رانی گنج : رانی گنج شہر کو دوبارہ محکمہ بنانے کی مانگ پر آ ئندہ 2 مارچ کو ریاست کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کو عرضداشت پیش کرنے کا ارادہ رانی گنج سٹیزن فورم رکھتی ہے ۔ اسی ارادے کو عملی جامہ پہنانے کے مقصد کے تحت سوموار کے رانی گنج کے دال پٹی علاقہ میں واقع فورم کے دفتر ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی ۔تنظیم کے صدر رام دلال بوس،کارگذار صدر گوتم گھٹک،آرپی کھیتان،اروند سنگھانیا،کے این سنگھ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے مخاطب ہوئے ۔رام دلال نے بتایا کہ 1847 سے 1906 تک رانی گنج ایک محکمہ شہر ہوا کرتا تھا لیکن کسی وجہ کر رانی گنج شہر کو اس سے محروم کر دیاگیا۔محکمہ کے زمرے سے نکلنے کے بعد رانی گنج شہر کی ترقی سست پڑ گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ وہ شہر ہے جہاں سب سے پہلے کولیری کا قیام عمل میں آیا۔اس کے علاوہ یہ ایک صنعتی شہر ہے جہاں کاروباریوں کی اچھی خاصی تعداد آباد ہے اور یہاں بڑے پیمانے پر کاروبار ہوتا ہے۔یہاں روزانہ کروڑوں روپیے کا بزنس ہوا کرتا ہے۔آگے انہوں نے کہا کہ سٹیزن فورم کے بینر تلے ان لوگوں نے انتظا میہ سے گہار لگائی کہ رانی گنج شہر کو محکمہ کا درجہ دیا جائے لیکن اب تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔اب وہ لوگ آئندہ 2 مارچ کو ممتا بنرجی سے ملاقات کر انہیں اسی مدعے پر ایک تحریری عرضداشت پیش کریں گے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ممتا بنرجی اس مسلہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مثبت فیصلہ لیں گی۔انہوں نے کہا کہ اگر رانی گنج شہر کو محکمہ قرار دے دیا جائے تو اس شہر کی ترقی کی رفتار میں تیزی آجائے گی۔عام لوگوں کے ساتھ تجارت کرنے والے افراد کو بھی کافی سہولتیں ملیں گی۔ٹرافک نظام میں بھی بہتری آئے گی۔رام دلال نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ رانی گنج کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جارہا ہے۔پہلے رانی گنج سے محکمہ چھینا گیا اس کے بعد یہاں جو میونسپل تھا اسے بھی آسنسول کارپوریشن کے ساتھ ضم کردیا گیا۔انتظامیہ کے اس فیصلے سے عام لوگوں کے ساتھ کاروباری حضرات بھی کافی پریشان ہیں۔یہ ایک مشہور شہر ہے اسے بغیر کسی منصوبے کے بسایا گیا ہے۔اس لیے اسے محکمہ کا درجہ دینا انتہائی ضروری ہے۔










