسے امید ہوتی کہ علم اس کے مقدر کو بدل دے گا۔
لیکن وقت نے کروٹ بدلی۔
ملک کا وزیراعظم، نریندر شاہ، اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوا تو اس نے عوام سے وعدہ کیا:

’’میں اس ملک کی تقدیر بدل دوں گا۔ ہر گھر میں خوش حالی ہوگی، ہر ہاتھ کو روزگار ملے گا، ہر بچے کو تعلیم اور ہر بیمار کو علاج میسر ہوگا۔‘‘

عوام نے تالیاں بجائیں۔ ماؤں نے دعائیں دیں، نوجوانوں نے خواب دیکھے اور بوڑھوں نے سمجھا کہ شاید اب ان کی زندگی کی آخری شام سکون سے گزرے گی۔
سال گزرنے لگے وقت کروٹیں بدلتے لگا کسی کو معلوم نہ تھا کہ ان خوب صورت وعدوں کے پیچھے ایک ایسا شخص چھپا بیٹھا ہے جس کے لیے ملک ایک امانت نہیں، بلکہ ذاتی جاگیر ہے
چند سال گزرے تو نورآباد کی صورت بدلنے لگی۔

مہنگائی نے غریب کے دسترخوان سے روٹی چھین لی۔ بے روزگاری نے نوجوانوں کے ہاتھوں سے امید کا چراغ بجھا دیا۔ سرکاری اسپتالوں میں دوائیں ختم ہونے لگیں، اسکولوں کی چھتیں ٹپکنے لگیں اور کسان اپنی زمینیں گروی رکھنے پر مجبور ہوگئے۔

لیکن وزیراعظم نریندر شاہ کے محل میں روشنی پہلے سے زیادہ تھی۔

ہر شام محفلیں سجتیں، قیمتی دسترخوان بچھتے اور مشیروں کی فوج وزیراعظم کو یقین دلاتی:

’’حضور! ملک ترقی کر رہا ہے۔ عوام آپ کے ساتھ ہیں۔ ہر طرف خوش حالی ہے۔ آپ مختلف ممالک کا دورہ کریں اور ملک کو اس خوشحالی میں جینے دیے‘‘

وزیراعظم مسکراتا اور کہتا:

’’تو پھر یہ شور کیسا ہے جو باہر سے سنائی دیتا ہے؟‘‘

ایک وزیر نے ادب سے سر جھکایا۔

’’حضور، یہ چند شرپسند کوکروچ قسم کے لوگ ہیں۔ انہیں ترقی پسند نہیں۔‘‘

وزیراعظم نے کھڑکی بند کر دی۔

اسے کیا معلوم تھا کہ باہر اٹھنے والا شور کسی سازش کا نہیں، بھوکے بچوں کے رونے، بے روزگار نوجوانوں کی آہوں اور بے بس ماؤں کی سسکیوں کا شور تھا۔

اس نے سوال کرنے والوں کو خاموش کرنا شروع کر دیا۔ اختلاف کرنے والوں کو دشمن کہا جانے لگا۔ اخبارات میں کامیابیوں کی خبریں چھپتیں، مگر بھوک کی تصویریں غائب ہوتی گئیں۔

یوں حقیقت کو بدلنے کے بجائے حقیقت کے آئینے توڑ دیے گئے۔

ایسی شہر کے ایک پرانے محلے میں عبدالرحیم نام کا ایک بوڑھا استاد رہتا تھا۔ اس نے اپنی پوری زندگی بچوں کو تعلیم دینے میں گزار دی تھی۔ اس کے شاگردوں میں ڈاکٹر بھی تھے، انجینئر بھی، کسان بھی اور مزدور بھی۔

ایک دن وہ وزیراعظم کے دربار میں پہنچا۔

اس کے ہاتھ میں ایک پرانی کتاب اور چند کاغذ تھے۔

وزیراعظم نے پوچھا، ’’بابا! کیا مانگنے آئے ہو؟‘‘

استاد نے جواب دیا، ’’میں اپنے لیے کچھ مانگنے نہیں آیا۔ میں اس ملک کے بچوں کا مستقبل مانگنے آیا ہوں۔‘‘

وزیراعظم ہنس پڑا۔

’’کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم نے ملک کو ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے؟‘‘

استاد نے آہستہ سے کہا:

’’حضور! ترقی وہ نہیں جو محل کی دیواروں پر نظر آئے۔ ترقی وہ ہے جو غریب کے گھر میں روٹی، بیمار کے لیے دوا اور بچے کے ہاتھ میں کتاب بن کر پہنچے۔ آپ نے سڑکیں تو بنائیں، مگر منزلیں چھین لیں۔ آپ نے تقریریں تو کیں، مگر لوگوں کی آوازیں دبا دیں۔ آپ نے ملک کے نام پر خزانے بھرے، مگر ان خزانوں میں عوام کا حصہ کہاں ہے؟‘‘

دربار میں خاموشی چھا گئی۔

وزیراعظم کا چہرہ سرخ ہوگیا۔

’’باہر نکالو اس بوڑھے کو! یہ حکومت کے خلاف نفرت پھیلاتا ہے۔‘‘

سپاہی استاد کو دروازے تک لے گئے۔

جاتے جاتے استاد نے پلٹ کر کہا:

’’بادشاہ سلامت! یاد رکھیے، تخت لکڑی اور پتھر سے نہیں گرتا۔ تخت اس دن گرتا ہے جب اس کے نیچے بیٹھنے والے انسانوں کا اعتماد کھو دیتے ہیں۔‘‘

یہ الفاظ وزیراعظم کے کانوں سے ٹکرائے، مگر اس کے دل تک نہ پہنچ سکے۔
ایک سال ملک میں شدید قحط پڑا۔ کھیت سوکھ گئے، کارخانے بند ہوگئے اور بازاروں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔

عوام نے حکومت سے مدد مانگی۔

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ ملک تاریخ کی سب سے بڑی ترقی کر رہا ہے۔ اسی روز دارالحکومت میں ایک عظیم الشان جشن منایا گیا۔ آتش بازی ہوئی، بڑے بڑے بینر لگے اور اسٹیج پر وزیراعظم کی تصویریں آویزاں کی گئیں۔

جشن کے قریب ہی ایک بچہ اپنی ماں سے پوچھ رہا تھا:

’’امی! کیا آج ہمیں کھانا ملے گا؟‘‘

ماں نے اسے سینے سے لگایا اور آنسو چھپاتے ہوئے کہا:

’’بیٹا، شاید کل۔‘‘

بچے نے اسٹیج کی طرف دیکھا جہاں وزیراعظم کہہ رہا تھا:

’’میرے پیارے بھائیو اور بہنوں! ہماری کامیابیوں کا کوئی مقابلہ نہیں!‘‘

بچے نے معصومیت سے پوچھا:

’’امی، اگر ملک اتنا کامیاب ہے تو ہم بھوکے کیوں ہیں؟‘‘

ماں کے پاس جواب نہیں تھا۔

کبھی کبھی ایک بچے کا سوال ہزاروں تقریروں سے زیادہ طاقت ور ہوتا ہے۔

اسی رات وزیراعظم نے خواب دیکھا کہ وہ ایک وسیع میدان میں تنہا کھڑا ہے۔ اس کے سامنے ایک عظیم الشان تخت ہے، مگر تخت کے نیچے زمین پھٹی ہوئی ہے۔ وہ چیخ کر محافظوں کو بلاتا ہے، مگر کوئی جواب نہیں آتا۔

دور سے ایک آواز آتی ہے:

’’تم نے ملک کو اپنا سمجھا، مگر ملک کے لوگوں کو اپنا نہ سمجھ سکے۔‘‘

وہ گھبرا کر جاگ اٹھا۔

صبح ہوتے ہی اس نے اپنے مشیروں کو بلایا اور حکم دیا کہ اس کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو بند کر دیا جائے۔

اسے اپنی غلطیوں سے ڈر نہیں لگتا تھا؛ اسے صرف اقتدار کھونے کا خوف تھا۔

وقت گزرتا رہا۔ سچ کو جتنا دبایا گیا، وہ اتنا ہی پھیلتا گیا۔ لوگوں نے اپنے مسائل ایک دوسرے سے بیان کرنا شروع کیے۔ نوجوانوں نے سوال اٹھائے۔ کسانوں نے اپنے حقوق کی بات کی۔ اساتذہ نے قلم اٹھایا اور مزدوروں نے اپنی آواز بلند کی۔

ایک دن شہر کے مرکزی میدان میں ہزاروں لوگ جمع ہوگئے۔

ان کے ہاتھوں میں ہتھیار نہیں، سوالات تھے۔

ان کے نعروں میں نفرت نہیں، انصاف کی طلب تھی۔

بوڑھا استاد بھی وہاں موجود تھا۔ اس نے لوگوں سے کہا:

’’ہمیں کسی انسان سے دشمنی نہیں کرنی۔ ہمیں اس نظام سے سوال کرنا ہے جو حکمران کو جواب دہ ہونے کے بجائے خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتا ہے۔ ہمیں ایسا ملک چاہیے جہاں حکمران عوام کا مالک نہیں، خادم ہو۔‘‘

یہ الفاظ لوگوں کے دلوں میں اتر گئے۔

وزیراعظم نے محل کی بالکونی سے مجمع دیکھا۔ پہلی مرتبہ اسے احساس ہوا کہ جس عوام کو وہ کمزور سمجھتا تھا، وہی اس کی اصل طاقت تھی۔ اس نے تقریر کرنے کے لیے مائیک اٹھایا، مگر اس کے پاس وعدوں کے سوا کچھ نہ تھا۔

اس نے کہا:

’’میرے پیارے بھائیو اور بہنوں! میں نے آپ کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔‘‘

مجمع میں سے ایک آواز ابھری:

’’ہمیں بتائیے، آپ نے ہمارے لیے کیا کیا، اور ہم سے کیا چھینا؟‘‘

وزیراعظم خاموش ہوگیا۔

اس دن نورآباد میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ عوام نے آئینی اور پُرامن طریقے سے تبدیلی کا مطالبہ کیا اور ملک کے مستقبل کا فیصلہ قانون، انتخابات اور عوامی احتساب کے ذریعے کرنے پر اصرار کیا۔

وزیراعظم کا اقتدار باقی رہتا یا ختم ہوجاتا، اب ایک سوال سب سے بڑا بن چکا تھا: کیا کوئی حکمران عوام کے اعتماد کے بغیر حکومت کرسکتا ہے؟

کچھ عرصے بعد وزیراعظم کا نام تاریخ کی کتابوں میں درج ہوا۔ اس کے محل، تقریریں اور منصوبے بھی لکھے گئے، لیکن ان کے ساتھ ان لوگوں کی کہانیاں بھی محفوظ ہوئیں جنہوں نے اس کے دور میں بھوک، بے روزگاری اور ناانصافی کا سامنا کیا تھا۔

بوڑھے استاد کی وہی پرانی کتاب ایک اسکول میں محفوظ کر دی گئی۔ اس کے پہلے صفحے پر ایک جملہ لکھا تھا:

’’ملک عمارتوں سے نہیں، انسانوں سے بنتا ہے؛ اور جو حکمران انسانوں کو بھول جائے، وہ ایک دن اپنی حکومت کا مقصد بھی کھو دیتا ہے۔‘‘

نورآباد کے بچوں نے یہ جملہ پڑھا اور اپنے مستقبل کے خواب دوبارہ دیکھنے شروع کیے۔

کیونکہ ملک کی بربادی صرف اس وقت نہیں ہوتی جب خزانے خالی ہوجائیں، سڑکیں ٹوٹ جائیں یا کارخانے بند ہوجائیں۔

ملک کی اصل بربادی اس وقت شروع ہوتی ہے جب حکمران کے لیے عوام کی تکلیف سے زیادہ اپنی تعریف اہم ہوجائے، جب سوال کو جرم اور چاپلوسی کو وفاداری سمجھا جانے لگے، اور جب اقتدار کو امانت کے بجائے ذاتی ملکیت بنا لیا جائے۔

تخت لکڑی کا ہو یا سونے کا، اس کی بنیاد عوام کا اعتماد ہے۔ جب یہ بنیاد ٹوٹ جائے تو تاج سر پر رہ کر بھی حکمران کو بے تاج کر دیتا ہے۔

*طارق اطہر حسین*
عبدالحمید نگر برنپور آسنسول مغربی بنگال
9563691626