Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*کوئلہ مافیا راجو کا قتل،سیاسی گلیاروں میں چہ مگوئیاں زوروں پر*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

شکتی گڑھ : چھ ماہ قبل قانونی طریقے سے کوئلہ کے کاروبار میں راجیش جھاعرف راجو نے دوبارہ قدم رکھا تھا.پولس کے مطابق اسکے ساتھ ہی وہ نیاسنڈیکیٹ بنانے کی کوشش بھی کررہاتھا.یہ سنڈیکیٹ کی تیاری کاکام آگے بڑھ بھی گیا تھا.اسکے علاوہ ٹرانسپورٹ کاکاروبار بھی شروع کیا تھا.اسکے قریبی ذرائع نےبتایا کہ گن پتی سیکیوریٹی نام کاایک سیکوریٹی گارڈکے ادارے سے جڑاہواتھا.سنیچر کی رات پوربی بردوان کے شکتی گڑھ میں اسے گولی مارکر ہلاک کردیا گیا.اس قتل کے بعد سیاسی کھیل بھی شروع ہوگیا ہے.سیاسی گلیاروں میں اس بات کا خوب خوب چرچا ہورہا ہے کہ بایاں محاذ کے دور اقتدار میں راجوغیرقانونی کوئلہ کابے تاج بادشاہ ہونے کے ساتھ سیاست میں بھی کافی سرگرم تھا.مگر 2020میں ریاستی اسمبلی چناؤ سے قبل وہ بی جے پی میں شامل ہوگیا. درگاپور پلاسڈیہہ میدان میں ارجن سنگھ کاہاتھ پکڑ کر بھاجپا ک جھنڈاراجو نے تھاما تھا.اسی کے بعد سیاسی معاملہ گرمانے لگاتھا.مگر الیکشن ہارنے کے بعد راجو کو متحرک سیاست میں پھرنہیں دیکھا گیا.مگر اسکے قتل کے بعد سیاسی معاملہ پر بھی انگلیاں اٹھنے لگی ہیں.بی جے پی رہنما دلیپ گھوش نے رہاستی وزیر بابل سپریو پر توپ داغا ہے.انہوں نے ٹیوٹ کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی طرح کاقتل بدقسمتی کی بات ہے. اس راجو کابی جے پی کے ساتھ اس وقت کے بی جے پی کے ریاستی صدردلیپ گھوش اور مرکزی رہنما کیلاش وجئے ورگیہ کے ساتھ سوچ میں نااتفاقی ہوئی تھی.مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی اسے قتل کردے اورہم کچھ نہ کہیں.بی جے پی کےریاستی صدر سوکانتومجمدار نے کہا کہ اگر کسی مافیا کو شوٹروں کے ذریعہ راستے کے کنارے موت کی گھاٹ اتار دیا جائے توپھر ریاست ہی سب سے بڑامافیا ہے.



راجو کے گھر والوں کاکہنا ہےکہ راجو پر درگاپورسیٹی سنٹر کے ٹرانسپورٹ کے دفتر میں گھس کر بھی کسی نے گولی چلائی تھی. مگراسوقت راجودفتر میں نہیں تھے.اس حملہ کا سنیچر کے دن کے واقعہ کے ساتھ کوئی تعلق یے یانہیں پولس کواسکی جانچ کرنی چایئے.