آسنسول کے کلیان پور سیٹلائٹ ٹاؤن شپ علاقہ میں واقع آسنسول کالیجیٹ اسکول میں ایک طالب علم کے شدید طور پر زخمی ہونے کے بعد والد اور پریوار کے افراد نے اسکول کے گیٹ کے باہر جمعرات کے دن زبردست احتجاج کا مظاہرہ کیا۔احتجاج کے دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے طالب علم کے والد سجاد خان نے اسکول انتظامیہ پر سنگین الزامات لگائے ہیں اور طلبہ کو تحفظ فراہم کرانے کے حفاظتی اقدامات پر سوال اٹھایا ہے۔ریل پار شیر تالاب علاقہ کے رہنے والے سجاد خان کا بیٹا آسنسول کالیجیٹ اسکول کا طالب علم ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 4 مارچ کو اسکول انتظامیہ کی جانب سے انکے پاس فون آیا کہ کھیل کے دوران انکے بیٹے کو چوٹ لگ گئی ہے۔اسکول انتظامیہ علاج کے لیے بچے کو ایچ ایل جی اسپتال لے گئی۔ بچے کی نازک حالت کو دیکھتے ہوئے اسپتال میں اسے بھرتی لینے سے معذرت کا اظہار کیا۔سجاد خان نے بتایا کہ اسکول والوں نے یہ کہا تھا کہ بچے کو چوٹ لگی ہے۔لیکن بیٹے کی حالت دیکھ کر میں گھبرا گیا وہ شدید طور پر زخمی تھا۔ایچ ایل جی اسپتال نے اس کی نازک حالت کو دیکھتے ہوئے بھرتی لینے سے انکار کردیا۔ فوری طور پر میں اور پریوار کے افراد اسے ہیلتھ ورلڈ اسپتال لے گیے۔جہاں ہنگامی طور پر اسکا آپریشن کیا گیا اور اب بھی اس کا علاج چل رہا ہے۔سجاد خان نے کہا کہ ان کے بیٹے کو معمولی چوٹ نہیں بلکہ اندرونی طور پر گہری چوٹ لگی ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر گرنے کی وجہ کر انکے بیٹے کو چوٹ لگی ہے تو پھر شرٹ اور گنجی میں بڑے بڑے سوراخ کیسے ہیں۔انہوں نے الزام لگاتے ہوءے کہا کہ اسکول انتظامیہ صحیح جانکاری نہیں دے رہی ہے اور معاملہ دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔دوسری جانب اسکول کی پرنسپل نے تمام الزامات کو بے بنیاد بتایا۔انہوں نے کہا کہ طالب علم کے زخمی ہونے کے بعد اسکول انتظامیہ نے فوری طور پر آسنسول کے ایک نجی اسپتال میں بچے کے علاج کا انتظام کیا اور اب بھی طالب علم کی صحت سے متعلق جانکاری لے رہی ہے۔انہوں نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ انتظامیہ بچے کو سرکاری اسپتال میں داخل کرانے بات کہی تھی۔پرنسپل کا کہنا ہے کہ اسکول میں تعمیراتی کام مکمل ہوچکا ہے اور ملبہ بھی صاف کر لیا گیا ہے ۔یہ دعویٰ کہ اسکول میں ملبہ کا انبار ہے، غلط ہے۔





















