*انقلابِ ایران کا گمنام معمار: ڈاکٹر علی شریعتی کی فکری میراث*
*ڈاکٹر علی شریعتی: خانقاہوں سے سڑکوں تک کا فکری سفر*
*مذہب اور جدید عمرانیات کا سنگم: شریعتی کا انقلابی وژن*
*پیرس سے تہران تک: ایک انقلابی مفکر کی نظریاتی آبیاری*
ازقلم: اسماء جبین فلک

بیسویں صدی کی ساتویں دہائی کا ایران محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسا نظریاتی اور سیاسی رزم گاہ بن چکا تھا جہاں روایتی آمریت، نوآبادیاتی تسلط اور مذہبی جمود کے خلاف ایک شدید فکری کشمکش جنم لے رہی تھی۔ اس پرآشوب دور میں ایرانی معاشرے کی فکری آبیاری اور سیاسی بیداری میں جس مفکر نے کلیدی اور فیصلہ کن کردار ادا کیا، وہ بلاشبہ ڈاکٹر علی شریعتی تھے۔ شریعتی کی اہمیت اس بات میں پوشیدہ نہیں ہے کہ انہوں نے کسی مروجہ سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی یا روایتی معنوں میں کوئی عسکری جدوجہد کی، بلکہ ان کا اصل کارنامہ وہ فکری انقلاب اور علمیاتی تبدیلی ہے جس کے ذریعے انہوں نے روایتی الہیات اور جدید مغربی عمرانیات کا ایک ایسا نادر امتزاج پیش کیا جس نے مذہب کو خانقاہوں کے سکوت سے نکال کر سماجی اور سیاسی مزاحمت کے صف اول میں لا کھڑا کیا۔ تاریخ افکار کا مطالعہ کرنے والے بخوبی آگاہ ہیں کہ شریعتی ایک محض جذباتی مقرر یا مافوق الفطرت انسان نہیں تھے، بلکہ وہ ایک نہایت گہرے اور پیچیدہ ماہر عمرانیات تھے جنہوں نے اپنے عصر کے تضادات کو سمجھا اور ایرانی نوجوانوں کے لیے ایک ایسا متبادل بیانیہ تخلیق کیا جو بیک وقت سامراج مخالف اور مقامی ثقافتی جڑوں سے پیوستہ تھا۔ ان کی فکری نشوونما کا آغاز خراسان کے ایک دور افتادہ گاؤں مزینان کے ایک مذہبی اور علمی گھرانے سے ہوا، مگر ان کے شعور کی اصل بالیدگی اس وقت ہوئی جب انہوں نے 1950 کی دہائی میں محمد رضا شاہ پہلوی کے استبدادی اور استعماری حمایت یافتہ نظام کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں کا بغور مشاہدہ کیا۔
شریعتی کی فکری تعمیر کا سب سے اہم مرحلہ ان کا پیرس کا قیام (1959 سے 1964) تھا، جہاں وہ ایک اسکالر کی حیثیت سے گئے مگر ایک انقلابی مفکر کے طور پر لوٹے۔ پیرس کا یہ دور محض ایک تعلیمی سفر نہیں تھا، بلکہ یہ ان کے لیے ایک ایسی نظریاتی تجربہ گاہ ثابت ہوا جہاں انہوں نے ژاں پال سارتر کے وجودیت پسند فلسفے اور فرانز فینن کی نوآبادیاتی مزاحمت کے نظریات کا گہرا اور تنقیدی مطالعہ کیا۔ شریعتی نے مغرب کے ان فکری دھاروں کو آنکھیں بند کر کے قبول نہیں کیا، بلکہ ان کا ایک ناقدانہ تجزیہ کیا۔ ایک طرف جہاں انہوں نے مارکسی فلسفے سے طبقاتی کشمکش اور معاشی مساوات کے تصورات کو اخذ کیا، وہیں دوسری طرف انہوں نے مارکسزم کے مادیت پسندانہ اور لادین رجحانات کو یکسر مسترد کر دیا۔ شریعتی کا استدلال تھا کہ مغرب کی مادی ترقی انسان کو روحانی طور پر کھوکھلا کر کے ایک مشین کا پرزہ بنا رہی ہے، جبکہ مارکسزم انسان کی روحانی جہتوں کا منکر ہو کر محض ایک نامکمل معاشی جبرانیت کی تصویر پیش کرتا ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے توحید کی ایک بالکل نئی، عمرانی اور انقلابی تشریح پیش کی۔ ان کے نزدیک توحید محض خدا کی وحدانیت کے اقرار کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسا کائناتی اور سماجی عالمی نقطہ نظر تھا جو معاشرے میں ہر قسم کے طبقاتی استحصال، نسلی امتیاز اور معاشی ناہمواری کی نفی کرتا تھا۔ شریعتی نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی شخصیت کو ایک مثالی معاشی انصاف پسند کے طور پر متعارف کروایا، جو اس بات کا غماز تھا کہ اسلام کی بنیاد میں ہی دولت کے ارتکاز اور طبقاتی تقسیم کے خلاف ایک مضبوط اور توانا آواز موجود ہے۔
اس فکری جدوجہد کا عروج ان کا پیش کردہ سرخ شیعت بمقابلہ سیاہ شیعت کا نظریہ تھا، جو مذہب کی سماجیات کے میدان میں ایک معرکہ آراء تصور مانا جاتا ہے۔ شریعتی نے تاریخ کا بے لاگ تجزیہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ سیاہ شیعت وہ مسخ شدہ مذہب ہے جسے حکمران طبقات اور ان کے حامی علما نے عوام کو ذہنی طور پر مفلوج، غیر متحرک اور تقدیر پرست بنانے کے لیے استعمال کیا، تاکہ وہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے بجائے محض گریہ و زاری اور رسوم و رواج تک محدود رہیں۔ اس کے برعکس، انہوں نے سرخ شیعت کی اصطلاح وضع کی، جس کا سرچشمہ امام علی علیہ السلام کا عدل اور میدان کربلا کی مزاحمت ہے۔ شریعتی کے نزدیک سرخ شیعت ایک ایسا انقلابی نظریہ ہے جو جبر کے آگے سر جھکانے سے انکار کرتا ہے اور ظالم نظام کے خلاف عملی جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔ ان کی معرکہ آراء تصانیف، جیسے حج اور فاطمہ فاطمہ ہے، میں یہی نظریہ پوری قوت کے ساتھ ابھرتا ہے جہاں مذہبی شعائر کو محض رسومات کے بجائے ایک سماجی اور سیاسی بیداری کے استعارے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس انقلابی بیانیے کا براہ راست تقابلی مطالعہ لاطینی امریکہ کی آزادی کی الہیات سے کیا جا سکتا ہے۔ جس طرح گسٹاوو گٹیریز جیسے کیتھولک پادریوں نے مارکسی تجزیے کو استعمال کرتے ہوئے عیسائیت کو غریبوں کی آزادی کے ایک ہتھیار میں تبدیل کیا، بعینہٖ شریعتی نے شیعی الہیات کو نوآبادیاتی استعمار اور سرمایہ دارانہ استحصال کے خلاف ایک مزاحمتی نظریے کے طور پر ازسرنو مرتب کیا۔ اسی طرح جب ہم شریعتی کا موازنہ علامہ اقبال یا سید قطب جیسے اسلامی مفکرین سے کرتے ہیں، تو یہ واضح ہوتا ہے کہ جہاں اقبال کی توجہ اسلامی فلسفے کی تشکیل نو اور روحانی بیداری پر تھی، اور سید قطب کا زور ایک خالص سیاسی اور ریاستی اسلام پر تھا، وہاں شریعتی کی ساری توجہ مذہب کی عمرانی حرکیات اور عوام کی سماجی آزادی پر مرکوز تھی۔
تاہم، شریعتی کے اس نظریاتی انقلاب کو جہاں یونیورسٹی کے نوجوانوں اور پڑھے لکھے طبقے میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی، وہیں اسے روایتی مذہبی حلقوں اور بالخصوص دینی مدارس کی جانب سے شدید علمی اور فکری مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ یہ مخالفت محض علما کی اپنی اجارہ داری کھونے کے خوف پر مبنی نہیں تھی، بلکہ اس کی بنیادیں گہرے علمی اور منہجی اختلافات پر استوار تھیں۔ آیت اللہ مرتضیٰ مطہری، جو خود ایک جید عالم اور ابتدائی طور پر شریعتی کے حامیوں میں سے تھے، بعد ازاں ان کے شدید ناقد بن گئے۔ مطہری اور دیگر روایتی علما کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ شریعتی نے اسلام کی تشریح میں مغربی عمرانیات کو حد سے زیادہ دخیل کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں خالص اسلامی الہیات اور فقہی اصولوں کو مارکسی اور مادی عینک سے دیکھا جا رہا ہے۔ علما کے نزدیک، شریعتی کا فقہ اور مروجہ دینی علوم کو مسترد کرنا اور علما پر براہ راست تنقید کرنا نہ صرف مذہب کے بنیادی خدوخال کو مسخ کرنے کے مترادف تھا، بلکہ اس سے ایرانی معاشرے میں لادین بائیں بازو کے نظریات کے در آنے کا راستہ بھی ہموار ہو رہا تھا۔ یہ ایک کلاسیکی علمیاتی تصادم تھا؛ ایک طرف فقہ پر مبنی روایتی اسلام تھا، اور دوسری طرف عمرانیات اور فلسفہ تاریخ پر مبنی شریعتی کا انقلابی بیانیہ۔ اسی فکری تصادم نے بعد از انقلاب ایرانی ریاست کی ہیت بھی متعین کی۔
ریاستی جبر کا سامنا کرتے ہوئے شریعتی کو خفیہ پولیس کے بدترین تشدد اور قید تنہائی کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں، جس کے بعد وہ 1977 میں ایران سے ہجرت کر کے لندن چلے گئے جہاں وہ 44 برس کی عمر میں پراسرار طور پر دل کے دورے کا شکار ہو کر انتقال کر گئے۔ گو کہ عام طور پر اسے خفیہ پولیس کی کارروائی تصور کیا جاتا ہے، تاہم تاریخی معروضیت کا تقاضا یہ ہے کہ اسے اس دور کی پیچیدہ جغرافیائی سیاسی فضا میں پرکھا جائے جہاں خفیہ پولیس کے بیرون ملک قتل کے نیٹ ورکس ضرور موجود تھے، لیکن شریعتی کے حتمی معائنے اور شفاف تحقیقات کی عدم موجودگی میں مؤرخین اسے ایک معمہ ہی قرار دیتے ہیں۔ شریعتی کی وفات کے محض 2 سال بعد انقلاب ایران کامیاب ہو گیا، اور انقلاب کے ابتدائی دنوں میں ان کا نام اور کتابیں ہر زبان پر زد عام تھیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر، جیسے جیسے انقلاب کے بعد ایک ادارہ جاتی مذہبی ریاست کا ماڈل مستحکم ہوتا گیا، شریعتی کے افکار کو بتدریج سرکاری بیانیے اور نصاب سے بے دخل کیا جانے لگا۔ اس کی بنیادی اور تجزیاتی وجہ یہ تھی کہ شریعتی کی سوچ اساساً علما مخالف اور مسلسل انقلاب کی داعی تھی، جو ایک مستحکم اور فقہی اصولوں پر کھڑی ہونے والی نئی مذہبی ریاست کے ڈھانچے سے براہ راست متصادم تھی۔ ایک ایسی ریاست جہاں اقتدار اعلیٰ مکمل طور پر فقہا کے ہاتھ میں آ چکا ہو، وہاں شریعتی کا یہ نظریہ کہ اسلام کا اصل چہرہ طبقاتی کشمکش کے خلاف کھڑے ہونے والے مفکرین کا ہے نہ کہ درباری یا حاکم علما کا، ریاستی بیانیے کے لیے ایک مسلسل چیلنج بن سکتا تھا۔ الغرض، ڈاکٹر علی شریعتی ایک ایسے عظیم عمرانی مفکر تھے جنہوں نے اپنے معاشرے کو ذہنی غلامی اور مطلق العنانیت سے نجات دلانے کے لیے فکر کے جو دیے روشن کیے، وہ ان کی ذات کو پیش آنے والے تمام تر المیوں اور ادارہ جاتی فراموشی کے باوجود آج بھی عالمی سطح پر آزادی کی الہیات اور نوآبادیاتی مزاحمت کے نصاب کا ایک ناگزیر حصہ ہیں، جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ ایک حقیقی مفکر کی سوچ کسی بھی ریاستی جبر یا ادارہ جاتی سردمہری کی پابند نہیں ہوتی۔










