Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*آسنسول اردو فاؤنڈیشن کابامقصد پروگرام،ایم بی بی سی کی طالبات سمیت دیگر طلبہ کو تعلیمی ایوارڈ، ایمبولینس کاتحفہ*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16777216

*امتیاز احمد انصاری*
آسنسول اردو فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام سنیچر کی شام شمالی آسنسول کے اے ڈی ڈی اے میں واقع شگون میرج ہال میں ایک پروقار اور بامقصد پروگرام کے دوران جہاں ایک طرف شمالی اور جنوبی آسنسول سے تعلق رکھنے والی نوشین ذکی ،عرشی اصغر،ثنااصغر،تسنیم اشرف،شافیہ طالب،عظمت الٰہی جیسی ہونہار مسلم بچیاں جنہوں نے ڈاکٹری کی ڈگری یاتو مکمل کرچکی ہیں یا جن کی ایم بی بی ایس کی پڑھائی جارہی ہے انہیں ریاستی وزیر مولائے گھٹک کے ہاتھوں ایوارڈ سے نوازہ گیا ۔ آسنسول کے پانچ سرکاری اردو میڈیم اسکولوں مدھیامک وہائیر سکنڈری کے فرسٹ ،سکنڈ اور تھرڈ مقام حاصل کرنے والے 27 ٹاپروں کے علاؤہ  مدھیامک وہائیر سکنڈری کے تقریباً 250 طلبہ کے درمیان تعلیمی ایوارڈ 2025 بھی پیش کیا گیا۔دوران تقریب ریاستی وزیر مولائے گھٹک نے اپنے بڑے بھائی آنجہانی اسیم گھٹک کی یاد میں ریلپارکے باشندوں کوایک اور ایمبولینس کا تحفہ بھی دیا ۔وزیر موصوف نے اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ قریب چار سال پہلے ایک ایمبولینس ریلپارکے لوگوں کو دیا گیا تھا جس کے ذریعہ ریلپار کے کسی بھی حصے سے مریضوں کو آسنسول ضلع اسپتال مفت پہنچایا جاتا ہے اس ایمبولینس کی دیکھ ریکھ آسنسول اردو فاؤنڈیشن کیا کرتی ہے اب ایک اور ایمبولینس اسی مقصد کے تکمیل کے لیے دیا جارہا ہے۔ایمبولینس کا افتتاح ریاستی وزیر مولائے گھٹک نے کچھ دور تک خودسے ایمبولینس ڈرائیو کرکے کیا۔اس موقعے پر آسنسول کارپوریشن کے ڈپٹی مئیر سید وسیم الحق نے مدھیامک اور ہائیر سیکنڈری میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے تمام طلباء وطالبات اور ان کے گارجینوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کامیاب ہونے والے طلبہ میں بڑی تعداد بچیوں کی ہے آخر ہمارے بچے کہاں جارہے ہیں۔ ان کے پچھڑنے کی وجہ بہت سنجیدگی سےتلاش کرنے کے ساتھ انہیں بھی اس دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کرنی پڑے گی ورنہ آنے والے دنوں میں سماجی توازن بگڑنے کا خدشہ ہے ۔قاضی شریعت مفتی زبیر احمد قاسمی نے ریاستی وزیر ودیگر مہمانوں کی موجودگی میں ڈبلیو بی سی ایس سے اردو ہٹائے جانے پر اردو داں طبقہ کی بے چینی کا ذکر کرتے ہوئے ریاست کی وزیر اعلیٰ محترمہ ممتا بنرجی سے اسے ازسر نو شامل کئے جانے کی اپیل بھی کیا۔مولاناامداد اللہ رشیدی نے ریلپار کے خوشگوار تعلیمی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے طلبہ اور گارجینوں کو مبارکباد پیش کیا۔مولانا نثار احمد رضوی نےطلبہ اور خصوصی طورپر بچیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قوم کی بچیوں نے ہردور میں قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے جیسا کہ ان دنوں کرنل صوفیہ قریشی کے کارنامے ہر کسی کی زبان پرہے۔اسکول انسپکٹر ریاض عشرت شمشی نےکامیاب طلبہ کو اپنی صلاحیت اور خواہش کے مطابق کسی بھی اسٹریم کا انتخاب کرکے ایماندارانہ محنت کرنے کامشورہ دیا۔ہیڈماسٹر شمشیر عالم نے اپنے اسکول حاجی قدم رسول ہائی اسکول سے امسال 652 طلبہ کےمدھیامک میں کامیاب ہونے کی بات بتائی جس میں سے صرف 300طلبہ کو ہائیر سکنڈری میں داخلہ لینے کااجازت نامہ ملا ہے۔باقی 352طلبہ کے علاؤہ دیگر اسکولوں کے طلبہ کے داخلہ کے لئے اجازت نامہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اپنی موجودگی درج کرانے اور ڈائس کی زینت بڑھانے والے مہمانوں میں بوروچئیرمین انیرںن داس،ترنمول چھاترپریشد رہنما ابھینو، آسنسول کارپوریشن کےکونسلروں میں کہکشاں ریاض خوشی،ایس ایم مصطفیٰ ،فنصبی عالیہ،سی کے ریشماں،سابق ایم ایم آئی سی ماسٹر شکیل احمد،مغربی بنگال اردوکاڈمی کے رکن شکیل انور،قاضی نذر الاسلام یونیورسٹی کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر فاروق اعظم،دانش گاہ اسلامیہ ہائی اسکول کے مسرور عالم ودیگر کے نام شامل ہیں۔تمام مہمانوں کا استقبال آسنسول اردو فاؤنڈیشن کے سکریٹری محمد تبریز بابو اور فاؤنڈیشن کے متحرک رکن و خون عطیہ کیمپ کے روح رواں بلال خان نے شانہ زیب اور گلدستہ پیش کرکے کیا۔تقریب کی نظامت فاؤنڈیشن کے اسسٹنٹ سکریٹری صغیر عالم قادری نے بحسن وخوبی انجام دیا۔پروگرام کو کامیاب بنانے والوں میں افتخار نیر،فرید عالم،محمد عمران،فریدہ ناز،نذیرعالم اور محمد اقبال ودیگر کے نام قابل ذکر ہیں ۔