(پریس ریلیز)
*آئینِ ہند ہر شہری کو عزت دیتا ہے اور اس کی پاسداری ضروری ہے:مولانا محمد اظہر مدنی*
اقرا انٹرنیشنل اسکول میں پورے جوش و خروش اور عقیدت کے ساتھ یومِ جمہوریہ کی مناسبت سے طلبہ و طالبات کے علمی و ثقافتی پروگرام کا انعقاد
نئی دہلی26؍جنوری 2026ء
جنوبی دہلی میں واقع معروف دانش گاہ اقرا انٹرنیشنل اسکول میں ۷۷ویں یومِ جمہوریہ کی مناسبت سے جشنِ یومِ جمہوریہ نہایت جوش و خروش اور بھرپور عقیدت کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس موقع پر اسکول کے ڈائریکٹر مولانا محمد اظہر مدنی کے ہاتھوں قومی پرچم کشائی کی رسم ادا کی گئی۔ بعد ازاں اسکول کے طلبہ و طالبات نے رنگا رنگ علمی اور ثقافتی پروگرام نہایت عمدگی اور مؤثر انداز میں پیش کیے، جنہیں دیکھ اور سن کر حاضرین نے طلبہ و طالبات کی شاندار کارکردگی کو خوب سراہا، انہیں اپنی دعاؤں سے نوازا اور ادارے کے ذمہ داران کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
پروگرام کا آغاز آٹھویں جماعت کی طالبہ ادیبہ شاہین کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے نہایت خوبصورت انداز میں حدیثِ نبوی ﷺ اور اس کے اردو و انگریزی ترجمے پیش کیے۔ آسیہ وسیم (کلاس چہارم) نے اردو میں، عشرہ سلیم نے انگریزی میں، سودا رئیس نے ہندی میں اور رقیہ عبدالرحمن نے عربی زبان میں آئینِ ہند، اس کے شہریوں سے مطالبات اور تقاضوں پر نہایت مفید تقاریر پیش کیں۔ نرسری کلاس کے شاہین صفت بچوں نے نغمہ ’’ہم ننھے منھے راہی ہیں‘‘ پر شاندار پرفارمنس پیش کی۔ پہلی جماعت کی طالبات رباب اینڈ گروپ نے ’’انڈیا والے سانگ‘‘ پر خوبصورت پروگرام پیش کیا۔ سائبر اٹیک اور اس سے بچاؤ کے طریقوں پر قدیمہ اینڈ گروپ نے سماجی بیداری سے بھرپور پروگرام پیش کیا، جب کہ موبائل ایڈکشن کے موضوع پر واہبہ زماں اور ان کی سہیلیوں نے تمثیلی پروگرام پیش کر کے حاضرین سے بھرپور داد حاصل کی۔ قومی گیت اور قومی ترانہ بھی نہایت عقیدت اور احترام کے ساتھ پیش کیا گیا۔
بعد ازاں اسکول کے ڈائریکٹر مولانا محمد اظہر مدنی نے طلبہ کے والدین اور سرپرستوں سے خطاب کرتے ہوئے یومِ جمہوریہ کی پرخلوص مبارک باد پیش کی اور کہا کہ آئینِ ہند دنیا کا جامع دستور ہے۔ یہ آئین ہر شہری کو عزت، آزادی اور برابری کا حق عطا کرتا ہے، کیونکہ کسی بھی ملک کی ترقی کا راز یہی ہے کہ وہاں کے شہری کس قدر عزت، آزادی اور مساوات کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ جب کسی ملک اور قوم کے شہریوں کے درمیان بھید بھاؤ، اونچ نیچ اور ذات پات جیسی بیماریاں سرایت کر جائیں تو وہ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔
مولانا مدنی نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یومِ جمہوریہ ہند ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم جشن تو منائیں ہی، لیکن اس موقع پر اس عہد کی تجدید بھی کریں کہ ہم آئین کی بالادستی کو قائم رکھیں گے، ہندوستان میں قومی یکجہتی ، مذہبی رواداری اور امن و آشتی کو فروغ دیں گے اور وطنِ عزیز کی تعمیر و ترقی میں اپنا ممکنہ اور مثبت کردار ادا کریں گے۔یہ وطن سے محبت کی علامت ہے۔
مولانا نے والدین سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ نے اپنے بچوں کی تعلیمی اور ثقافتی کارکردگی کا مشاہدہ کیا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں نے جس اعتماد، حوصلے اور متاثر کن انداز میں پروگرام پیش کیا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کے بچے محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ بس آپ اپنے بچوں پر محنت جاری رکھیں، ان کے لیے دعائیں کرتے رہیں اور اسکول کے ساتھ تعاون کا جذبہ برقرار رکھیں، کیونکہ والدِ محترم حضرت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے اسی جذبے کے ساتھ اس اسکول کی بنیاداس وقت رکھی تھی جب یہاں کوئی اسکول نہیں تھا تاکہ تعلیم کو فروغ دیا جائے اور نسلِ نو کو تعلیم سے آراستہ کر کے ایک باصلاحیت، ذمہ دار اور حساس نسل تیار کی جائے۔
اس پروگرام میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ڈاکٹر ادریس قریشی، صدر مسلم مجلس مشاورت دہلی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بچوں کے پروگرام دیکھ کر وہ واقعی ششدر رہ گئے، کیونکہ بچوں نے جس اعتماد، سنجیدگی اور عمدگی کے ساتھ پروگرام پیش کیا، وہ قابلِ ستائش ہے۔ تمام پروگرام نہایت معنی خیز اور مفید تھے اور ہر پروگرام اپنے اندر ایک واضح پیغام رکھتا تھا۔

ڈاکٹر موصوف نے مزید کہا کہ بلا شبہ مولانا اظہر مدنی تعلیم کے فروغ کے لیے قابلِ احترام اور قابلِ تقلید کوششیں کر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان کے ساتھ تعاون کریں اور ہمیشہ اس تعاون کو جاری رکھیں، کیونکہ تعلیم سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں، اور تعلیم کی خدمت کرنے والے ہی درحقیقت قوم کے بہترین افراد ہوتے ہیں۔
اس موقع پر معروف سماجی کارکن کیلاش دائمہ نے کہا کہ جنوبی دہلی کا یہ اقرا انٹرنیشنل اسکول علاقے کے بہترین اسکولوں میں شمار ہوتا ہے، جو تعلیم کے لیے ضروری سہولیات سے لیس ہو کر نونہالانِ قوم و ملت کی بہترین خدمات انجام دے رہا ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم مولانا مدنی کے ساتھ جڑے رہیں اور اس مشن کو مزید تقویت دیں تاکہ وہ آئندہ بھی مثالی کارنامے انجام دے سکیں۔

اس پروگرام میں جن اہم شخصیات نے شرکت کی ان میں مولانا رئیس فیضی، امریکی ہاسپٹل کے معروف ریسرچ اسکالر وحید الزماں صاحب، ماس ہاسپٹل کے معروف سرجن ڈاکٹر محمد اسعد، وطن سماچار کے ایڈیٹر جناب محمد احمد، انجینئر تسلیم عارف، عبداللہ سلفی، نسیم فیضی، عبدالمعبود، وسیم ریاضی، امان اللہ عرف بھیم صاحب، ارشاد ریاضی، ایڈوکیٹ اسد اللہ ریاضی، عبدالمجید عرف گڈو وغیرہ شامل ہیں، جو سبھی اہم اور قابلِ ذکر ہیں۔
پروگرام میں نظامت کے فرائض آٹھویں جماعت کی طالبات فاطمہ اور علینہ ساحل نے انگریزی میں، جب کہ روزی دا اور یسریٰ زاہد نے اردو میں نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ پروگرام کے اختتام پر حاضرین کے مابین شیرینی تقسیم کی گئی۔






















