مولانا محمد علیم الدین فیضی الرضوی خطیب وامام ایم،اے،ایم،سی جامع مسجد درگاپور سے ملی اطلاع کےمطابق
18 فروری بروزِ ہفتہ بعد نمازِ عشاء اراکینِ مدرسہ اہلسنت مخدوم العلوم سری پور بازار کے زیرِاہتمام فقیہِ ملت حضرت علامہ ومولانا مفتی محمد حسن رضا نوری چیف مفتی مرکزی ادارۂ شرعیہ پٹنہ بہار کی صدارت میں مدرسہ اہلسنت مخدوم العلوم سری پور بازارکا 38 واں یک روزہ سالانہ عظیم الشان مخدومِ جہاں کانفرنس وجشنِ دستاربندی انعقادہوا۔اس اجلاس میں ملک کےمشاہیر علماءکرام وشعراء عظام نےشرکت فرمائی ۔خاص طورسے اس عظیم کانفرنس میں خطیب الھند حضرت علامہ مفتی الحاج شہریار رضا خلیفہ حضور تاج الشریعہ پورنوی بہارنے حالاتِ حاضرہ اوراصلاحِ معاشرہ پر بھرپورروشنی ڈالی مولاناموصوف نے فرمایاکہ اسلام ایک پاکیزہ مذہب ہے اسلام ایک مضبوط مذہب ہے اسلام سادگی کا مذہب ہے جواس کےدامن میں آگیا وہ امن وشانتی پاگیا۔اسلام جب اتنا پاکیزہ، مضبوط اورسادگی والا مذہب ہے تواس راہ پر چلنےوالےکا کرداربھی پاکیزہ ہوناچاہئے۔ لیکن ہمارے طور طریقےاورحالات بالکل برعکس ہیں ۔ سادگی جوہمارےایمان کا حصہ تھا ، سادگی جو ہمارے کلچرکاحصہ تھا۔ ہم نےفلمی شادی رچائی ہم نے صرف کافروں کے مکان کا مقابلہ کیا۔ میرابچہ ڈی ایم بن جائے گا تو مجھے عزت مل جاۓگی میرابچہ ایم ایل اے بن جاۓگا تو مجھے عزت مل جاۓ گی۔ میرا اپناآدمی ایم پی اور مکھ منتری بن جاۓگاتو مجھے عزت مل جاۓگی ایسا نہیں ہوگا جس حال میں ہم ہیں سنتیں ترس رہی ہیں کراہ رہی ہیں نہ میرےگھر میں اسلام میں ہے نہ میرےدماغ میں اسلام ہے نہ میری شکل وصورت میں اسلام ہے نہ میری شادی بیاہ میں اسلام ہے صرف دل میں اسلام ہے بظاہر ساراکام کافروں جیسا ہے میری ماں بہنوں کابےپردہ پھرنا شادی کے موقع پر بےپردگی کا دھمال مچانا سج دھج کر برہنہ ہوکر نکلنا کیا یہی اسلام ہے کیا یہی فاطمةالزھراکی سیرت ہے ۔یاد رکھیں حضور اکرمﷺسے محبت ہمارا ایمان کا تقاضہ ہےسیدِ عالمﷺکے فرمان کے مطابق اپنی زندگی گزاریں تعلیمات اور قرآن وسنت کو اپنی زندگی کا معیاربنالیں کیونکہ اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے۔اس کےعلاوہ قرآن وحدیث کی روشنی میں متعدد حقائق سےپردہ اٹھایا جس سے سامعین وحاضرین محظوظ ہوئے۔
حضرت مفتی محمد حسن رضا نوری پٹنہ بہار نے اپنےصدارتی خطبہ میں دین وایمان اورسنتِ مصطفٰے وفرمانِ مصطفٰےپر مدلل روشنی ڈالی مفتی صاحب موصوف نےفرماکہ حدیث پاک کا مفہوم ہے جو جسکی اطاعت وپیروی کرےگا بروزِمحشر اس کاحساب اسی کےساتھ ہوگا الحمد للہ ہملوگ محبِ اولیاء ہیں اور اولیاءاللہ محبِ رسولﷺ ومحبِ صحابہ وائمہ، محبِ سلف وصالحین ہیں ہمیں چاہیۓکے انکی اتباع کریں حرام کام اور گناہِ صغیرہ وگناہِ کبیرہ سے مکمل دور رہیں اور فرمایاکہ اسلامی مدارسِ دین کے قلعہ ہیں اسکی ترقی ، بقا وتحفظ ہماری ذمہ داری ہے اہلِ خیرحضرات اپناتعاون دیکر مدرسہ اہلسنت مخدوم العلوم اوردارالقضاءادارۂ شرعیہ سریپوربازارکو مستحکم بنائیں اس کےعلاوہ متعدد پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
شہنشاہِ ترنم حضرت عبد الوکیل مبارکپوری یوپی ، مداحِ خیرالانام حضرت قاری خوشترسیفی جموئی بہار ، بلبلِ باغِ مدینہ حضرت قاری ایوب شبنم مالدہ، نعت خوانِ حبیب جناب نعیم اختر دیوگھر اورواصفِ شاہِ ھُدیٰ حافظ نسیم احمد رضوی جموئی نےپُرکشش اوردلسوز آوازمیں بارگاہِ سرورِ کونین ﷺ میں نعتوں کا ھدیہ پیش کرکےمحفل میں رقت پیداکردی اورسامعین سے خوب دادِتحسین حاصل کی۔ نقیبِ اہلسنت ادیبِ شہیر حضرت مولانا عبد الوھاب سالک بھاگلپوری ہری پورنےاپنی سحرانگیز نقابت سے محفل کولالہ زار کرسامعین کومحسورکردیا۔ مقامی وبیرونی علماء کرام وشعراء عظام واربابِ علم وفن ودانشورانِ فکرو قلم بھی اس تاریخ سازاجلاس میں شرکت فرمائی۔
شب کے ایک بجے مقدس علماءکرام ومشائخِ عظام کے دستِ بابرکت سےپانچ فارِغینِ حفاظِ کرام حافظ انوارالحق ابن من شریف دیوگھر، حافظ محمدسراج ابن عبدالرزاق ضلع بانکا،حافظ محمد اظہررضا ابن شوال انصاری ضلع بانکا، حافظ محمدزبیر ابن کمال الدین ببلہ ڈانگہ اورحافظ محمد یاسدانصاری ابن عابدانصاری گرمنٹ نمبر 10 کے سروں پر دستارِحفظ باندھی گئی یہ روحانی ونورانی اورپُرکیف منظر سامعین وناظرین نےملاحِظہ فرمایا۔ نہایت کامیابی کےساتھ شب کے 4 بجے صلٰوة وسلام کےبعد صدرِ جلسہ کی رقت انگیز دعاؤں پر جلسےکااختتام ہوا۔ سریپوربازار جامع مسجد کمیٹی ،
مدرسہ ھٰذاکےاراکین و جملہ اساتذہ کرام نے ازاول تا آخرمخدومِ جہاں کانفرنس کو کامیاب کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔










