ماضی میں تعلیمی اور انتظامی امور کے طور پر بہتر ساکھ اورنیک نامی رکھنے والا
شمالی آسنسول ندی پار کا معروف تعلیمی ادارہ حاجی قدم رسول ہائی اسکول کو نہ جانے کس بدنظر کی نظرلگ گئی کہ گذشتہ کچھ عرصوں سے یہ اسکول مسلسل تنازعوں میں گھرا نظرآرہاہے.کبھی اسکول کے تدریسی عملہ کی آپسی چپقلش اورہاتھا پائی کامعاملہ تھانے تک پہنچ جانا توکبھی اسٹاف کی ایک جماعت کا اپنے ہی اسکول کے ہیڈماسٹر پربدعنوانی اوربدانتظامی کاالزام عائد کرتے ہوئے محکمہ تعلیم کے ذمہ داران تک شکایتوں کادفتر لے کر پہنچ جانا توکبھی اسکول کی نئی عمارت کے تعمیری عمل اور اس کی پائیداری پرسوال اٹھاتے ہوئے سیاسی گلیاروں سے لے عدالت کے دروازے تک اسکی گہار لگانے کامعاملہ سامنے آتے رہتا ہے.جمعرات کے دن ایک مرتبہ پھر اس اسکول کی نیک نامی پراس وقت دھبہ لگا جب اے ڈی ڈی اے کے قریب واقع اس اسکول کی نئی عمارت کےسامنے جمع گارجینوں کی بھیڑ اس عمارت کوبچوں کی حفاظت کےنقطہ نگاہ سے غیرمحفوظ بتاتے ہوئےاحتجاج کرنے لگے.ان گارجینوں کی رہنمائی کررہے مقامی نوجوان محمد رضوان جس نے اپنے آپ کو قانون کاایک طالب علم اور اس اسکول کا سابق طالب علم کے ساتھ سماجی خدمتگار بتایا.اس کا کہنا تھا کہ اسکول کی یہ عمارت دلدلی والی زمین پرواقع ہےجس کی بھرائی بھی صحیح طریقے سے نہیں کی گئی ہے.احاطے کے اندر جھاڑیاں اور بڑے بڑے گھاس بھی ہیں جہاں سانپ بھی دیکھا گیا ہے.اس حالت میں اسکول میں بچوں کا تعلیمی نظام چلانا مناسب ہوگا.رضوان نے بتایا کہ میں بذات خود حاجی قدم رسول ہائی اسکول کے ہیڈماسٹر محمد شمشیر عالم سے ملاقات کرکے اسکول کی نئی عمارت کااسکول کے چلانے کےاعتبار سےبلڈنگ فٹنس سرٹیفکٹ,محکمہ تعلیم کا حکمنامہ اوراے ڈی ایم کااجازت نامہ دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو مطلوبہ دستاویزات دکھائے جانے کے بجائے میرے ساتھ بہت برابرتاؤکیا گیا.لہذا میں نے بدھ کی شام ریلپارکے مختلف علاقوں میں مائک کے ذریعہ گارجینوں کو اسکول کی نئی عمارت میں پہنچنے اور خود سے عمارت کاجائزہ لینے کی اپیل کی.میری اپیل پر گارجینوں کی اچھی خاصی تعداد جمعرات کی صبح دس بجے پہنچی جہاں میں پہلے ہی سے موجود تھا.میڈیا کے کچھ ساتھی بھی پہنچ گئے.محمدرضوان نے الزام لگایا کہ برسراقتدار جماعت کے کچھ رضاکار کسی کےاشارے پر وہاں پہنچے اور مجھ سے الجھ پڑے.یہاں تک کہ مجھ پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے مجھے وہاں سےبھگانے کی بھی کوشش کی.تب میں نے میڈیا کے ساتھی اور گارجینوں سے اسکول کی بلڈنگ کاخود سے جائزہ لینے کی گذارش کی .رضوان نے بتایا کہ گارجینوں نے معائنہ کے بعد میری باتوں کی تصدیق کی اور بلڈنگ کوحفاظتی نقطہ نگاہ سے غیرمناسب بتایا.موقع پر موجود لوگوں میں محمد شمیم,کمال انصاری,واجد خان,سلامت علی نے اسکول کی عمارت کوحفاظتی اعتبار سے غیرمحفوظ قرار دیا.ادھراسکول کےاکیڈمک کونسل کے ممبران میں شامل ماسٹرمحمدعلی انصاری اور ماسٹرمحمداسلم انصاری نے بھی اسکول کی نئی عمارت کوغیرپائیدار بتاتے ہوئے اس عمارت کو طلبہ کی زندگی کےلئے خطرہ بتایااور یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگرمستقبل میں کوئی حادثہ ہوتا ہے تو اس کا ذمہ
دار کون ہوگا.
ادھر اسکول کے ہیڈماسٹر محمدشمشیرعالم نےان تمام الزامات کورد کرتے ہوئے بتایا کہ طلبہ اورقوم کی بھلائی کودھیان میں رکھتے ہوئے سبھی گارجین کی مرضی حاصل کرنے کے بعد ہی اسکول کی اس نئی عمارت میں درجہ ہفتم تادہم کے طلبا کی پڑھائی آئندہ 9جنوری سے شروع کی جائے گی.سردست تمام کلاسیز کے داخلے کاعمل اسی نئی عمارت میں جاری ہے.موصوف نے بتایا کہ انکے اسکول میں طلبہ کی تعداد قریب 4200ہےجن میں 1600طلبہ مڈڈے میل لیا کرتے ہیں.اتنی بڑی تعداد میں طلبہ کی درس وتدریس اور مڈڈے میل کاانتظام بہت مشکل امر تھا.اس لئے اے ڈی ڈی اے کے قریب اسکول کی نئی عمارت کی تعمیر کی گئی جس کاافتتاح2020میں ریاستی وزیر مولائے گھٹک کے ہاتھوں ہوا تھامگر درمیان میں لاک ڈاؤن کی وجہ کراس عمارت میں درس وتدریس شروع نہیں کیاجاسکا.اب9جنوری سے یہ سلسلہ شروع ہوجائےگاان شاءاللہ.انہوں نے یہ بھی بتایا کہ طلبہ نئےاسکول کے کشادہ کلاس روم,کھیل کامیدان,این سی سی کی جگہ اور چہاردیواری پاکر 



خوش بھی ہیں اور پرجوش بھی

.










