Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*زندہ لاشیں: “زومبی ڈرگ” اور انسانیت کا خاموش قتل* *(جانوروں کی دوا، انسانوں کی موت)*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*زندہ لاشیں: “زومبی ڈرگ” اور انسانیت کا خاموش قتل*

(جانوروں کی دوا، انسانوں کی موت)

ازقلم: اسماء جبین فلک

فلاڈیلفیا کے ایک ہسپتال کا ہنگامی وارڈ، رات کے تین بج رہے ہیں۔ ایمبولینس کے ساتھ ایک اٹھائیس سالہ نوجوان لایا جاتا ہے۔ وہ نہ بے ہوش ہے، نہ مکمل ہوش میں۔ آنکھیں نیم وا، جسم جھکا ہوا، ردِعمل تقریباً صفر۔ بازو پر ایک گہرا، کالا زخم ہے جس سے گوشت سڑ رہا ہے۔ ڈاکٹر فوری طور پر نشے کی زیادتی روکنے والی دوا کا انجیکشن دیتے ہیں، مگر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نوجوان ویسے ہی پڑا رہتا ہے، بے حس، بے ردِعمل، نہ زندہ لگتا ہے نہ مردہ۔ ڈاکٹر ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں اور سمجھ جاتے ہیں: یہ عام نشے کی زیادتی نہیں۔ یہ کچھ اور ہے۔ یہ “زومبی ڈرگ” ہے۔

ایسے مناظر اب امریکا کے ہنگامی وارڈز میں روزمرہ کا حصہ بن چکے ہیں، مگر یہ کہانی صرف امریکا کی نہیں۔ یہ ہماری اجتماعی بے احتیاطی، لالچ اور سماجی ناہمواری کی وہ تصویر ہے جو آج وہاں ہے، مگر کل ہمارے قریب بھی آ سکتی ہے۔ بھارت کے شہروں میں وائرل ویڈیوز میں نوجوان اسی “زومبی” حالت میں نظر آ رہے ہیں اور سر گنگا رام ہسپتال دہلی کے سینئر ماہرِ نفسیات اسے “بڑھتا ہوا عوامی صحت کا بحران” قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان میں ابھی اس مخصوص دوا کے کیسز محدود ہیں، مگر جب لاہور کی گلیوں میں روزانہ بیس ہزار انجیکشن فروخت ہوتے ہوں اور صرف 2023 میں پانچ سو اٹھاون نشے کے عادی افراد سڑکوں پر لاوارث مر جائیں تو سمجھنا ضروری ہے کہ یہ “زومبی ڈرگ” کیا ہے، کہاں سے آئی، انسانی جسم اور معاشرے پر کیا کرتی ہے، اور ہم اس کے خلاف کیا کر سکتے ہیں۔

سب سے پہلے ایک بنیادی سوال: زائیلازین (Xylazine) اصل میں ہے کیا؟ سیدھا جواب یہ ہے کہ یہ گھوڑوں اور بڑے مویشیوں کی دوا ہے۔ جانوروں کے ڈاکٹر اسے آپریشن سے پہلے جانور کو پرسکون اور بے حس کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ امریکا کی ادویات کی نگران تنظیم (FDA) واضح طور پر کہتی ہے کہ یہ دوا انسانوں کے لیے ہرگز منظور شدہ نہیں اور اس کا انسانی جسم میں داخل ہونا سنگین خطرات پیدا کرتا ہے۔ یہ دوا اعصابی نظام کو دباتی ہے، بالکل ایسے جیسے کسی نے پورے جسم کی رفتار کم کرنے والا بٹن دبا دیا ہو: دل کی دھڑکن کم، سانس کم، بلڈ پریشر کم، ردِعمل کم، اور آخرکار ایک خطرناک خاموشی جو موت تک پہنچ سکتی ہے۔

یہ جاننے کے بعد فطری طور پر ذہن میں آتا ہے کہ جانوروں کی یہ دوا انسانوں کے نشے میں کیسے آئی؟ جواب غیر قانونی منشیات کی منڈی کی ہولناک تجارتی منطق میں چھپا ہے۔ فینٹانائل (Fentanyl) ایک مصنوعی نشہ آور دوا ہے جو ہیروئن سے پچاس سے سو گنا زیادہ طاقتور ہے۔ اس کا نشہ جلد شروع ہوتا ہے اور جلد ختم بھی ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے نشے کا عادی شخص بار بار خریدنے پر مجبور ہوتا ہے۔ غیر قانونی ڈیلروں نے اس خلا کو پُر کرنے کے لیے زائیلازین کو فینٹانائل میں ملانا شروع کیا: نشہ سستا ہو گیا، دیر تک رہنے لگا، اور نشے کا عادی شخص اسے “طاقتور” محسوس کرنے لگا۔ سڑکوں پر یہ مہلک مرکب “ٹرانق” (Tranq) اور “زومبی ڈرگ” کے ناموں سے بکتا ہے، اور سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ اکثر خریدار کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس کے نشے میں زائیلازین بھی شامل ہے۔ یہ لاعلمی بذاتِ خود سب سے بڑا قاتل ثابت ہو رہی ہے۔

اب اعداد و شمار کو دیکھیں تو دماغ سن ہو جاتا ہے۔ 2018 میں امریکا میں صرف ننانوے افراد اس مرکب کی وجہ سے موت کا شکار ہوئے، مگر 2023 تک یہ تعداد چھ ہزار سے بھی اوپر جا پہنچی، یعنی محض پانچ سال میں ساٹھ گنا سے زیادہ اضافہ۔ امریکی بیماریوں کے قومی مرکز (CDC) کے مطابق 2019 سے 2022 کے درمیان فینٹانائل سے ہونے والی اموات میں زائیلازین کی موجودگی کا تناسب تقریباً چار گنا بڑھ گیا، اور ایک بڑے تحقیقی جائزے میں سامنے آیا کہ زائیلازین سے ہونے والی تقریباً ہر موت میں فینٹانائل بھی موجود تھا۔ یہ مرکب امریکا کی کم از کم تریالیس ریاستوں میں پھیل چکا ہے۔ یہ محض اعداد نہیں، ہر ہندسے کے پیچھے ایک چہرہ ہے، ایک ماں کا دل ٹوٹا ہے، ایک بچہ یتیم ہوا ہے، ایک گھر اجڑا ہے۔

مگر اموات اس کہانی کا ایک ہی باب ہیں۔ زائیلازین زندہ انسان کے ساتھ جو کرتی ہے، وہ شاید موت سے بھی زیادہ دل دہلانے والا ہے۔ یہ دوا خون کی نالیوں کو اس قدر سکیڑ دیتی ہے کہ جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن اور خون کی فراہمی رک جاتی ہے اور نتیجے میں جلد پر کالے، گہرے، سڑتے ہوئے زخم بنتے ہیں جن میں گوشت آہستہ آہستہ گلنے لگتا ہے۔ ایک طبی مطالعے میں بیس مریضوں کا جائزہ لیا گیا جن میں سے دس کے ہاتھ یا بازو کاٹنے پڑے، باقی بھی مہینوں کے تکلیف دہ علاج سے گزرے۔ یاد رہے، یہ عمر رسیدہ یا پہلے سے بیمار لوگ نہیں تھے، یہ زیادہ تر نوجوان تھے جن کی پوری زندگی آگے تھی۔ اسی جھکے ہوئے جسم، نیم مردہ آنکھوں، سست حرکات اور گلتے ہوئے زخموں کی تصویر نے میڈیا کو یہ نام دینے پر مجبور کیا: “زومبی ڈرگ”۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ فلمی زومبی نہیں ہے، یہ ایک انسان ہے جسے معاشی محرومی، ذہنی دباؤ اور غیر قانونی منشیات کی منڈی نے مل کر اس حال تک پہنچایا ہے۔

اس بحران کو اور بھی پیچیدہ بنانے والی ایک اور حقیقت ہے جو طبی دنیا کو پریشان کر رہی ہے۔ نشے کی زیادتی کی صورت میں ڈاکٹر ایک خاص دوا (Naloxone) دیتے ہیں جو منٹوں میں افیون خاندان کی نشہ آور ادویات کا اثر ختم کر دیتی ہے اور بے شمار جانیں بچاتی رہی ہے۔ لیکن زائیلازین چونکہ افیون خاندان کی دوا نہیں، اس لیے یہ علاج اس پر بے اثر رہتا ہے۔ فینٹانائل کا اثر تو کم ہو جاتا ہے مگر زائیلازین کا اثر باقی رہتا ہے، مریض سانس لینے سے قاصر رہتا ہے، اور بروقت مدد نہ ملے تو موت واقع ہو جاتی ہے۔ ایک تحقیق میں سامنے آیا کہ طبی عملے کی اکثریت زائیلازین کے صحیح علاج سے ناواقف ہے، یعنی مسئلہ صرف منشیات کی دستیابی کا نہیں، علاج کی تیاری کا بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی وائٹ ہاؤس نے 2023 میں اس مرکب کو باقاعدہ قومی ہنگامی طبی خطرہ قرار دے کر خصوصی لائحۂ عمل جاری کیا۔

سوشل میڈیا پر اس ساری صورتِ حال کے بارے میں سازشی کہانیاں بھی خوب گردش کرتی ہیں۔ کوئی کہتا ہے “زومبی فوج” بن رہی ہے، کوئی اسے کسی دشمن ملک کا حیاتیاتی ہتھیار بتاتا ہے۔ سرکاری طبی ادارے، بین الاقوامی تحقیقی جرائد اور حکومتی رپورٹیں سب ایک ہی بات کہتی ہیں: یہ غیر قانونی منشیات کی تجارت کا مسئلہ ہے، کسی خفیہ منصوبے کا نہیں۔ مگر یہ سوال ضرور قابلِ غور ہے کہ یہ سازشی کہانیاں جنم کیوں لیتی ہیں۔ اس لیے کہ جب کوئی معاشرہ کسی نئے اور سمجھ سے باہر خطرے کو دیکھتا ہے تو وہ اسے جانے پہچانے افسانوی سانچے میں ڈھال لیتا ہے۔ “زومبی” ہمارے اجتماعی خوف کی علامت ہے، سائنسی حقیقت کی نہیں۔ مگر اصل حقیقت، یعنی گلتا ہوا گوشت، ٹوٹتا ہوا خاندان اور برباد ہوتی زندگی، کسی بھی فلمی زومبی سے کہیں زیادہ خوفناک ہے۔

اب ایک لمحے کے لیے اپنے گھر کے قریب آتے ہیں۔ بین الاقوامی منشیات نگران ادارے (INCB) نے خبردار کیا ہے کہ زائیلازین سمیت کئی نئی مصنوعی نشہ آور ادویات کی اسمگلنگ متعدد ممالک میں بڑھ رہی ہے اور افغانستان کے اردگرد مصنوعی ادویات کی ضبطگی 2024 کے اواخر میں پچاس فیصد بڑھ گئی۔ پاکستان چونکہ افغانستان کا پڑوسی اور دنیا کی اہم منشیات گزرگاہوں میں سے ایک ہے، یہاں کا خطرہ دوگنا ہے۔ اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF) نے 2024 میں تین سو اکسٹھ ٹن منشیات ضبط کیں، مگر خود فورس کے افسران کا کہنا ہے کہ افرادی قوت کم ہے اور وسائل محدود ہیں۔ بھارت میں زائیلازین کے کیسز سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں اس کا پھیلاؤ وقت کی بات ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ آئے گی یا نہیں، سوال یہ ہے کہ جب آئے تو ہم تیار ہوں گے یا نہیں۔

اس سب کے درمیان ایک ضروری سوال کا جواب بھی سمجھنا ہوگا: کوئی انسان اس راستے پر چلتا کیوں ہے؟ محض لذت کے لیے؟ تحقیق اس سادہ سوچ کو غلط ثابت کرتی ہے۔ لت کے پیچھے اکثر ذہنی اذیت، تنہائی، بے روزگاری، گھریلو تشدد، ناامیدی اور سماجی بے وقعتی ہوتی ہے۔ فینٹانائل اور زائیلازین کے زیادہ شکار وہ افراد ہیں جن کے پاس نہ صحت کی سہولت ہے، نہ مناسب رہائش، نہ کوئی سماجی سہارا۔ یعنی منشیات کا بحران صرف ایک “بری عادت” کی وجہ سے نہیں بلکہ معاشی ناہمواری اور سماجی ٹوٹ پھوٹ کی گہری علامت بھی ہے۔ اور جب ہم یہ حقیقت سمجھ لیتے ہیں تو اسلام کی تعلیمات اور بھی گہری معنویت کے ساتھ سامنے آتی ہیں۔

اسلام نے یہ حقیقت چودہ سو سال پہلے سمجھ لی تھی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: “کُلُّ مُسْکِرٍ خَمْرٌ، وَکُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ” یعنی ہر نشہ آور چیز شراب کے حکم میں ہے اور ہر شراب حرام ہے (صحیح مسلم، کتاب الاشربہ، حدیث: 2003)، تو یہ صرف کسی ایک مشروب کی ممانعت نہیں تھی، یہ ہر اس مادے کو ہمیشہ کے لیے حرام قرار دینا تھا جو انسان کی عقل اور شعور کو سلب کرے، خواہ وہ صدیوں پرانی چیز ہو یا اکیسویں صدی کی مصنوعی ویٹرنری دوا۔ قرآن کریم اس سے بھی آگے جا کر فرماتا ہے: “وَلَا تُلْقُوا بِأَیْدِیکُمْ إِلَی التَّهْلُکَةِ” یعنی اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو (سورۃ البقرہ: 195)۔ اسلامی علمِ شریعت میں جن پانچ بنیادی مقاصد کی حفاظت کو دین کا اولین فریضہ قرار دیا گیا ہے، یعنی جان، عقل، نسل، مال اور دین، زائیلازین ایک ہی وقت میں ان پانچوں پر حملہ کرتی ہے۔ جان پر نشے کی زیادتی اور گلتے زخموں سے، عقل پر بے ہوشی اور لت سے، نسل پر خاندانی ٹوٹ پھوٹ سے، مال پر لت کی وجہ سے معاشی تباہی سے، اور دین پر اس لیے کہ جب شعور ہی مسخ ہو جائے تو اللہ کی یاد کہاں رہتی ہے؟ اسلامی نقطۂ نظر کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ صرف “حرام” کہہ کر نہیں رکتا بلکہ ایک مکمل تہذیبی نظام دیتا ہے جس میں عدل، ہمدردی، علاج اور بحالی سب شامل ہیں۔

تو پھر اس بحران کا جواب کہاں سے آئے؟ یہ جواب کسی ایک طرف سے نہیں آ سکتا، سب کو مل کر چلنا ہوگا۔ ریاست کو چاہیے کہ ویٹرنری ادویات کی فراہمی کا سخت حساب ہو، زائیلازین جیسی ادویات کو قانونی طور پر کنٹرول میں لیا جائے اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر اسمگلنگ کے نیٹ ورکس توڑے جائیں۔ صحتِ عامہ کے اداروں کو چاہیے کہ زخموں کے علاج کے مراکز قائم کریں اور نشے کی لت سے نجات کے انسانی وقار پر مبنی پروگرام فراہم کریں۔ تعلیمی ادارے محض ڈراؤنے لیکچر دینے کے بجائے نوجوانوں کو حقیقی معلومات دیں اور ان کی ذہنی صحت کا خیال رکھیں۔ والدین اپنے بچوں کے ساتھ اعتماد اور محبت پر مبنی گفتگو کریں، وہ گفتگو جو بچے کو گھر سے باہر غلط لوگوں کے پاس جانے پر مجبور نہ کرے۔ اور اگر علما و مساجد نشے کے عادی کو صرف “گناہ گار” کے بجائے “بیمار مسافر” بھی سمجھیں تو شاید بہت سے لوگ واپسی کی ہمت کر سکیں، کیونکہ شرم اور بے دخلی کی دیوار نے بہت سوں کو مدد مانگنے سے روکا ہوا ہے۔

کیا واپسی ممکن ہے؟ سائنس کا جواب ہاں میں ہے کیونکہ طبی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ مناسب علاج اور لت سے نجات کے پروگرام کے ساتھ بہت سے مریض معمول کی زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں، اور دین کا جواب بھی ہاں میں ہے کیونکہ توبہ اور اصلاح کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔

اس مضمون کے آغاز میں فلاڈیلفیا کے ہسپتال میں پڑا وہ اٹھائیس سالہ نوجوان یاد ہے؟ وہ اس رات بچ گیا۔ ڈاکٹروں نے مصنوعی تنفس کے ذریعے اس کی سانسیں بحال کیں اور مہینوں کے علاج کے بعد اس کے زخم مندمل ہوئے۔ وہ واپس لوٹا۔ مگر اس کا بایاں ہاتھ نہیں لوٹا، وہ کٹ چکا تھا۔

زائیلازین کی کہانی بالآخر ایک آئینہ ہے جس میں ہم اپنا اجتماعی چہرہ دیکھتے ہیں: ایک ایسا معاشرہ جس نے سائنس بنائی مگر اس کی ذمہ داری نہیں اٹھائی، جس نے دولت کمائی مگر اسے انصاف کے ساتھ تقسیم نہیں کیا، جس نے مذہب مانا مگر انسان کو بھول گیا۔ “زومبی” در حقیقت وہ معاشرہ ہے جو اس خاموش تباہی کو جانتے بوجھتے نظرانداز کرتا ہے۔ اگر ہم نے آج علم، حکمت اور ہمدردی کے ساتھ قدم نہ اٹھایا تو کل ہماری گلیوں میں بھی ایسے نوجوان ہوں گے جو جسم سے ادھورے اور روح سے تباہ ہوں گے، اور تب سوال یہ نہیں ہوگا کہ یہ کہاں سے آئے، سوال یہ ہوگا کہ ہم نے انہیں روکا کیوں نہیں۔