اس دنیائے فانی میں بسنے والے بنی نوع انسان کا طرز ،طریقہ اور دستور رہا ہے کہ کوئی کسی خاص شخص کا تقرب چاہتاہے تو وہ شخص اس تقرب چاہنےوالے کو آزمائش میں مبتلا کرتاہے اور اس کو آزمائش کے سخت گھاٹیوں سے دو چار کرتاہے تب جا کراسکو اپنی قربت کا ادنیٰ حصہ فراہم کرتا ہے
یہ تو حادث دنیا کا حال ہے غور طلب بات یہ ہے کہ وہ اللہ جس نے دونوں جہاں کی تخلیق کی اسکا اس آزمائش کے باب میں کیا طریقہ ہوگا
اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا بننے اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے کوئی دنیاوی کارستانیاں مفید نہیں ہوتی ہیں۔ وہ جسکو مقرب اور محبوب بناتا ہے اسے اور زیادہ سخت آزمائش میں مبتلا کرتاہے
اس آزمائش کے ضمن میں روز اول سے خواص وعام چلے آرہے ہیں ان خواص کے صفِ اول کے راہ رو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ذات گرامی ہے ۔ان کو اللہ تعالیٰ نے پیدأش ہی سے آزمائش میں مبتلا کیا
ان کی سب سے پہلی آزمائش یہ تھی کہ آپ علیہ السلام نےجس گھرانے میں آنکھ کھولی وہ گھرانا بت پرست و بت سازہی نہیں بلکہ بت فروش بھی تھا۔
دنیاوی زندگی میں یہ بارہا دیکھی جاتی ہے کہ انسان سارے زمانے والوں سے نبردآزماں ہو سکتا ہے،لیکن جب گھر والوں کی بات آتی ہے تواسکی ساری استطاعت ماند پڑجاتی ہے۔لیکن ابراہیم علیہ السلام نے اپنے قوت ایمانی کا جذبہ دیکھاتے ہوئے زمانے والوں کے لیے عبرت کا نشان پیش کیا۔اور ثابت کردیا کہ دین شریعت کے مقابل ساری شیٔ نا قابل برداشت ہے۔
دوسری آزمائش اس وقت پیش آیٔ جب اللہ تعالٰی نے ابراہیم علیہ السلام کو نبوت عطا کیا تو انہوں نے اپنی قوم کے سامنے کلمۂ حق پیش کیا جن کےدرمیان انکی جوانی پروان چڑھی تھی۔ تواس قوم نےانکی سخت مخالفت کی یہاں تک کہ انکے لئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی پھرجب یہ تبلیغ بڑھتی ہوئی بادشاۂ وقت نمرود کے دربار تک پہنچی تو اس نے اللہ کے دین کو پھیلنے سے روکنے کے لئے حتی الامکان کوشش کی یہاں تک کہ جب سب تدبیریں بے کار اور غیرمفید ثابت ہوگیٔں تواس نے آخر کار اپنے درباریوں کو آگ روشن کرنے کا حکم دیا اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اس میں ڈلوادیا۔لیکن سارے مخلوقات پر زور تو اللہ تعالیٰ کا ہی چلتاہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ اے آگ ابراہیم پر سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہوجا۔۔ قرآنٔ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
قلنا يناركوني برداوسلاما على ابراهيم (سورةالابياء.٦٩)
تسری آزمائش سے تاریخ کے اوراق پُر ہیں کہ حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بڑھاپے تک کوئی اولاد نہیں تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان کوایک نیک اولاد کی بشارت سنائی اس وقت جب آپ کی عمر تقریباً ستاسی سال کو پہنچ چکی تھی۔حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن سے سیدنا اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے ابھی خوشی ومسرت کے لمحے چل ہی رہے تھے کہ خالق کائنات کی طرف سے حکم ایا جس نے انکو ایک نیک بخت اولاد سے نوزا تھا کہ تم اپنے اہل وعیال کو مکہ کے بےآب وگیاہ بنجر وادی میں چھوڑ آؤ تو انہوں نے حکم کی تعمیل کی اور انکو چھوڑ آے اس جگہ جہاں آج کعبہ ہے وہ جگہ ویران ، غیر آباد تھی اور پانی کا نام ونشان نہ تھا۔نیک بیوی نے دریافت کیا کہ آپ ہمیں اس سنسان وادی میں تنہا چھوڑ کر کہا جارہے ہیں کیا یہ آپ کے پروردگار کا حکم ہےتو ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا کہ جی ہاں اس پر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پر سکون ہو کر کہا تبتو آپ کا پروردگار ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام واپس ہوتے ہوئےایک بلند ٹیلےپرکھڑے ہوکر دعا فرمائی ۔
ربنا اسكنت من ذريتى بوادغيرذى زرع عندبيتك المحرم ربنا ليقيموا الصلوٰة فاجعل افدة من الناس تهوى اليهم وارزقهم الثمرات لعلهم يشكرون.
چوتھی آزمائش یہ تھی جس کی مناسبت سے ہم دنیا بھر میں ذوالحجۃ کے تین دنو میں قربانی پیش کرتے ہیں۔
کوئی بھی بندہ اپنے اوپر ہونے والے آزمائش سے بغیر کسی چوں چرا کے گذر سکتاہے جیساکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو اس وقت صبر اور رضا بقضاء الہٰی کا انہوں نے ثبوت دیا اور جس عزم و استقامت کا مظاہرہ کیا وہ انہی کا حصہ تھا۔اسکے بعد جب اہل وعیال کو ایک وادی میں چھوڑنے کا حکم ہوا تو آپ علیہ السلام نے راتوں اور دنوں کی دعاؤں کے ثمر اورگھر کے چشم وچراغ کو صرف حکم الہٰی کی تعمیل و امتثال میں پیش کر دیا یہ تو اس امتحان اور آزمائش کی تیاری تھی جو پہلے کے آزمائش سے زیادہ زہرہ گداز جاں گسل آزمائش تھی جس میں آپ علیہ السلام نے مسلسل تین شب خواب دیکھا کہ آپ اللہ کے حکم سے اپنے اکلوتے لخت جگر نورِ نظر کے گردن پر چھری پھیر رہے ہیں گویا کہ انکو اللہ کے راستے میں قربان کر رہے ہیں۔چونکہ انبیاء علیہم السلام کا خواب رؤیا صادقہ اور وحیٔ الہٰی ہوا کرتاہے تو انہوں نے اسکی فوراً تکمیل چاہی لیکن یہ خواب محض انکی ذات سے وابستہ نہیں تھی بلکہ انکے اکلوتے بیٹے کی اجازت سے بھی منسلک تھی تو جب آپ علیہ السلام نے اس خواب تعبیر اپنے آنکھوں کے نور حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو سنائی تو نیک بخت بیٹا بغیر کسی تجسس کے اپنے آپ کو اللہ کے راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہوگیا۔جس کی شہادت یہ آیت کریمہ کررہا ہے
قالَ يٰاَبَتِ افْعَل مَا تُؤ مَرُ سَتَجِدُنِىٓ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ.(سورة الصٰفٰت.ع.٣)
اللہ تعالیٰ نے ان تمام آزمائشوں کا بدلا یہ دیا کہ انکو اپنا خلیل بنا لیا اور اس قربانی کو قیامت تک آنے والے ان مسلمانوں پر واجب قرار دیا جو صاحب نصاب ہوں
*محمد جانفزا انور*
جہانگیری محلہ,آسنسول








