Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*مشرقی بردوان میں قومی شاہراہ پر سائیڈ وال منہدم، دس ماہ میں ہی سڑک کا حصہ ٹوٹنے سے ہلچل*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

مشرقی بردوان ضلع کے میماری تھانہ علاقے کے سرڈانگا میں بدھ کی صبح قومی شاہراہ نمبر 19 (دُرگاپور ایکسپریس وے) کے کنارے بنی ایک بڑی سائیڈ وال یا ریٹیننگ وال اچانک منہدم ہو گئی۔ اس واقعہ کے بعد تقریباً 50 سے 60 فٹ سڑک ٹوٹ کر بیٹھ گئی جس کے باعث کولکاتا جانے والی لین کو فوری طور پر بند کر دیا گیا۔ واقعہ کے بعد علاقے میں شدید تشویش اور ہلچل کا ماحول پیدا ہو گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق بدھ کی صبح اچانک سڑک کے کنارے بنی اس دیوار کا ایک بڑا حصہ زور دار آواز کے ساتھ گر پڑا۔ دن کے وقت پیش آنے والے اس واقعہ سے ایکسپریس وے پر چلنے والے ڈرائیور اور راہگیر گھبرا گئے۔ اطلاع ملتے ہی میماری تھانے کی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے افسران فوراً موقع پر پہنچ گئے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔
ممکنہ بڑے حادثے سے بچنے کے لیے انتظامیہ نے فوری طور پر متاثرہ لین کو بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا۔ فی الحال گاڑیوں کو سروس روڈ کے ذریعے سست رفتاری سے گزارا جا رہا ہے تاکہ ٹریفک کی روانی کسی حد تک برقرار رکھی جا سکے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے یہ واقعہ دن کے وقت پیش آیا، اس لیے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔ ایک مقامی باشندے نے بتایا کہ اگر یہی واقعہ رات کے وقت پیش آتا تو ممکن تھا کہ کئی گاڑیاں حادثے کا شکار ہو جاتیں اور جانی نقصان بھی ہو سکتا تھا۔
علاقہ مکینوں نے اس واقعہ پر شدید ناراضی ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ سڑک کی توسیع کا کام صرف چند ماہ پہلے ہی مکمل ہوا تھا۔ ان کے مطابق تقریباً چھ ماہ قبل یہ تعمیراتی کام ختم ہوا تھا، اس کے باوجود اتنی مضبوط سمجھی جانے والی دیوار کا اتنی جلدی منہدم ہو جانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ تعمیر کے دوران ناقص معیار کے مواد کا استعمال کیا گیا ہے اور سرکاری فنڈ کا صحیح استعمال نہیں ہوا۔
ادھر قومی شاہراہ اتھارٹی کے متعلقہ محکمے کے انجینئر اور عملہ موقع پر پہنچ کر صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جلد از جلد دیوار کی مرمت کا کام شروع کر دیا گیا ہے اور سڑک کو دوبارہ ٹریفک کے لیے محفوظ بنانے کی کوشش جاری ہے۔
تاہم مرمتی کام مکمل ہونے تک اس علاقے میں ٹریفک جام کا خدشہ برقرار ہے۔ مقامی لوگوں نے قومی شاہراہ اتھارٹی کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ کی مکمل جانچ کرائی جائے اور ناقص تعمیر کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔