رانی گنج یکم جولائی ( پریس ریلیز) : شعبہ اردو رانی گنج گرلس کالج میں مغربی بنگال اردو اکادمی کے اشتراک سے بتاریخ 28اور 29 جون 2022 د روزہ قومی سیمینار بہ عنوان اُردو افسانے میں تانیثی رجحانات کا انعقاد کیا گیا ڈاکٹر محمد فاروق اعظم صدر شعبہ اردو،رانی گنج گرلس کالج کے زیرِ نگرانی یہ دو روزہ سیمینار کامیابی سے همکنار ہوا اس سیمینار میں دور دراز سے آئے مہمانوں نے شرکت کی۔ ان مہمانوں میں پروفیسر نجمہ رحمانی (دہلی یونیورسٹی), پروفیسر توقیر عالم (بھیم را او امبیڈکر یونیورسیٹی ) ڈاکٹر عمر غزالی(ہگلی محسن کالج) وغیرہ کا نام قابل ذکر ہے۔پروگرام کا افتتاح تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔کالج کی طالبہ گل افشاں خانم کے کلام پاک کی تلاوت سے پو رے ہال میں نورانی سما پیدا ہوگیا۔اس کے بعد کالج کی پرنسپل ڈاکٹر چھبی دے نے افتتاحی خطبہ اردو زبان میں اتنی صاف،سلیس اور شستہ انداز میں پیش کیا کہ سبھی سامعین پرنسپل صاحبہ کی اُردو تقریر سن کر حیرت زدہ رہ گئے۔دہلی یونیورسٹی سے تشریف فرما پروفیسر نجمہ رحمانی نے یہاں تک کہا کہ”جو زبان کے ساتھ بھید بھاؤ کرتے ہیں ان کے لیے آپ کی تقریر مثال ہے. کیوں کہ آپ نے اپنی مادری زبان سے ہٹ کر اردو زبان میں گفتگو کر کے مثال قائم کی ہے. ہم سبھو کو چاہیے کہ ایک دوسرے کی زبان سیکھیے اور بولے” اس کے بعد پروفیسر توقیر احمد صاحب نے تانیثی رجحان کے حوالے سے باتیں کر تے ہوئے کہا کہ تانیثی رجحان گر چہ علیگڑھ تحریک اور ترقی پسند تحریک کی طرح کوئی منظّم تحریک نہیں بن پائی پھر بھی ادب پر اس کے اثرات کافی دیر پا ثابت ہوئے۔اس کے بعد پروفیسر نجمہ رحمانی نے اپنے کلیدی خطبہ میں کہا کہ ہمیں اپنے اندر diversity پیدا کرنی ہوگی جبھی ہم مرد،عورت دونوں کے ساتھ انصاف کر پائیں گے۔اس کے بعد سیمینار کے پہلے سیشن کا آغاز ہوا جس میں پروفیسر نجمہ رحمانی اور پرفیسر توقیر عالم صاحب نے صدور کے فرائض انجام دیئے۔سیمینار کے پہلے سیشن میں چار مقالہ نگاروں نے اپنے مقالے پڑھے۔ان مقالہ نگاروں میں ڈاکٹر صوفیہ شیرین سریندر ناتھ کالج ،کولکاتہ( مرد افسانہ نگار وں کا تانیثی رجحان) ،ڈاکٹر مشكور عالم صدر شعبہ اردو بی بی کالج آسنسول( تبسم فاطمہ کے افسانوں میں تانیثی لہجہ)، ڈاکٹر جمشید احمد ،صدر شعبہ اردو بی سی کالج آسن سو ل ( تانیثیت کی روشنی میں غزل زہگم کے افسانے_ نیک پروین) اور ڈاکٹر صوفی ظفر شاہد ،کلٹی کا لج ( تانیثی رجحان کا فروغ اور خاتون افسانہ نگار ) شامل ہیں۔سیمینار کے دوسرے سیشن میں پروفیسر توقیر احمد اور ڈاکٹر عمر غزالی نے صدور کے فرائض انجام دیئے۔دوسرے سیشن میں جن مقالہ نگاروں نے شرکت کی ان میں ڈاکٹر فر زا نہ شاہین ،صدر شعبہ اردو سیرام پور کالج هورا ( خواتین کے افسانوں میں تانیثی رجحانات ) ،ڈاکٹر شفقت کمال،صدر شعبہ اردو ٹی ڈی بی کالج رانی گنج ( تانیثی رجحان کا فروغ اور خاتون افسانہ نگار )، جانب آ فاق حیدر ،سریندر ناتھ کالج ( منٹو کے افسانے میں تانیثی مساءل کی بازگشت ) اور جنابِ آفتاب عالم ریسرچ اسکالر ٹی ڈی بی کالج رانی گنج ( اردو افسانہ اور تانیثیت ) نے اپنے مقالے کے ذریعہ اردو افسانے میں تانیثی رجحان کو تلاشنے کی کوشش کی۔ پہلے دن کا سیمینار ڈاکٹر شہنور حسین استاذ شعبہ اردو رانی گنج گرلس کالج کے ہدیہ تشکر کے ساتھ کامیابی سے ہمکنار ہوا۔دو روزہ قومی سیمینار کا دوسرا دن تین سیشن پر مشتمل تھا جس کے پہلے سیشن کی صدارت ڈاکٹر عمر غزالی اور پروفیسر توقیر احمد نے کی ۔دوسرے سیشن کی صدارت ڈاکٹر عمر غزالی اور معروف افسانہ نگار الحاج نذیر احمد یوسفی نے کی ۔ تیسرے سیشن کی صدارت ڈاکٹر عمر غزالی اور معروف افسانہ نگار ڈاکٹر عشرت بیتاب نے کی۔ اس طرح دوسرے دن کے تین اجلاس میں کل ملا کر تیرہ مقالہ نگاروں نے اپنا مقالہ پیش کیا ۔ان مقالہ نگاروں نے مختلف زاویہ نگاہ سے اُردو افسانے میں تانیثی رجحان پر گفتگو کی۔ جن میں ڈاکٹرنکہت پروین صدر شعبہ اردو شباش چندر بوس کالج مرشد آباد ( راشد الخیری کے افسانے میں تانیثی رجحانات ) ،ڈاکٹر نغمہ نگار مہمان لکچرر شعبہ اردو قاضی نذ رل یونیورسیٹی ( شایستہ بیگم صحرانوردی کے افسانوں میں تانیثیت ) ،ڈاکٹر درخشاں انجم استاد شعبہ اردو رانی گنج گرلس کالج ( خواجہ احمد عباس کے افسانوں میں تانیثیت ) ،ڈاکٹر محمد حلیم استاذ شعبہ اردو رانی گنج گرلس کالج ( اردو افسانے میں تانیثیت کے نقوش کی تلاش ) ،ڈاکٹر نہال احمد انصاری مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ( اردو افسانے میں تانیثی رجحان اور اجمالی جائزہ ) ،جناب معراج احمد معراج معروف شاعر و ادیب ( تانیثیت اور لا تانیثیت کے درمیان جھولتا افسانہ پت جھڑ کی آواز ) ،ڈاکٹر ریشماں خاتون استاذ شعبہ اردو رانی گنج گرلس کالج ( کہکشاں پروین کے افسانوں میں نسواءی حیثیت ) ،جناب محمد زبیر استاذ شعبہ اردو رانی گنج گرلس کالج ( بیدی کے افسانوں میں تانیثی نقوش ) ،ڈاکٹر رضا مظہر مہمان لکچر قاضی نذ رُل یونیورسیٹی ( پر یم چند ، منٹو اور عصمت کے منتخب افسانوں کا اجمالی جائزہ ) ،محترمہ سیمیں رخسار ریسرچ اسکالر شعبہ اردو رانی گنج گرلس ( اردو افسانے میں تانیثی رجحانات ) ،محترمہ نصیبہ خاتون ریسرچ اسکالر شعبہ اردو رانی گنج گرلس کالج ( رشید جہاں کے افسانوں میں تانیثی رجحانات ) اور محترمہ زینت پروین ریسرچ اسکالر شعبہ اردو رانی گنج گرلس کالج ( ہاجرہ مسرور کے افسانوں میں تانیثی رجحانات ) ۔آخر میں صدر شعبہ اردو ڈاکٹر محمد فاروق اعظم نے سبھی مہمانوں، مقالہ نگاروں،اپنے کالج کی پرنسپل ،اپنے ساتھی اساتذہ اور اپنے طالبات کا شکریہ ادا کیا۔ اس طرح یہ دو روز قومی سیمینار بہ حسن خوبی اختتام پزیر ہوا ۔


















