*ایرانی قیادت کا المیہ: حد سے زیادہ خود اعتمادی کے مضمرات*
*(شہادت کے رتبے سے پرے: حفاظتی تدابیر کی ناگزیریت)*
*بقلم: اسماء جبین فلک*
عسکری اور تزویراتی تاریخ کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ جب جنگ امریکہ اور اسرائیل جیسے سفاک، شاطر اور ہر قسم کی اخلاقی، قانونی اور انسانی قیود سے مکمل طور پر آزاد دشمنوں سے ہو، جن کی کمان ڈونلڈ ٹرمپ اور بنجمن نیتن یاہو جیسے بے غیرت اور بے شرم رہنماؤں کے ہاتھ میں ہو، تو قومی اور عسکری رہنماؤں کا تحفظ محض ایک انتظامی یا ذاتی معاملہ نہیں رہتا، بلکہ یہ جنگی حکمت عملی کا سب سے حساس اور بنیادی جزو بن جاتا ہے۔ تنازعات کی نفسیات میں قیادت کی بقا اور سلامتی کسی بھی قوم یا مزاحمتی تحریک کی قوتِ ارادی اور پائیداری کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ پیچیدہ اور خونریز منظر نامے میں، جہاں ایران اور اس کے اتحادیوں کا براہِ راست ٹکراؤ ان صیہونی اور امریکی طاقتوں سے ہے جو ٹارگٹڈ کلنگ، جاسوسی اور ریاستی دہشت گردی کو اپنا بنیادی اور مؤثر ترین ہتھیار مانتی ہیں، وہاں ایرانی قیادت کی پہ درپے شہادتیں کئی سنگین سوالات کو جنم دیتی ہیں۔ یہ تسلسل اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ محض جذباتی نعروں، تقریروں اور نظریاتی دعووں سے سی آئی اے اور موساد جیسے جدید اور بے رحم انٹیلی جنس نیٹ ورکس کا مقابلہ ہرگز نہیں کیا جا سکتا۔ ایران کی جانب سے اپنی جنگی حکمت عملیوں میں حفاظتی اور تدارکی اقدامات سے صرفِ نظر، غیر ضروری بے احتیاطی اور حد سے زیادہ خود اعتمادی اب اس کے دفاعی نظام کے لیے ایک مہلک خامی بن چکی ہے۔
امریکی اور اسرائیلی سفاکی کا اولین تقاضا یہ ہوتا ہے کہ صفِ اول کے رہنما خود کو غیر ضروری خطرات میں نہ ڈالیں، کیونکہ ان کی زندگیاں محض ان کی ذات تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ وہ پوری تحریک، ریاست اور دفاعی ڈھانچے کا محور ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے، ایران کے حفاظتی اداروں اور خود اعلیٰ سطحی رہنماؤں کی جانب سے بارہا ایسی سنگین بے احتیاطی کا مظاہرہ کیا گیا ہے جس کی قیمت انہیں اپنی جانیں دے کر چکانی پڑی ہے۔ ایرانی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں کے اندر ایک خطرناک حد تک حد سے زیادہ خود اعتمادی پائی جاتی ہے جو زمینی حقائق سے بالکل مطابقت نہیں رکھتی۔ مثال کے طور پر، جولائی 2024 میں ایرانی انٹیلی جنس کے وزیر اسماعیل خطیب نے نہایت فخر سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے نیٹ ورک اور اس کی صلاحیتوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ لیکن اس عظیم الشان دعوے کے چند روز بعد ہی تہران کے قلب میں پاسدارانِ انقلاب کی حفاظت میں موجود ایک مہمان خانے کے اندر حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ کو انتہائی آسانی سے شہید کر دیا گیا۔ یہ واقعہ ایک بہت بڑی اور تاریخی انٹیلی جنس ناکامی تھا جس نے آئی آر جی سی کے اس انٹیلی جنس ڈھانچے کی کمزوریوں کو بری طرح بے نقاب کر دیا جسے نظام کی سب سے بڑی طاقت سمجھا جاتا تھا۔ یہ صریحاً اس بات کا ثبوت تھا کہ حد سے زیادہ خود اعتمادی کی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل کی رسائی انتہائی حساس ترین سطح تک ہو چکی ہے۔
اس مجرمانہ بے احتیاطی کی جڑیں محض انٹیلی جنس کے اداروں کی غفلت تک محدود نہیں، بلکہ خود اعلیٰ شخصیات بھی حفاظتی ضوابط کو سنجیدگی سے نہ لینے کی مرتکب ہوئی ہیں۔ ایران کے سب سے اہم ایٹمی سائنسدان محسن فخری زادہ کی شہادت اس کی ایک انتہائی واضح اور افسوسناک مثال ہے۔ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب سے فخری زادہ کو بارہا ذاتی طور پر یہ ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنی سیکیورٹی کو انتہائی سنجیدگی سے لیں اور حفاظتی ضوابط پر سختی سے عمل کریں۔ اس کے باوجود، حفاظتی انتظامات کو نظر انداز کرنے کی روش کے باعث، نومبر 2020 میں تہران کے قریب آبسرد کے علاقے میں صیہونی ایجنٹوں نے انہیں باآسانی نشانہ بنایا۔ اس المناک واقعے کے بعد سابق آئی آر جی سی کمانڈر حسین علائی نے برملا اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ دشمن کے پاس ان کے بارے میں بالکل درست معلومات تھیں جو دراصل ایرانی سیکیورٹی اداروں کی ساختی کمزوری اور غفلت کا نتیجہ تھیں۔ جب اعلیٰ ترین سطح پر انتباہ کے باوجود حفاظتی اقدامات کو بوجھ سمجھا جائے یا معمول کی نقل و حرکت میں لاپرواہی برتی جائے، تو نیتن یاہو جیسے شاطر اور اخلاقیات سے عاری دشمن اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔
دشمن کے اس خونی کھیل اور ایران کی مسلسل تزویراتی ناکامیوں کا ہولناک ترین نقطۂ عروج مارچ 2026 کے ان انتہائی تباہ کن حملوں میں دیکھا جا سکتا ہے جس نے ایرانی قیادت کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی کھلی غنڈہ گردی کے تحت ہونے والی اس امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے دوران حالیہ فضائی حملوں میں ایران کے عملی رہنما علی لاریجانی، اور حتیٰ کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت ان کے متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈرز کو تہران کے ایک کمپاؤنڈ میں نشانہ بنایا گیا اور شہید کر دیا گیا۔ یہ اس بات کا ناقابلِ تردید اور ہولناک ثبوت ہے کہ ایران نے اپنی ماضی کی انٹیلی جنس ناکامیوں اور حفاظتی دراڑوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ جب واشنگٹن اور تل ابیب کا جاسوسی نیٹ ورک اس قدر مضبوط اور مؤثر ہو کہ وہ ریاست کے اعلیٰ ترین، محترم ترین اور اہم ترین رہنماؤں کی موجودگی کے مقام کا عین درست تعین کر سکے، تو اسے محض کوئی حادثہ نہیں بلکہ سیکیورٹی کے پورے نظام کی مکمل اور شرمناک ناکامی قرار دیا جائے گا۔ یہ واضح کرتا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس برادری کے اندر غیر ملکی طاقتوں کی دراندازی انتہائی گہری ہو چکی ہے اور قاتلوں کے پاس سیکیورٹی تفصیلات کی درست ترین معلومات اندرونی ذرائع سے ہی پہنچتی ہیں۔
جب عسکری، سیاسی اور روحانی رہنما اس تواتر کے ساتھ اور اتنی آسانی سے شہید ہونے لگیں تو اس کا سب سے فوری اور تباہ کن اثر فوج اور مسلح افواج کے حوصلے پر پڑتا ہے۔ عسکری نفسیات کے تحت، کمانڈر کی محض موجودگی اور اس کے گرد موجود ناقابلِ تسخیر ہونے کا تصور سپاہیوں کے حوصلے اور جذبے کی جان ہوتا ہے۔ جب نچلے درجے کے فوجی اور افسران مسلسل یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے اعلیٰ ترین کمانڈرز اور مزاحمت کے مضبوط ترین ستون اپنے ہی ملک اور دارالحکومت کے محفوظ ترین سمجھے جانے والے مقامات پر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے بچھائے گئے جال کا نشانہ بن رہے ہیں، تو ان کے اندر شدید قسم کا خوف، شکوک و شبہات اور مایوسی جنم لیتی ہے۔ یہ اندرونی عدم استحکام اور خوف کا ماحول نظام کے اندر وفاداروں کے درمیان بدگمانی پیدا کرتا ہے، جس سے حکومت اور کمانڈرز کے لیے اپنے ہی قریبی لوگوں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر اعتماد کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ ذہنی دباؤ اور آپسی بداعتمادی فیصلہ سازی کے عمل کو مفلوج کر دیتی ہے، اور مسلح افواج کی جارحانہ صلاحیتوں کو بری طرح کچل کر رکھ دیتی ہے۔
عسکری صفوں سے ہٹ کر، عوام کی نفسیات پر ان پے در پے شہادتوں کے اثرات مزید گہرے، پیچیدہ اور خطرناک ہوتے ہیں۔ کسی بھی ریاست کا سب سے بنیادی معاہدہ اپنے شہریوں اور رہنماؤں کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے، اور عوام اسی امید پر ریاست کا ساتھ دیتے ہیں۔ جب ایک ریاست اپنے ایٹمی سائنسدانوں، اعلیٰ غیر ملکی سیاسی مہمانوں، اور یہاں تک کہ اپنے سپریم لیڈر کو اپنے ہی ملک میں امریکہ اور اسرائیل سے تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام نظر آتی ہے، تو عوام کا ریاست کی طاقت اور اس کے دفاعی بیانیے پر سے مکمل طور پر اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ نفسیاتی جنگ کے تحت، ایران جیسے معاشروں میں ان بے شرم دشمنوں کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ عوام میں مظلومیت اور صدمے کا احساس پیدا کریں تاکہ معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کیا جا سکے۔ جب ریاست آئے روز محض اپنے لیڈروں کی لاشیں اٹھانے اور انتقام کے کھوکھلے وعدے کرنے تک محدود ہو جائے، تو عوام میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ان کے دشمن ناقابلِ تسخیر ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے پیدا کردہ یہ بیانیہ معاشرے کو تقسیم کرتا ہے، حکومت کے خلاف غصہ پیدا کرتا ہے اور ریاست کو اندرونی طور پر انتہائی غیر مستحکم کر دیتا ہے۔
ایران کی جنگی حکمت عملیوں کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو ایک بہت بڑا تضاد ابھر کر سامنے آتا ہے۔ ایک طرف ایران نے غیر متناسب جنگ اور اپنے نیابتی نیٹ ورکس کے ذریعے خطے میں اپنا دائرہ کار اور اثر و رسوخ بے تحاشہ بڑھایا ہے، لیکن دوسری طرف انسدادِ جاسوسی اور اپنے کلیدی انسانی اثاثوں کی حفاظت جیسے بنیادی اور اہم ترین امور میں ناقابلِ معافی غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا سارا زور نظریاتی بیانیے، مزاحمت کے ولولے اور شہادت کے تقدس کو اجاگر کرنے پر ہوتا ہے۔ بلا شبہ شہادت ایک عظیم رتبہ ہے، لیکن اسلامی عسکری تاریخ اور تزویراتی اصولوں کے مطابق اونٹ کا گھٹنا باندھنا یعنی حفاظتی تدابیر اختیار کرنا توکل اور جدوجہد کی بنیادی شرط ہے۔ جدید جنگوں میں محض نظریاتی جذبہ، ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کی برتری کا نعم البدل ہرگز نہیں ہو سکتا۔ امریکہ اور اسرائیل کی سفاکی چیخ چیخ کر یہ تقاضا کر رہی ہے کہ اس بے جا اور تباہ کن خود اعتمادی کو فوراً ترک کیا جائے۔ محض ٹی وی پر آ کر یہ اعلان کر دینا کہ دشمن کی کمر توڑ دی گئی ہے، ٹرمپ اور نیتن یاہو کی جانب سے بھیجے گئے آسمان سے گرنے والے جدید گائیڈڈ میزائلوں یا اندرونِ خانہ پلنے والے غداروں کو نہیں روک سکتا۔
حرفِ آخر کے طور پر، سفاک، اخلاقیات سے عاری اور ٹیکنالوجی میں برتر امریکی اور صیہونی دشمن کے سامنے بقا اور کامیابی کا واحد راستہ انتہائی درجے کی حقیقت پسندی اور بے لاگ احتیاط ہے۔ ایران کو اپنے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کے خستہ حال ڈھانچے کا بے رحمانہ اور از سرِ نو جائزہ لینا ہوگا۔ اسے اپنی صفوں میں موجود خامیوں، دراڑوں اور غداروں کی نشاندہی کر کے انہیں جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔ یہ سمجھنا انتہائی ناگزیر ہے کہ ایک مدبر اور کامیاب لیڈر کا کام صرف ہراول دستے میں کھڑے ہو کر تقریریں کرنا یا جذبات ابھارنا نہیں، بلکہ ہوشمندی کے ساتھ اپنی جان اور ریاستی اثاثوں کی حفاظت کر کے ٹرمپ اور نیتن یاہو کی مکروہ حکمت عملی کو ناکام بنانا ہے۔ حد سے زیادہ خود اعتمادی اور غیر ضروری بے احتیاطی نے اب تک ایران اور اس کی مزاحمتی تحریک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اگر ایران نے اپنی جنگی اور دفاعی حکمت عملیوں میں سے اس لاپرواہی کو ہمیشہ کے لیے ختم نہ کیا، تو نہ صرف اس کی صفِ اول کی قیادت اسی طرح امریکہ اور اسرائیل کا نشانہ بنتی رہے گی، بلکہ فوج اور عوام کے گرتے ہوئے حوصلے کو سنبھالنا کسی بھی صورت ممکن نہیں رہے گا۔ شاطر اور خونخوار دشمن کا جواب صرف شجاعت یا غصے سے نہیں، بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ اعلیٰ درجے کی فنی ہوشیاری، مضبوط انٹیلی جنس اور ناقابلِ تسخیر احتیاط سے ہی دیا جا سکتا ہے۔






