Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*مفتی وزیر احمد کے انتقال سے آسنسول کی دینی، علمی و تعلیمی فضا سوگوار*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

آج آسنسول کی دینی و علمی فضا میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ مفتی وزیر احمد صاحب کے انتقال کی خبر نے ہر دل کو سوگوار کر دیا ہے۔ مرحوم کی شخصیت بے شمار خصوصیات کی حامل تھی، جس میں دین، علم، خلوص، اور انسانیت دوستی شامل تھے۔ وہ ایک عالم، مفتی، حافظ قرآن اور کراٹے ماسٹر (بلیک بیلٹ) بھی تھے، جو ان کی ہمہ جہت شخصیت کو مزید نمایاں کرتا ہے۔

مفتی وزیر احمد صاحب کا آبائی تعلق بنارس، یوپی سے تھا، جبکہ زندگی کا بیشتر حصہ آسنسول، مغربی بنگال میں گزاری۔ ان کے والد کا نام خلیل احمد تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مدرسہ اسلامیہ عربیہ، برن پور سے حاصل کی، اور پھر دارالعلوم سبیل السلام، حیدر آباد سے عالمیت اور افتاء کی ڈگریاں مکمل کیں۔

مرحوم اپنی شخصیت میں سادگی اور عاجزی کے باعث ہر دلعزیز تھے۔ ان کی سنجیدگی، ذہانت، اور خاموش طبیعت نے انہیں دوست احباب اور طلباء کے درمیان انتہائی مقبول بنایا۔ دوستوں کے ساتھ خوشگوار محفلوں میں آسنسول کی زبان میں بات کرتے ہوئے مزاح بھی کیا کرتے تھے۔

مدرسہ اشرف المدارس، کلٹی میں مہتمم کی حیثیت سے خدمت انجام دینے کے بعد، پچھلے پانچ چھ سال سے جامعہ مظفریہ، شیرتالاب میں تدریسی فرائض انجام دے رہے تھے۔ ان کا طلباء کے ساتھ تعلق محبت اور سرپرستی کا تھا۔ وہ روزانہ مدرسے کے طلباء کے لیے کھانے پینے کا سامان لاتے اور شام کے وقت ضرورت مند بچوں کو کچھ رقم دیا کرتے تھے۔

مفتی وزیر احمد صاحب کراٹے میں بلیک بیلٹ ہونے کی وجہ سے ایک بہترین کراٹے ماسٹر بھی تھے، جس کی وجہ سے ان میں نہ صرف ذہنی بلکہ جسمانی مضبوطی بھی تھی۔ ان کی شخصیت میں اس غیرمعمولی پہلو نے طلباء اور علاقے کے نوجوانوں کو مثبت سمت میں آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔

مرحوم مسجد بیت السلام میں امامت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ آخری چند ماہ میں بیماری کی وجہ سے ان کی صحت میں کمی آئی، اور آج ان کے انتقال پر آسنسول کے دینی و علمی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا ماحول ہے۔ علاقے کے علماء، قاضی زبیر احمد قاسمی، مفتی سعید اسعد قاسمی، مفتی محمد طہ قاسمی، مولانا نیاز احمد ندوی، مولانا محمد طاہر رشیدی اور دیگر علمائے کرام نے ان کے انتقال کو ایک عظیم علمی و دینی خسارہ قرار دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور ان کے اہل خانہ اور چاہنے والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

Latest News