Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*کرسمَس کی حقیقت اورمسلمان*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*احمدحسين مظاہری پرولیا*

25/دسمبر کا دن عیسائیوں کے یہاں بہت اہمیت کا حامل ہے،اس دن وہ سب سے بڑا تہوار” کرسمَس“مناتے ہیں،جس کا مروجہ نام ”بڑا دن“ بھی ہے۔کرسمَس کو عیسائی دراصل یوم ولادتِ مسیح کے طور پر مناتے ہیں،کیونکہ مسیحیوں کے لیے یہ ایک اہم اور مقدس دن ہے۔۔
کرسمَس کی لغوی تحقیق:کرسمَس (christmas) وہ الفاظ کرائسٹ (crist اور ماس (mass) کا مرکب ہے کرائسٹ (crist) مسیح علیہ السلام کو کہتے ہیں اور ماس (mass) اجتماع،اکھٹا ہونا ہے،یعنی مسیح علیہ السلام کے لئے اکھٹا ہونا مسیح اجتماع یا یوم میلاد مسیح علیہ السلام- یہ لفظ تقریباً چوتھی صدی کے قریب قریب پایا گیا،اس سے پہلے اس لفظ کا استعمال کہیں نہیں ملتا۔دنیا کے مختلف خطوں میں کرسمَس کو مختلف ناموں سے یاد کیا اور منا یا جاتا ہے،اسے یول ڈے نیٹوئی ( پیدائش کا سال ) اور نوائل (پیدائشی یا یوم پیدائش) جیسے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے۔( بحوالہ:کرسمَس کی حقیقت عقل اور نقل کی روشنی میں/٢٤)
واضح رہے کہ:25/دسمبر کو حضرت عیسٰی علیہ السلام کی تاریخ پیدائش ہونا مشکوک ہے،اورعیسائیوں کا ایک طقبہ بھی کرسمَس ڈے منانے کو پسند نہیں کرتا۔۔
مفتی احمد اللہ نثار قاسمی صاحب رقمطراز ہیں:چوتھی صدی عیسوی تک دنیا میں کرسمَس کا نام ونشان تک نہ تھا،چوتھی صدی کے شروع میں دنیا میں ایک عجیب واقعہ ہوا،شہر روم میں مشعلیں بنانے والے ایک کاریگر نے ایک ایسی مشعل بنالی جس میں تیل نہیں ڈالنا پڑتا تھا اس مشعل کو سیدھا کھڑا کر کے اس کے فلیتے کو آگ لگا دی جاتی اور یہ گھنٹوں جلتی رہی تھی، یہ مشعل ایک دلچسپ ایجاد تھی دیکھتے ہی دیکھتے مشعل ساز نوجوان امیر ہو گیا اس کی بنائی مشعلیں دربار میں جلنے لگیں یہ مشعل آگے چل کر کینڈل یا موم بتی کہلائی،اس زمانے میں موم بتیاں صرف شاہی خاندان تک محدود تھیں عام لوگ نہ خرید سکتے تھے نہ جلا سکتے تھے لیکن موم بتی ایجاد کرنے والا نوجوان اس کی وسیع فروخت کا خواہاں تھا وہ چاہتا تھا کہ اس کی ایجاد دنیا بھر میں خوب پھولے پھلے لوگ اسے خریدیں بھی اور جلائیں بھی۔ روم شہر کا ایک پادری نے مشعل فروخت کرنے والے سرمایہ دار کے ساتھ سازباز کرکے اُس کے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے کہا: تم کسی بھی طریقے سے گرجا گھر سے موم بتی کا رشتہ قائم کرو پھر دیکھو تمہاری ایجاد دنیا بھر میں کس طرح پھیلتی ہے۔پادری نے اعلان کیا کہ آپ تمام خواتین حضرات سورج ڈوبنے کے بعد دوبارہ چرچ آئیں… لہٰذا 25/دسمبر٣٣٦ء؁ کو گرجا گھر میں موم بتیاں جلا کر لوگوں سے مخصوص طریقہ پر دُعا کروائی،یہ دعا گھنٹہ بھر چلتی رہی اور پہلا کرسمَس ڈے منایا اور پھر اس دن سے موم بتیاں جلانے کا رواج چل پڑا۔
آئیے قارئین! اب کرسمس ڈے کی وہ خرابیاں اور قباحتیں رقم کرتا ہوں جن سے آگاہی حاصل کرنا ہر مسلمان کے لئے ازحد ضروری ہے تاکہ لاشعوری میں گمراہی کا شکار نہ ہو اور اپنی دنیا و آخرت برباد نہ کر بیٹھے۔
اس تاریخ (25/دسمبر) میں عیسائی بڑے تزک و احتشام سے کرسمَس ڈے مناتے ہیں،25/دسمبرکو پوری دنیا میں جتنی بدکاری کی جاتی ہے اور شراب نوشی کی جاتی ہے،وہ پورے سال میں نہیں کی جاتی…..بلکہ نومبر کے مہینے ہی سے اس کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ لوگوں کے ذہنوں میں ان دنوں صرف یہی بات ہوتی ہے کہ کرسمَس کا تہوار آ رہا ہے۔ رنگا رنگ روشنیوں سے تمام شہروں کے مراکز اور شاپنگ سنٹر بڑی خوب صورتی سے سجائے جاتے ہیں۔ سڑکوں اور گلیوں پر جگہ جگہ کرسمَس ٹری سجائے جاتے ہیں۔ دسمبر کی آمد کے ساتھ ہی تجارتی مراکز میں خریداروں کا ہجوم ہونے لگتا ہے۔ دکانیں راتوں کو دیر تک کھلی رہتی ہیں۔ دکانوں اور شاپنگ سنٹرز میں کرسمَس کے خصوصی گیت بجائے جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہی حضرت مسیح کے عقیدت مند گروپس کی شکل میں گلیوں اور سڑکوں پر کرسمس کے دعائیہ گیت گاتے ہیں اور فلاحی اور رفاہی کاموں کے لیے فنڈز جمع کرتے ہیں۔ اکثر مقامات پر تو کرسمَس کی آمد سے لگ بھگ ایک ہفتے پہلے ہی مختصر کرسمَس پارٹیاں منعقد ہونے لگتی ہیں۔ اس موقع پر کرسمَس کے روایتی کھانے کھائے جاتے ہیں اور روایتی مشروبات پیے جاتے ہیں۔وسط دسمبر تک اکثر مکانات کو کرسمس ٹری، رنگ برنگے قمقموں اور کاغذ اور پلاسٹک سے تیار کردہ ڈیکوریشن پیسز سے سجایا جاتا ہے۔ان دنوں بہت سے لوگ اپنے گھروں کے لائز اور مکانوں کی دیواروں کو بھی بڑی خوب صورتی سے سجاتے ہیں۔ان پر برقی قمقمے لگائے جاتے ہیں،جس سے بڑاحسین منظر وجود میں آتا ہے۔(بحوالہ :کرسمَس عیسائیت سے مسلمانوں تک /٥٠)
مذکورہ بالا افعال سے خود عیسائی بیزار ہیں،اب تو عیسائیوں کے اندر بھی ایسے گروہ پیدا ہو چکے ہیں جو کرسمَس کو پسند نہیں کرتے یہ لوگ اس تہوار پر مختلف اعتراضات کرتے ہیں مثلاً مسیح علیہ السلام نے اپنی زندگی میں کرسمس نہیں منائی،ان کے بعد بھی تین صدیوں تک اس تہوار کا نام ونشان نہیں تھا،اس سے کرسمَس کی حقیقت مشکوک ہو جاتی ہے،ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں نے کرسمَس کو سپانسر کرکے اسے مذہبی تہوار کی بجائے دکاندای بنا دیا ہے عیسائی مذہب اور اس کےتہوار میں درخت کی کوئی گنجائش نہیں،انجیل میں واضح الفاظ میں یہ حکم موجود ہے: کسی درخت کو کاٹ کر اسے مصنوعی طریقے پر محسن میں نہ گاڑا جائے ( سازشیں بے نقاب) بائبل میں تقریباً ۳۸ مقامات سے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ عیسائیت میں شراب نوشی حرام ہے جب کہ اس روز شراب نوشی اہتمام کے ساتھ کی جاتی ہے۔(بحوالہ : کرسمَس کی حقیقت عقل ونقل کی روشنی میں/٤٠)
مسلمانوں……! اسلام کو بدنام اورمسلمانوں کا ایمان بگاڑنے کے لیے اہل کفر نے ہر دور میں ہر حربہ آزمایا ہے،کرسمَس ڈے کےتہوار کے پہلوؤں پر غور کریں تو ہمیں احساس ہوگا کہ مسلمانوں میں اس تہوار کے ذریعے سادہ لوح مسلمانوں کو اسلام سے دور اور عیسائیت کی طرف راغب کرنے کی کوششیں زیادہ کی جاتی ہیں۔
افسوس……! لیکن افسوس کا مقام ہے ہمارے سادہ لوح مسلمان مغرب کی اندھی تقلیدمیں اس میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہیں،یہ بات بھی موجبِ تکدر ہے کہ آج ہمارے مسلم معاشرے میں 25/دسمبر کے دن اپنے بچوں کو کرسمَس ڈریس پہنا کر اسکول بھیجتے ہیں،مزید برآں اُن کے تہوارا اور تقریبات میں شریک ہوتے ہیں،اور عیسائیوں کی طرح بڑے تزک و احتشام سے مناتے ہیں۔
آگاہی……! اب کرسمَس کا تہوار آہستہ آہستہ مسلمانوں میں فروغ پانے لگا ہے،یاد رکھیں عیسائیت پھیلانے کے لئے یہ نت نئی چال چل رہے ہیں،کرسمَس کی آڑ میں بالخصوص مسلمان بچوں کو نشانہ بناتے ہیں،اور ان کے ننھے منے ذہنوں میں عیسائیت کا بیچ بُو دیتے ہیں،مسلمانوں کا ایسا ذہن بنانے میں باقاعدہ منصوبہ بندی سے پیش رفت ہوتی ہے اور ایسے تہواروں پر مسلمانوں کو تحائف یا امداد کے نام پر کچھ نہ کچھ دے کر ان کے ایمان پر ضرب لگائی جاتی ہے۔
یاد رکھیں…..! کرسمَس ڈے میں شرکت در اصل شریعت کے حرام کردہ کاموں میں شریک ہونا ہے،لہٰذا مسیح علیہ السلام کو مبارک باد دینا اور اس ضمن میں کسی بھی تقریب میں شرکت کرنا از روئے شرع درست نہیں ہے۔
فتاویٰ…..:کرسمس کی مبارکباد دینے کا حکم
➀ جواب :غیرمسلموں کے مذہبی تہواروں کے موقع پران کو مبارک باد دینے کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ چوں کہ یہ تہوار مشرکانہ اعتقادات پرمبنی ہوتے ہیں اورمسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے لیے شرک سے برأت اوربے تعلقی کا اظہارضرروی ہے، کرسمس کی مبارک باد دیناگویا ان کے نقطۂ نظرکی تائید ہے؛ اس لیے کرسمس کی مبارکباد دینا جائزنہیں۔اگر اس سے ان کی دین کی تعظیم مقصود ہو تو کفر کا اندیشہ ہے۔ اور اگر کرسمس کے موقع پر صراحتاً کوئی شرکیہ جملہ بول دے تو اس کے شرک ہونے میں تو کوئی شک نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم (ماخوذ:دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن)
➁جواب:غیرمسلم کو کرسمس کی مبارکباد دینا مسلمان کے لیے درست نہیں۔(ماخوذ:فتاویٰ دارالعلوم دیوبند /ویب سائٹ)
➂جواب: مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ کرسمس میں شرکت اور عیسائیوں کو اس دن کی مبارکباد دینے سے مکمل اجتناب کریں، ورنہ گنہگار ہوں گے اور اگر یہ کام کرتے ہوئے ان کے دین کی تعظیم مقصود ہو تو اس میں کفر کا بھی اندیشہ ہے، تاہم اگر کسی ملک میں عیسائیوں کی اکثریت ہو اور وہاں کرسمس کی تقریبات میں شرکت نہ کرنے پر یا مبارکباد نہ دینے سے دینی یا دنیاوی نقصان کا اندیشہ ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں اگر شرکت یا Happy Christmas کہہ دیا جائے، اور دل میں اس دن کی محبت اور تعظیم بالکل نہ ہو تو امید ہے کہ گناہ گار نہیں ہوگا۔(ماخوذ: فتاویٰ دارالعلوم کراچی /دارالافتاء الاخلاص کراچی)
اللہ ربُّ العزت سے دعا گُو ہوں کہ بارِالہ امت مسلمہ کو مغربی بدتہذیبی سے مامون رکھے، اور صراط مستقیم کی طرف چلنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)