مغربی بردوان ضلع میں منگل کی صبح اُس وقت افرا تفری مچ گئی جب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے کوئلے کے غیر قانونی کانکنی اور نقل و حمل سے جڑے معاملے میں ایک ساتھ زبردست چھاپہ ماری شروع کی۔ مرکزی تفتیشی ایجنسی نے دُرگاپور، جموڑیا، رانی گنج اور کولکاتا سمیت مجموعی طور پر 10 مقامات پر بیک وقت کارروائی کی۔
اس ہائی وولٹیج آپریشن کے دوران ای ڈی کے افسران نے کوئلہ اور بالو کے کاروباری پربیر دتہ کے دُرگاپور واقع مکان، جموڑیا کے کاروباری بنسل کے ٹھکانوں اور بُدبُد پولیس اسٹیشن کے نو مقرر او سی منورنجن منڈل کے گھر پر گھنٹوں تک سخت تلاشی مہم چلائی۔
ذرائع کے مطابق، جموڑیا میں کاروباری بنسل کے احاطے سے اب تک تقریباً 65 لاکھ روپے نقد برآمد کیے جا چکے ہیں، جبکہ نوٹوں کی گنتی کا عمل تاحال جاری ہے۔ اس پورے چھاپہ ماری مہم میں سب سے زیادہ چرچا بُدبُد تھانے کے او سی منورنجن منڈل کو لے کر ہو رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، منورنجن منڈل نے ابھی باضابطہ طور پر تھانے کا چارج بھی نہیں سنبھالا تھا کہ اس سے قبل ہی ای ڈی کی ٹیم ان کے مکان پر پہنچ گئی۔ ان کا سابقہ دورِ کار بھی تنازعات میں رہا ہے۔ چند ماہ قبل انہیں معطل کیا گیا تھا، جس کے بعد آسن سول–دُرگاپور پولیس کمشنریٹ کی اسپیشل برانچ میں تعینات کیا گیا۔ حال ہی میں انہیں بُدبُد تھانے کے او سی کی ذمہ داری دی گئی تھی۔
ای ڈی کے افسران ان کے مکان پر مالی لین دین اور مشتبہ دستاویزات کی باریک بینی سے جانچ کر رہے ہیں۔ ای ڈی کے مطابق، اس تلاشی مہم کے دائرے میں منورنجن منڈل کے علاوہ کرن خان، شیخ اختر، پربیر دتہ اور مرزا حسام الدین بیگ جیسے بااثر نام بھی شامل ہیں۔
منگل علی الصبح شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران سخت حفاظتی انتظامات دیکھے گئے۔ تمام متعلقہ مقامات کے باہر مرکزی نیم فوجی دستوں کے جوان تعینات رہے تاکہ تفتیشی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔ تفتیشی ایجنسی کو شبہ ہے کہ ان تمام افراد کے روابط غیر قانونی کوئلہ کانکنی اور اس کی ترسیل سے جڑے ایک بڑے سنڈیکیٹ سے ہو سکتے ہیں۔
فی الحال چھاپہ ماری کا سلسلہ جاری ہے اور آنے والے گھنٹوں میں مزید بڑی برآمدگی یا گرفتاریوں کے امکانات سے انکار نہیں کیا جا رہا۔










