**ایران پر ممکنہ امریکی حملہ : کیا چھین سکتی ہے امریکہ کی سپر پاور حیثیت؟*
* *مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن اور امریکہ کی مشکل پسند خارجہ پالیسی**
*ازقلم:*
*ڈاکٹر محمد عظیم الدین*
ایران پر کسی بھی ممکنہ امریکی حملے کا سوال محض ایک عسکری آپریشن نہیں بلکہ عالمی نظام، بین الاقوامی قانون، توانائی کی سیاست، اتحادی نظم اور امریکہ کی طویل المیعاد ساکھ کے امتحان کا نام ہے۔ اگر یہ حملہ محدود اہداف تک رہنے کے بجائے پھیلتی ہوئی جنگ، علاقائی محاذ آرائی اور عالمی معاشی جھٹکوں کی شکل اختیار کر گیا تو سپر پاور کی بنیاد یعنی اعتماد، اتحاد سازی کی صلاحیت اور معاشی استحکام کمزور پڑ سکتی ہے، چاہے امریکہ کی فوجی طاقت اپنی جگہ برقرار رہے۔
امریکی طاقت کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ سپر پاور ہونا صرف دفاعی بجٹ یا اسلحے کی برتری کا عنوان نہیں بلکہ یہ ایک ایسا کثیر جہتی سرمایہ ہے جس میں اتحادیوں کا اعتماد، عالمی اداروں میں اخلاقی اتھارٹی، مالیاتی نظام میں مرکزیت، اور بحرانوں کو قابو میں رکھنے کی سفارتی اہلیت شامل ہوتی ہے۔ محض طاقت کا استعمال کبھی کبھی طاقت کے سیاسی فائدے کو الٹا بھی دیتا ہے، خاص طور پر جب کارروائی کے بعد کے نتائج، انسانی لاگت، اور عالمی منڈیوں میں عدم استحکام طویل ہو جائے۔ اسی نکتے پر ایران کے معاملے میں خطرہ دوچند ہے، کیونکہ یہاں جنگ کی جغرافیائی اور اقتصادی حساسیت غیر معمولی ہے۔
سب سے پہلے توانائی اور عالمی معیشت کا زاویہ لیجیے۔ خلیج کی تنگ آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز آج بھی عالمی تیل و گیس تجارت کے لیے مرکزی شہ رگ ہے، اور امریکی یا علاقائی جنگ کی صورت میں اس راستے پر خطرات بڑھنا دنیا بھر میں قیمتوں اور سپلائی چین پر فوری اثر ڈالتا ہے۔ امریکی سرکاری توانائی ادارے کے مطابق 2024 میں اور 2025 کی پہلی سہ ماہی میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والا تیل اور پیٹرولیم مصنوعات، عالمی کھپت کے تقریباً ایک پانچویں حصے کے برابر تھا، اور 2024 میں عالمی سمندری تیل تجارت کے ایک چوتھائی سے زائد حصے کی نمائندگی بھی کرتا تھا۔ اسی ذریعے کے مطابق 2024 میں عالمی LNG تجارت کے لگ بھگ ایک پانچویں حصے نے بھی ہرمز عبور کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کے خلاف کوئی بڑی عسکری مہم چاہے براہ راست ہو یا جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں صرف مشرقِ وسطیٰ کی خبر نہیں رہے گی بلکہ ایشیا، یورپ اور ابھرتی معیشتوں کی مہنگائی، درآمدی بل اور سیاسی استحکام پر اثر انداز ہوگی۔
یہاں ایک بنیادی تضاد ابھرتا ہے کہ امریکہ کے پاس بے مثال عسکری قوت اور بجٹ ہے، مگر اسی برتری کی قیمت بھی ہے اور جنگی فیصلے اسی قیمت کو بڑھاتے ہیں۔ عالمی عسکری اخراجات کے رجحان پر سپری کے مطابق 2024 میں امریکہ کے فوجی اخراجات 997 ارب ڈالر تک پہنچے اور یہ دنیا کے کل عسکری اخراجات کا تقریباً 37 فیصد تھا۔ اسی حقیقت کو ایک زاویے سے طاقت کا ثبوت سمجھا جاتا ہے، لیکن دوسرے زاویے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ امریکہ کی بالادستی کے توقعات بھی غیر معمولی ہیں، دنیا چاہتی ہے کہ امریکہ بحران کو کم کرے، بڑھائے نہیں۔ اگر کوئی قدم عالمی مارکیٹ اور اتحادی استحکام کو ہلا دے تو زیادہ خرچ بھی زیادہ ذمہ داری بن جاتا ہے، اور ناکامی کی سیاسی قیمت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
بین الاقوامی قانون کا پہلو بھی سپر پاور کی ساکھ میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں طاقت کے استعمال پر عمومی پابندی اور پھر دفاعِ نفس کی محدود گنجائش ایک بنیادی اصول کے طور پر دیکھی جاتی ہے، اور اسی قانونی خاکے کے اندر ریاستیں اپنی کارروائیوں کی جواز سازی کرتی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے قانونی ذخیرے میں آرٹیکل 51 کی زبان واضح کرتی ہے کہ دفاعِ نفس کا حق اگر مسلح حملہ ہو تو تسلیم کیا جاتا ہے، اور ایسے اقدامات کی فوری اطلاع سلامتی کونسل کو دینے کی شرط بھی موجود ہے۔ اگر ایران کے خلاف حملہ اس قانونی معیار پر عالمی سطح پر قائل کن نہ ٹھہرے، یا اسے قبل از وقت اور غیر متناسب سمجھا جائے، تو یہ امریکہ کی اسی اخلاقی و قانونی اتھارٹی کو نقصان پہنچا سکتا ہے جس پر اس کی عالمی قیادت ٹکی رہتی ہے۔ طاقتور ریاستیں وقتی طور پر تنقید برداشت کر لیتی ہیں، مگر مسلسل قانونی و اخلاقی سوالات آخرکار اتحادیوں کے اندر اختلاف، غیر جانبدار ممالک میں بداعتمادی، اور مخالف بلاکس کے لیے بیانیاتی ایندھن بن جاتے ہیں۔
پھر ایک اور خطرہ محدود حملے کے تصور میں چھپا ہوتا ہے۔ جدید جنگوں میں اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ چند اہداف پر ضرب لگا کر پسپائی پر مجبور کیا جا سکتا ہے، مگر ایران جیسے ملک کی حکمتِ عملی اور دفاعی انداز نسبتاً غیر روایتی اور پھیلا ہوا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس کے سالانہ تجزیوں کے حوالے سے یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ ایران کے میزائل، ڈرون، بحری اور دیگر صلاحیتیں خطے میں امریکی اور شراکت داروں کے فوجی و تجارتی اثاثوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ اس نوعیت کی صلاحیتیں جوابی کارروائی کو لازماً روایتی محاذ تک محدود نہیں رکھتیں بلکہ وہ سمندری راستوں، توانائی تنصیبات، سائبر حملوں اور علاقائی نیٹ ورکس تک پھیل سکتی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ایک ضرب کے جواب میں کئی ضربوں کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے، جس میں ہر قدم اگلے قدم کو ناگزیر بنا دے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سپر پاور کی برتری بھی دلدل میں بدلنے لگتی ہے۔
امریکہ کی عالمی حیثیت کی ایک بنیاد یہ بھی ہے کہ وہ بحرانوں میں نپی تلی قوت دکھائے یعنی ضرب بھی لگائے تو مقصد واضح، دائرہ محدود، اور بعد از جنگ راستہ قابلِ عمل ہو۔ لیکن ایران کے معاملے میں بعد از جنگ راستہ بہت پیچیدہ ہے، اگر مقصد جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت، یا علاقائی اثر کم کرنا ہے تو کیا صرف فضائی حملہ اس مقصد کو یقینی بناتا ہے، یا زیادہ ردعمل اور زیادہ عدم استحکام پیدا کرتا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جو 2000 کی دہائی کی جنگوں کے تجربات سے بھی جڑتا ہے، جہاں ابتدائی عسکری کامیابیاں طویل المدت سیاسی و سماجی مسائل کو حل نہ کر سکیں۔
اسی پس منظر میں عراق اور افغانستان کی جنگی لاگت ایک سبق بن کر سامنے آتی ہے کہ جنگ صرف میدانِ جنگ کی لاگت نہیں، اس کے بعد کی ذمہ داریاں، سابق فوجیوں کی دیکھ بھال، قرض پر سود، اور داخلی معیشت پر دباؤ بھی اس میں شامل ہوتا ہے۔ بوسٹن یونیورسٹی کی رپورٹنگ کے مطابق متعلقہ تحقیقی اندازوں میں عراق و افغانستان جنگوں کے بل پہلے ہی کم از کم 3.2 ٹریلین ڈالر کے برابر بتائے گئے اور مجموعی لاگت کے لیے 4 ٹریلین ڈالر کو زیادہ معقول اندازہ قرار دیا گیا۔ اگر ایران کے ساتھ تصادم اسی طرح طویل یا پھیلا ہوا ہو گیا تو امریکہ کو ایک ایسے وقت میں مزید مالی دباؤ جھیلنا پڑ سکتا ہے جب دنیا کی معیشتیں پہلے ہی مہنگائی، قرض اور جغرافیائی کشیدگی کے دور میں داخل ہیں اور یہ دباؤ سپر پاور کے مالیاتی وقار پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
یہاں داخلی سیاست بھی اہم ہے، کیونکہ جنگی فیصلے ہمیشہ صرف خارجی نہیں ہوتے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں خارجہ پالیسی کے کئی فیصلے دباؤ بڑھانے اور سختی کے بیانیے کے ساتھ جوڑے گئے، اور کسی ممکنہ کارروائی کو گھریلو سطح پر طاقت کی علامت کے طور پر پیش کرنے کی ترغیب بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن سپر پاور کی پہچان یہ نہیں کہ وہ ہر بحران میں پہلے گولی چلائے، اس کی پہچان یہ بھی ہے کہ وہ کب طاقت روکے، کب مذاکرات کو موقع دے، اور کب اتحاد کو ساتھ لے کر چلے۔ اگر داخلی سیاسی فائدہ عالمی سیاسی نقصان میں بدل جائے تو یہ وہ سودا ہے جو بڑی طاقتوں کو آہستہ آہستہ اکیلے پن کی طرف دھکیلتا ہے۔
اتحادی نظم کی بات کی جائے تو امریکہ کی طاقت کا بڑا حصہ نیٹ ورک پاور میں ہے یعنی اتحادیوں کی سفارتی حمایت، فوجی تعاون، اڈوں کی رسائی، اور پابندیوں کے نظام کی ہم آہنگی۔ اگر ایران پر حملہ ایسا محسوس ہو کہ یہ مشاورت کے بغیر، قانونی جواز کے کمزور فریم میں، یا غیر متناسب انداز میں کیا گیا ہے تو یورپ اور دیگر شراکت داروں کے اندر اختلافات بڑھ سکتے ہیں۔ اختلافات کی یہ لہر صرف ایک جنگ تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ مستقبل کے بحرانوں میں امریکہ کے ساتھ کھڑے ہونے کی آمادگی کم کرتی ہے، اور متبادل سفارتی مراکز کو جگہ دیتی ہے۔
ایک اور اہم جہت عالمی بیانیے کی ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک اب طاقت کے استعمال کو صرف سکیورٹی کے پیمانے سے نہیں پرکھتے بلکہ اسے دوہرے معیار کے پیمانے سے بھی دیکھتے ہیں۔ اگر حملے کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں، پناہ گزینوں کے دباؤ، یا انسانی بحران کے خدشات بڑھیں تو امریکہ کو اخلاقی سطح پر بھی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے، اور یہ قیمت کبھی کبھی پابندیوں یا فوجی دباؤ سے بھی زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے کیونکہ یہ ساکھ اور نرم طاقت کو کھا جاتی ہے۔ سپر پاور کی حیثیت میں ساکھ محض لفظ نہیں بلکہ یہ بینکنگ، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی تعاون، اور سفارتی حمایت کے فیصلوں میں خاموشی سے کام کرتی ہے۔
بعض تجزیہ کار کہیں گے کہ امریکہ کی عسکری طاقت اتنی زیادہ ہے کہ وہ ایران کو جلد جھکا سکتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ریاستوں کو جھکانے اور نظاموں کو بدلنے میں فرق ہوتا ہے، اور جدید دور میں طویل المدت استحکام کا انحصار صرف عسکری ضرب پر نہیں بلکہ سیاسی بندوبست، علاقائی توازن اور اقتصادی بحالی پر ہوتا ہے۔ اگر جنگ کے نتیجے میں خطہ مزید منقسم ہو، آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل پر خطرات بڑھیں، اور عالمی منڈیاں عدم یقینی کا شکار ہوں تو امریکہ کے مخالفین اسے غیر ذمہ دار بالادست کے طور پر پیش کریں گے، اور یہ تاثر اس کی سپر پاور حیثیت کے لیے زہر قاتل ہے۔ آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت کے سرکاری اعداد و شمار جہاں عالمی سمندری تیل تجارت کا ایک چوتھائی سے زائد حصہ اور عالمی کھپت کا لگ بھگ پانچواں حصہ وابستہ بتایا گیا اس خطرے کو محض نظری نہیں رہنے دیتے۔
اس بحث میں ایران کے جوہری پہلو کو مکمل نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ خطرات کے بیانیے میں یہ عنصر مرکزی رہتا ہے۔ معتبر ذرائع میں یہ بات بارہا اٹھتی رہی ہے کہ ایران کی افزودگی اور نگرانی کے معاملات بین الاقوامی تشویش کا سبب ہیں، اور ایران کی جانب سے 60 فیصد سطح تک افزودہ یورینیم کی پیداوار و ذخیرے پر تشویش کا اظہار بین الاقوامی مباحث میں نمایاں رہا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ جوہری تشویش کا حل صرف بمباری نہیں ہوتا بلکہ شفاف نگرانی، معاہداتی فریم، اور تصدیقی میکانزم ایسی چیزیں ہیں جو طویل المدت میں زیادہ پائیدار سمجھی جاتی ہیں، جبکہ جنگ اکثر تصدیق اور نگرانی کے دروازے بند کر دیتی ہے اور شکوک بڑھا دیتی ہے۔
لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے یا نہیں، وہ عسکری طور پر بہت کچھ کر سکتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایسا قدم امریکہ کو وہ سیاسی نتائج دے گا جو سپر پاور کے معیار پر پورے اترتے ہوں یعنی کم لاگت، واضح مقصد، محدود پھیلاؤ، عالمی حمایت، اور قابلِ عمل اختتام۔ اگر اس کے برعکس نتیجہ نکلے، توانائی راستوں پر خطرہ بڑھے، عالمی قیمتیں اوپر جائیں، اتحادی تقسیم ہوں، قانونی و اخلاقی تنازع گہرا ہو، اور ایک نئی طویل جنگ کے اخراجات جنم لیں، تو امریکہ کی سپر پاور حیثیت فوجی ہار سے نہیں بلکہ سیاسی تھکن اور اعتماد کے زوال سے چھننے لگے گی۔










