Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*کڈس کی رنگا رنگ تعلیمی تقریب میں طلبہ کی امڈی بھیڑ* *293 طلبہ،اساتذہ وگارجین انعامات سے نوازے گئے،مشاعرہ کی بھی سجی محفل*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*کڈس کی رنگا رنگ تعلیمی تقریب میں طلبہ کی امڈی بھیڑ*

*293 طلبہ،اساتذہ وگارجین انعامات سے نوازے گئے،مشاعرہ کی بھی سجی محفل*

خصوصی رپورٹ :
*امتیاز احمد انصاری*

موجودہ وقت میں ریاست مغربی بنگال میں طلبہ کی تعلیمی ترقی کےلئے کوشاں غیر سرکاری تنظیموں میں کڈس(کوی تیرتھ انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اینڈ اسٹڈیز) سر فہرست ہے۔ اس تنظیم کے بانی ،روح رواں اور جنرل سکریٹری محمد رضوان(سابق ایڈیشنل لیبر کمشنر) کی سربراہی میں کڈس کی پوری ٹیم نےاپنے طور پر ایک نئی مگر قابل تقلید کوشش کرتے ہوئے مادری زبان والے اردو،ہندی اور بنگلہ میڈیم اسکولوں کےدرجہ نہم،دہم،یازدہم اور دوازدہم کے طلباء وطالبات کونصاب کی بنیاد پرمسابقتی امتحان کےطرزپر او ایم آر شیٹ پر اسٹوڈنٹس ایوالیویشن ٹسٹ (SET ) کاانعقاد کیا جوگذشتہ سال 7 دسمبر کو ریاست بھر کے سات اضلاع کے 12 سنٹروں پر ایک ہی وقت میں ہوا۔اس میں 67 اسکولوں کےکل 10100 طلبہ شامل ہوئے تھے۔ ان میں سے 293 طلبہ کو ان کی بہترین  کارکردگی کی بنیاد پر استقبالیہ اور تقسیم ایوارڈ  پروگرام کاانعقاد دھونودھانو آڈیٹوریم میں میں کیا گیا۔کولکاتہ کے  اس شاندار اور بہترین  آڈیٹوریم میں پہلی بار طلبہ کی بہت بڑی بھیڑ دیکھنے کو ملی جن میں کولکاتہ اطراف کے علاؤہ رانی گنج ، آسنسول اور پرولیا کے طلبہ اور ان کے گارجینوں کی اتنی بڑی تعداد شامل تھی کہ ہال میں بیٹھنے کی گنجائش نہ رہی اور بےشمار طلبہ وگارجین ہال کی نچلی منزل پر اس انتظار میں بیٹھے نظر آئے کہ اندر سے کچھ لوگ باہر نکلیں تو انہیں بھی اس یادگار اور تاریخی پروگرام کاحصہ بننے کا موقع ملے۔بہرحال تین دور پر مشتمل کڈس کے اس تاریخی پروگرام کااغاز نوشاد علی نے کڈس کا خوبصورت ترانہ اپنی مخملی آواز میں پیش کرکے کیا ۔دورحاضر میں ریاست میں تعلیمی تحریک کے سب سے بڑے علمبرداراور بےلوث سماجی خدمت گار محمد رضوان نے سکریٹری رپورٹ کے ذریعہ کڈس کےاب  تک کےتعلیمی سفر کی تفصیل اور مستقبل کے ارادے بیان کرتے ہوئے یہ خوشخبری بھی سنائی کہ عنقریب کڈس انٹرنیشنل گروکل کی بنیاد ڈالی جائے گی جس کے لئے تعلیم سے محبت کرنے والے ایک مخلص بندہ نے کئی بیگھہ زمین اس مقصد کے لئے وقف کرنے کا وعدہ کیا ہے۔موصوف نے تمام مہمانوں ،طلبہ اور گارجین کے ساتھ کڈس کے تعلیمی پروگرام میں ہرطرح سے تعاؤن پیش کرنے والوں کا اپنی اور پوری ٹیم کی جانب سے شکریہ ادا کیا۔بعدازاں صدف رضوان نے اپنی سحر انگیز نظامت کاجادو جگاتے ہوئے ڈائس پر تشریف فرما انڈین بائیو ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے چیئرمین بھگوان رائے ، آسنسول کارپوریشن کے ڈپٹی مئیر سید وسیم الحق ، آسٹریلیا میں مقیم اسکالر ڈاکٹر جاوید اختر محمد، رام کرشن مشن پرولیا ڈپارٹمنٹ آف ہسٹری کے ڈاکٹر محمدانوارالحق، ٹالی ووڈ کے ابھرتے اسٹاراور جوان دلوں کی دھڑکن رضوان محمد،کھوسلہ انٹرپرائز کی خوشبو کھوسلہ،اقبال انصاری،محمد رضوان ،گوپال سونار ودیگر مہمانوں کی عزت افزائی کے بعدمعروف شاعر و ادیب اور ڈبلیو بی سی ایس آفیسر سید انجم رومان کی ادارت میں شائع ہونے والا  کڈس کا اولین  ترجمان خوبصورت اور معیاری مجلہ انسپائر کااجراء ان ہی مہمانوں کے ہاتھوں ہوا۔ معزز مہمانوں کےذریعہ اسٹوڈنٹس ایوالیویشن ٹسٹ میں ریاستی سطح پر اول نمبرسے کامیاب ہونے والی عالیہ خاتون (کولکاتہ) اور سندیپ کمار (رانی گنج)سمیت 293 طلبہ کو انعامات کے چیک دئیے گئے جن میں 152 ٹاپ ٹین ،67 سبجیکٹ ٹاپر ،50 اساتذہ واستانیوں کے ساتھ 21ٹاپر طلبہ کے گارجینوں کو بھی ایوارڈ و تحائف پیش کئے گئے۔علاوہ ازیں تین ایسے اسکول جن کے طلبہ نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ان اسکولوں کے ساتھ ریاست بھر میں مذکورہ ٹسٹ کو کامیابی سے ہمکنار کرانے میں ہوڑہ ہائی اسکول کے ہیڈماسٹر محمد آفتاب ، آسنسول کے امتیاز احمد انصاری اور رانی گنج کے افتخار احمد کو بہترین کوآرڈینیٹر ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔تمام مہمانوں نےاپنے تاثرات کے دوران کڈس کی اس انفرادی اور بامقصد کوشش کی بھرپور ستائش کی اور طلبہ کی تعلیمی ترقی کے لئے محمد رضوان اور کڈس کی پوری ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کیا۔دوران تقریب مختلف اسکولوں کے ننھے منے طلباء وطالبات نے رنگا رنگ ثقافتی پروگرام پیش کرکے ناظرین کا دل جیت لیا۔دن کے گیارہ بجےشروع ہونے والے اس پروگرام کااختتام پروقار مشاعرہ پرہوا۔ “ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے”  کے عنوان سے منعقدہ اس مشاعرہ کی صدارت بزرگ شاعر حلیم صابر نے کی جبکہ  ارشاد آرزو کی خوبصورت نظامت میں احمد کمال حشمی،ڈاکٹر عقیل احمد عقیل،عظیم انصاری، شمیم انجم وارثی،وقیع منظر،سید انجم رومان،اشرف یعقوبی، نسیم فائق،ڈاکٹر احمد معراج،فیروزاختر،خلوص گیاوی،عامر عطا،محمد رضوان شبیری کوثر پروین،شہناز رحمت،رونق افروز اور فوزیہ اختر ازکی نے اپنی اپنی تخلیقات پیش کرکے خوب خوب داد وتحسین بٹورے۔محمدرضوان شبیری کے اظہار تشکر کےساتھ اس یادگار اور تاریخی پروگرام کے خاتمے کا اعلان کیا گیا ۔