برن پور:آسنسول کارپوریشن وارڈ 82کے پانچل محلہ کے پیشے سے پھیری والا شیخ ربیع العالم عرف جان عالم کو گذشتہ 4ستمبر کوپولس نے گرفتارکیا تھا اور دوسرے دن آسنسول کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں سے اسے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا.دودنوں کے بعد یعنی 7ستمبر کو اسکی بیوی حنیفہ بی بی اپنی دونابالغ بچیوں کے ساتھ اس سے ملنے جیل پہنچی.جان عالم کوبتایا گیا کہ 20تاریخ کو ضمانت مل جائے گی.اسی درمیان 14ستمبر کو اسکی بڑی بہن بھی اس سے ملنے آسنسول جیل پہنچی.وہاں پتہ چلاکہ جان عالم کوپرولیا جیل بھیج دیا گیا ہے.بڑی بہن دوپہر ایک بجیاپنے گھر لوٹی.اسی درمیان ہیرا پور پی ایس سے ایک پولس افیسر انکے گھر آیا اور ان لوگوں کوخبر دیا کہ پرولیا جیل میں جان عالم کی موت ہوگئی ہے.اب گھر والے یہ جاننے کیلئے بیچین ہیں کہ جان عالم کو پرولیا جیل کیوں بھیجا گیااور وہاں اسکی موت کیسے ہوئی.رانی گنج کے سابق رکن اسمبلی اور وارڈ 82کیکونسلر نرگس بانو کے شوہر سہراب علی کاکہنا ہے کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ آخر جان عالم کو پرولیا جیل کیوں بھیجا گیا.اور جیل میں انکی موت کیسے ہوئی.اس واقعہ کے بعد رحمت نگر وارڈ نمبر 82 کے سینکڑوں لوگوں نے ہیرا پور تھانہ کے سامنے لاش رکھ کر احتجاج کا مظاہرہ کیا۔ گھر والوں کا کہنا ہے کہ اس
کی موت کیسے ہوئی پولس اس کی جانکاری دے.
اس سلسلے میں رانی گنج کے سابق ایم ایل اے و ترنمول کانگریس رہنما سہراب علی کی قیادت میں ایک وفد نے ہیرا پور تھا نہ کے افسران سے بات چیت کرنے کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ ہیرا تھانہ کے افسران نے یقین دلایا کہ اس واقعے میں ہرطرح سے تعاون کیا جائے گا ۔























