رانی گنج 10 جنوری۔۔ گزشتہ بدھ راج باڑی میدان میں جاری کتابی میلہ کا آخری دن تھا ۔رانی گنج کے ایم ایل اے جناب تاپس بنرجی کی گزارش پر جہاں ڈاکٹر صابرہ خاتون حنا نےکاروانِ ادب کے بینر تلے ایک اردو اسٹال لگادیا ۔ وہیں موصوفہ کی کوششوں کی بدولت ٹی ڈی بی کالج کی طرف سے ایک مختصر مزاحیہ ڈرامہ “ہنسنا منع ہے ” مشہور ڈرامہ نگار و ہدایتکار قمر جاوید کی نگرانی میں اسٹیج کیا گیا جسے دیکھ کر ناظرین و سامعین اپنی ہنسی نہیں روک سکے ۔ایک طرف جہاں اردو اسٹال کی وجہ سے اردو کے متوالے میلے میں آرہے تھے وہیں آج اردو ڈرامے کی خاطر سینکڑوں اردو اور ہندی کے ناظرین
بھی کتا بی میلے میں شریک ہوئے ۔
کاروانِ ادب کے اسٹال میں آج بھی محب اردو کی بھیڑ نظر آئ ۔مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے گورننگ باڈی کے ممبراور مولانا آزاد کالج کے صدر شعبہ اردو پروفیسر دبیر احمد اور ہگلی محسن کالج کے پروفیسر ہمایوں جمیل خان نے بھی اردو اسٹال کو اپنی آمد سے زینت بخشی ۔محترمہ صابرہ خاتون حنا کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ غیر اردو داں حضرات جس میں خاص کر رانی گنج ٹی ڈی بی کالج کے پرنسپل پروفیسر آشیش کمار دے،پروفیسر امیتابھ نائک ،پروفیسر ارونیمارائے،پروفیسر جے رام ، پروفیسر جینت کمار منڈل ،شری جگ دھر سنگھ ،دلیپ کمار سین وغیرہ نے بھی اسٹال دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا اور اپنےاپنے تاثرات قلمبند کئے ۔ طلباء وطالبات خاص کر کالج کے اسٹوڈنٹس اور اردو اسکالر زکی اچھی خاصی تعداد اس واحد اردو اسٹال میں نظر آئی ۔میلے کے آخری دن کاروان ادب کے اراکین نےاردو اسٹال میں ہی ایک مختصر شعری نشست بھی کرڈالی جس میں اراکینِ بزم جناب ثاقب نجم جعفری ،ماسٹر ساجد حسین ، دلیپ کمار سین ،قمر جاوید ،ماسٹر ساجد حسین ،کے علاوہ ڈاکٹر محمد شفقت کمال،ماسٹر زاہد حسین،ماسٹر نبیل البشر فریدی اور صدف پروین ،اریبہ سیف وغیرہ بھی شامل تھیں ۔میلے کے اختتام پر کاروانِ ادب کی موسس ڈاکٹر صابرہ حنا نے ایم ایل اے جناب تاپس بنرجی اور کتابی میلے کی انتظامیہ کمیٹی کے ساتھ ہی تمام محبان اردو کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ اگر موقع ملا توان شاءاللہ آیندہ سال اس سے بہتر اردو 







اسٹال لگایا جاۓگا۔










