Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*امتحان نہیں، خود اعتمادی کا امتحان* *دسویں جماعت کے طلبہ کے نام ایک خصوصی پیغام*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*امتحان نہیں، خود اعتمادی کا امتحان*
*دسویں جماعت کے طلبہ کے نام ایک خصوصی پیغام*

عظیم بالیسری ،بالاسور،اڈیشا

دسویں جماعت زندگی کے تعلیمی سفر کا وہ اہم موڑ ہے جہاں سے مستقبل کی سمت متعین ہونا شروع ہوتی ہے۔ اس مرحلے پر دیا جانے والا امتحان صرف کتابی علم کی جانچ نہیں بلکہ صبر، حوصلے، نظم و ضبط اور خود اعتمادی کا عملی امتحان بھی ہے۔
خوف کو شکست دیں، یقین کو اپنائیں ،اکثر طلبہ امتحان کے نام سے گھبرا جاتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امتحان دشمن نہیں بلکہ کامیابی کی سیڑھی ہے۔ خوف ذہن کو بند کر دیتا ہے اور اعتماد ذہن کو روشن کرتا ہے۔ اپنے آپ پر یقین رکھئے، آپ نے جو محنت کی ہے وہ کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔محنت کامیابی کی واحد کنجی:کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ روزانہ کی منظم پڑھائی، سبق کی تکرار، نمونہ سوالات کی مشق اور کمزور موضوعات پر خصوصی توجہ ہی وہ راستہ ہے جو منزل تک لے جاتا ہے۔ یاد رکھئے، مسلسل محنت ہی طالب علم کو ممتاز بناتی ہے۔وقت کی قدر، مستقبل کی ضمانت امتحان کے دنوں میں وقت سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔ موبائل، غیر ضروری مصروفیات اور فضول گفتگو سے پرہیز کریں۔ ایک سادہ مگر پابندی والا ٹائم ٹیبل بنائیں اور اس پر سختی سے عمل کریں۔ جو وقت کی قدر کرتا ہے، وقت اسے قدر عطا کرتا ہے۔صحت مند جسم، پرسکون دماغ:مسلسل جاگنا اور خود کو تھکا دینا دانشمندی نہیں۔ مناسب نیند، متوازن غذا اور ہلکی پھلکی ورزش ذہن کو تازگی بخشتی ہے۔ دعا اور عبادت دل کو مضبوط اور حوصلے کو بلند رکھتی ہے۔امتحانی کمرے میں حکمتِ عملی پرچہ ملتے ہی جلد بازی نہ کریں۔ بسم اللہ پڑھ کر سوالنامہ غور سے دیکھیں۔ پہلے آسان سوال حل کریں تاکہ اعتماد قائم ہو، پھر بتدریج مشکل سوالات کی طرف آئیں۔ صاف لکھائی، مناسب ترتیب اور وقت کی درست تقسیم کامیابی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ایک پرچہ پوری زندگی نہیں ہوتا:اگر کسی پرچے میں توقع کے مطابق کارکردگی نہ ہو تو دل چھوٹا نہ کریں۔ ایک امتحان نہ تو پوری قابلیت ناپ سکتا ہے اور نہ ہی پوری زندگی کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ اصل ناکامی ہمت ہار جانا ہے، کوشش جاری رکھنا ہی اصل کامیابی ہے۔والدین کی دعائیں، اساتذہ کی رہنمائی:والدین کی بے لوث دعائیں اور اساتذہ کی محنت آپ کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان کی باتوں کو سنجیدگی سے لیں، ان کا احترام کریں اور اپنی کامیابی کو ان کی خوشی کا ذریعہ بنائیں۔آخری پیغام :اے دسویں جماعت کے طلبہ! یہ امتحان وقتی ہیں مگر ان کی محنت کا پھل دیرپا ہوتا ہے۔ سچائی سے محنت کریں، خود پر بھروسا رکھیں اور اللہ پر توکل کریں۔ کامیابی صرف نمبروں کا نام نہیں بلکہ ایک باوقار، بااعتماد اور باکردار انسان بننے کا نام ہے۔اللہ آپ سب کو کامیابی، سکون اور روشن مستقبل عطا فرمائے۔ آمین۔