Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*ایسٹرن ریلوے ہائر سیکنڈری ملٹی پرپز اسکول میں داخلہ پالیسی کے خلاف والدین و طلبہ کا احتجاج*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ایسٹرن ریلوے ہائر سیکنڈری ملٹی پرپز اسکول کے سامنے جمعہ کو والدین اور طلبہ نے داخلہ کے نئے ضوابط کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ پہلے یہ اسکول مغربی بنگال بورڈ کے تحت چلتا تھا، مگر 2022 میں اسے اچانک سی بی ایس ای بورڈ کے دائرے میں لے آیا گیا۔ اب جب کہ طلبہ گیارہویں اور بارہویں جماعت میں داخلے کے لیے آ رہے ہیں تو اسکول انتظامیہ کی جانب سے انہیں داخلہ امتحان دینے کے لیے کہا جا رہا ہے، جس میں آئی سی ایس ای کے طلبہ کے ساتھ مقابلہ کرنا ہوگا جسے وہ سراسر غیر منصفانہ قرار دے رہے ہیں۔
احتجاج میں شامل طلبہ نے بتایا کہ ان کا داخلہ 2016 میں پہلی جماعت میں ہوا تھا، اس وقت اسکول ہندی میڈیم اور مغربی بنگال بورڈ سے منسلک تھا۔ مگر 2022 میں اچانک اسکول انتظامیہ نے اعلان کیا کہ تمام طلبہ کو سی بی ایس ای بورڈ کے تحت لایا جائے گا، ورنہ انہیں ٹرانسفر سرٹیفکیٹ دیا جائے گا۔ والدین نے اپنے بچوں کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے مجبوری میں یہ فیصلہ قبول کیا۔ تاہم اب جب داخلے کے وقت ان سے انگریزی میڈیم کے آئی سی ایس ای طلبہ کے ساتھ امتحان دینے کے لیے کہا جا رہا ہے، تو وہ خود کو نقصان میں محسوس کر رہے ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کی پوری تعلیم ہندی میڈیم میں ہوئی ہے، لہٰذا انگریزی میڈیم طلبہ کے ساتھ امتحان میں مقابلہ کرنا ان کے لیے ناممکن ہے۔ والدین نے بھی اس پالیسی پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ سب متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور پرائیویٹ اسکولوں کی بھاری فیس برداشت نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ریلوے کے اسکول میں اپنے بچوں کو داخل کیا تھا، مگر اب نئے قوانین کے سبب ان کے بچوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ اس سلسلے میں جب اسکول کی ایک خاتون افسر سے بات کی گئی تو انہوں نے تسلیم کیا کہ آج والدین اور طلبہ نے احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اعلیٰ حکام کے علم میں لایا جائے گا، اور کسی بھی فیصلے کا اختیار انہی کے پاس ہے۔ اسکول انتظامیہ نے والدین سے سات دن کا وقت مانگا ہے تاکہ اس مسئلے کا مناسب حل تلاش کیا جا سکے۔