Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*جب ریاضی “اتفاق” لگے تو کیا کائنات واقعی بےترتیب ہے؟*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*جب ریاضی “اتفاق” لگے تو کیا کائنات واقعی بےترتیب ہے؟*
*ڈاکٹر ریاض احمد*

کسی کلاس روم میں جا کر ایک سادہ سا سوال کیجیے: “کیا ریاضی میں بے ترتیبی (Randomness) ہوتی ہے؟”
اکثر لوگ مسکرا دیں گے۔ ریاضی تو دلیل، برہان اور قطعی نتیجے کی زبان ہے—جہاں ہر قدم اگلے قدم کو لازم کرتا ہے۔ مگر اسی ریاضی سے ہم دنیا کی سب سے بڑی غیر یقینی حقیقتوں کو بھی سمجھتے ہیں: سکے کے اچھال سے لے کر اسٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ، ٹریفک کے بہاؤ، موسم کی غیر متوقع تبدیلیوں اور وباؤں کے پھیلاؤ تک۔
یہاں ایک گہرا سوال جنم لیتا ہے: ریاضی خود تو “اتفاقی” نہیں، مگر حقیقت کئی بار ایسی کیوں دکھائی دیتی ہے جیسے وہ اتفاق پر چل رہی ہو؟ اور جب ہم مادّے کی انتہائی باریک سطح—ایٹم، الیکٹران، فوٹون اور کوانٹم دنیا—تک پہنچتے ہیں تو ایک ایسی غیر یقینی کیفیت سامنے آتی ہے جو بہترین آلات اور پیچیدہ ترین مساوات کے باوجود پوری طرح “غائب” نہیں ہوتی۔
کچھ لوگ اسے “چانس” کہتے ہیں، کچھ “عدمِ یقین”۔ اور کچھ اہلِ فکر، خاص طور پر ایمان کے زاویے سے، یہ سوال اٹھاتے ہیں: کیا یہ “اتفاق” دراصل بےمعنی افراتفری ہے، یا نظم کی ایک اور صورت—ایسی صورت جو قطعی فیصلے کے بجائے “قانونی احتمالات” کے ذریعے اپنا کام کرتی ہے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک فکری تعبیر—جسے بعض لوگ (فلسفیانہ معنی میں، سائنسی اصطلاح کے طور پر نہیں) “الٰہی کوانٹم ماڈل” کہہ دیتے ہیں—مکالمے میں داخل ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ طبیعیات مذہب کو “ثابت” کرتی ہے، بلکہ یہ کہ کوانٹم سطح پر کائنات سخت قوانین کے تابع رہتے ہوئے بھی انسان کے لیے نتائج کو غیر متعین رکھتی ہے۔
ریاضی: طریقِ کار میں قطعی، مگر “اتفاق” کو سمجھنے میں بے مثال
سب سے پہلے ایک فرق واضح ہونا چاہیے۔
ریاضی خود اتفاق نہیں۔ یہ ایک استدلالی نظام ہے: مسلمات (axioms) سے نظریات (theorems) تک نتیجہ لازمی ہوتا ہے۔ ثبوت “ممکن” نہیں ہوتا؛ “لازم” ہوتا ہے۔
لیکن ریاضی اتفاق کو ماڈل ضرور کرتی ہے—اور نہایت شفاف انداز میں۔ احتمال (Probability) کے نظریے میں اتفاق کو کوئی پراسرار شے نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اسے باقاعدہ تعریف دی جاتی ہے: ممکنہ نتائج کا مجموعہ، واقعات کا ڈھانچہ، اور پھر ہر واقعے کے لیے احتمال کی پیمائش۔ اس کے بعد ایسے قوانین سامنے آتے ہیں جیسے “قانونِ کثرت” (Law of Large Numbers) جو بتاتا ہے کہ بہت زیادہ آزمائشوں میں ایک مضبوط باقاعدگی پیدا ہوتی ہے۔
یہ پہلی بنیادی بات ہے: ریاضی میں اتفاق نظم کا دشمن نہیں۔ یہ نظم کی ایک قسم ہے—شماریاتی نظم۔ ایک بار کا سکے کا اچھال غیر متوقع ہے، مگر ہزار بار اچھالیں تو “ہیڈز” کی نسبت نصف کے آس پاس آنے لگتی ہے۔ یعنی ایک واقعہ غیر متوقع، لیکن مجموعی پیٹرن قابلِ اعتماد۔
کوانٹم دنیا: ایسی غیر یقینی جو پھر بھی قانون کے تحت ہے
اب آتے ہیں اُس جگہ جہاں ہمارے کلاسیکی تصورات ہچکچانے لگتے ہیں۔ کلاسیکی طبیعیات میں اکثر کہا جاتا ہے کہ عدمِ یقین ہماری لاعلمی کی وجہ سے ہے: ہم تمام عوامل نہیں جانتے، اس لیے پیش گوئی کمزور ہے۔ زیادہ معلومات ہوں تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔
کوانٹم طبیعیات اس سادہ سوچ کو چیلنج کرتی ہے۔ کوانٹم میکینکس کی عام (اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والی) تعبیر کے مطابق کائنات بعض مواقع پر محض “ہماری” لاعلمی کی وجہ سے غیر یقینی نہیں لگتی، بلکہ کچھ نتائج بنیادی طور پر احتمالی انداز میں ظاہر ہوتے ہیں۔
کوانٹم نظام جب تک ناپا نہ جائے، وہ ریاضیاتی طور پر ایک منظم ارتقاء (evolution) سے گزرتا ہے۔ مگر جب آپ پیمائش کرتے ہیں تو نتیجہ کلاسیکی انداز میں پہلے سے طے شدہ نہیں ہوتا؛ بلکہ نظریہ آپ کو ممکنہ نتائج کی ایک احتمال تقسیم (probability distribution) دیتا ہے۔
یہاں بہت ضروری وضاحت ہے: اس کا مطلب یہ نہیں کہ “کچھ بھی ہو سکتا ہے”۔ اس کا مطلب ہے کہ کچھ مخصوص چیزیں ہی ہو سکتی ہیں—اور ہر ایک کے لیے ایک واضح احتمال موجود ہے۔ یہ بےقاعدگی نہیں، قانونی غیر یقینی ہے۔
اسی نکتے پر “الٰہی کوانٹم ماڈل” والی تعبیر معنی حاصل کرتی ہے: بات یہ نہیں کہ غیر یقینی ختم کر دی جائے؛ بات یہ ہے کہ غیر یقینی کو “بےترتیبی” سمجھنے کے بجائے اسے ایک ایسے نظم کے اندر رکھ کر دیکھا جائے جو احتمالات کے قوانین سے چلتا ہے۔
دو “اتفاق” جنہیں ہم اکثر گڈمڈ کر دیتے ہیں
عوامی گفتگو میں عموماً دو مختلف مفہوم ایک ہو جاتے ہیں:
1. اتفاق بطور بےمعنی افراتفری (یعنی کوئی ساخت نہیں، کوئی نظم نہیں)
2. اتفاق بطور قانون کے اندر غیر پیش بینی (یعنی نتیجہ معلوم نہیں، مگر قانون معلوم ہے)
کوانٹم طبیعیات دوسرے مفہوم کی مضبوط مثال ہے۔ ایک پیمائش کا نتیجہ غیر متوقع ہو سکتا ہے، مگر اگر آپ تجربہ ہزار بار دہرائیں تو نتائج کی تقسیم وہی ہوگی جسے نظریہ بتاتا ہے۔
یہ بات ریاضی کے کئی “بے ترتیب لگنے والے” مظاہر کو سمجھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ بہت سی جگہیں جہاں ہمیں پیٹرن نظر نہیں آتا—مثلاً پیچیدہ اعداد کے سلسلے، افراتفری (chaos) والے نظام، یا بعض غیر ہموار تقسیمات—وہ لازماً بےنظم نہیں ہوتیں؛ بلکہ اکثر بہت زیادہ پیچیدگی کی وجہ سے “اتفاقی” لگتی ہیں۔
یعنی بعض اوقات اتفاق نظم کی عدم موجودگی نہیں، بلکہ نظم کی شدت ہے جو ہماری بصیرت سے اوجھل ہو جاتی ہے۔
“الٰہی کوانٹم ماڈل” بطور فکری زاویہ (سائنسی دعویٰ نہیں)
یہاں دیانت داری ضروری ہے: “الٰہی کوانٹم ماڈل” کوئی سائنسی اصطلاح نہیں؛ یہ فلسفیانہ و روحانی تعبیر ہے۔ مگر اگر اسے محتاط زبان میں پیش کیا جائے تو یہ مفید فکری زاویہ بن سکتا ہے۔
اس تعبیر کو تین ذمہ دارانہ انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے:
اوّل: غیر یقینی ہمارے لیے، نہ کہ لازماً مطلق سطح پر
انسان محدود مشاہدہ رکھتا ہے۔ ہم جزوی معلومات پر فیصلے کرتے ہیں۔ ایمان کے زاویے سے کہا جا سکتا ہے کہ جو چیز ہمارے لیے غیر متعین ہے، وہ علمِ الٰہی کے لیے خارج از علم نہیں۔
دوّم: نظم واقعات میں نہیں، قوانینِ احتمال میں بھی ہو سکتا ہے
کوانٹم دنیا ہمیں بتاتی ہے کہ نتائج کی “ایک بار” پیش بینی ممکن نہ ہو، مگر احتمال کا قانون انتہائی واضح اور منضبط ہو سکتا ہے۔ روحانی نظر اسے اس طرح پڑھ سکتی ہے کہ نظم ہمیشہ قطعی تعین کی صورت میں ہی نہیں آتا؛ نظم “ضابطۂ امکانات” کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے۔
سوّم: وحدت کے اندر سطحوں کی دوئی
ایک ہی حقیقت میں دو سطحیں بیک وقت موجود رہ سکتی ہیں:
• قوانین اور مساوات کی سطح پر مضبوط نظم
• واقعے اور نتیجے کی سطح پر غیر یقینی
یہ “خلا پُری” (God of the gaps) والی دلیل نہیں۔ یہ نہیں کہ “سائنس نہیں سمجھا سکی، اس لیے خدا”۔ بلکہ یہ کہ سائنس نے سمجھایا—مگر احتمالی انداز میں؛ اور روحانیت اس نظم کے معنی پر غور کرتی ہے۔
سائنس باکس: “بورن رول” آسان الفاظ میں
کوانٹم نظریہ عموماً یہ نہیں کہتا کہ “یہی نتیجہ لازماً نکلے گا”۔
یہ کہتا ہے: “یہ نتائج ممکن ہیں، اور ہر نتیجے کے ہونے کا امکان اتنا ہے۔”
اسی اصول کو بورن رول (Born Rule) کہتے ہیں۔
سادہ الفاظ میں:
• کوانٹم نظام کی ایک “حالت” ہوتی ہے۔
• جب آپ ناپتے ہیں تو کئی ممکنہ نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
• ہر ممکنہ نتیجے کے لیے نظریہ ایک درست “احتمال” دیتا ہے۔
یعنی: کوانٹم میکینکس ایک واقعہ کی قطعی پیش گوئی نہیں کرتی، مگر بار بار دہرانے پر نتائج کا شماریاتی نقشہ بہت درست دیتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کوانٹم اتفاق “افراتفری” نہیں، قانون کے تحت غیر یقینی ہے۔
اصل سوال: اتفاق کا مطلب کیا ہے—بےمعنی یا باقاعدہ؟
جب لوگ “اتفاق” سنتے ہیں تو کئی بار یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ کائنات بے مقصد ہو گئی۔ مگر کوانٹم طبیعیات ایک زیادہ نفیس تصویر پیش کرتی ہے: غیر یقینی کے باوجود نظم موجود رہ سکتا ہے۔
یہ ممکن ہے کہ حقیقت کی ساخت تہہ دار ہو:
• قوانین کی سطح پر: سمٹری، نظم، ضابطہ
• واقعات کی سطح پر: تنوع، امکانات، غیر پیش بینی
• انسانی تجربے کی سطح پر: محدود مشاہدہ، محدود پیش گوئی
یہ تصویر صرف طبیعیات تک محدود نہیں۔ زندگی میں بھی ایک دن انتشار لگتا ہے، مگر برسوں میں سمت دکھائی دیتی ہے۔ ایک خبر یا افواہ اچانک پھیل جاتی ہے، مگر بڑے پیمانے پر سماجی پیٹرنز باقاعدگی سے سامنے آتے ہیں۔ ایک فرد کا نتیجہ غیر متوقع ہو سکتا ہے، مگر آبادی کی سطح پر شماریاتی قوانین کام کرتے ہیں۔
کوانٹم دنیا شاید یہی بتا رہی ہے کہ حقیقت میں “اتفاق” کا مطلب بے قاعدگی نہیں—بلکہ قانونی امکانات ہیں۔
توحید سے محتاط ربط: وحدت بطور معنی، نہ کہ “ثبوت”
اب سوال یہ ہے کہ توحید—اللہ کی یکتائی—سے اس بحث کو کیسے جوڑا جائے، بغیر اس کے کہ سائنس سے وہ دعوے کروائے جائیں جو اس کے دائرے میں نہیں؟
ذمہ دارانہ جواب یہ ہے: اسے دلیل نہیں، تامل سمجھا جائے۔
توحید کو طبیعیات کی سند کی ضرورت نہیں۔ مگر کوانٹم نظریہ ایک مفید استعارہ ضرور دیتا ہے: کائنات ایک ہی نظام میں وحدتِ قانون رکھتی ہے، چاہے نتائج کی سطح پر تنوع اور غیر یقینی موجود ہو۔ نظم اور عدمِ تعین ایک دوسرے کی ضد ضرور ہیں، مگر لازماً ایک دوسرے کی نفی نہیں۔
یوں “الٰہی کوانٹم ماڈل” کا محتاط مفہوم یہ بن سکتا ہے:
جو چیز ہماری نظر میں اتفاق لگتی ہے، وہ بےمعنی نہیں۔ کوانٹم سطح پر امکانات قانون کے اندر رہ کر وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ ایمان کا زاویہ اس کو وحدتِ نظم کی علامت سمجھ سکتا ہے—مگر اسے سائنسی ثبوت نہیں بناتا۔
Quote Box) کالم کے سائیڈ میں لگانے کے لیے (
“کوانٹم دنیا ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ کائنات بےقاعدہ ہے؛ وہ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ غیر یقینی بھی قانون کے اندر رہ سکتی ہے۔”
مختصر اختتامی “شعری” پیراگراف
نظم بھی اسی کا، امکان بھی اسی کا—ہمیں جو اتفاق لگے
وہ بھی کسی ضابطے میں بند ہے، بس آنکھ کو ادراک لگے
توحید کا مفہوم یہی ہے: کثرت میں بھی وحدت کی جھلک
قانونِ فطرت کی زبان میں، “ایک” ہی کی تحریر لگے