Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*واشنگٹن پوسٹ کا انکشاف: ایران پر حملے کے پیچھے سعودی عرب کے پوشیدہ محرکات* *(ریاض سے واشنگٹن تک: ایک خفیہ جنگی منصوبے کی داستان)*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*واشنگٹن پوسٹ کا انکشاف: ایران پر حملے کے پیچھے سعودی عرب کے پوشیدہ محرکات*

*(ریاض سے واشنگٹن تک: ایک خفیہ جنگی منصوبے کی داستان)*

بقلم : *اسماء جبین فلک*

فروری 2026 کے اختتامی ایام انسانی تاریخ کے ایک ایسے موڑ کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جس نے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی، جغرافیائی اور تزویراتی نقشے کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر کے رکھ دیا ہے، کیونکہ 28 فروری کو شروع ہونے والا ‘آپریشن ایپک فیوری’ محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ دہائیوں سے جاری اس سرد جنگ کا نقطہ عروج ہے جس نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے حال ہی میں منظر عام پر لائی جانے والی ایک تہلکہ خیز اور گہرائی میں ڈوبی ہوئی تحقیقاتی رپورٹ اس پورے خونریز منظر نامے کے پیچھے چھپے ہوئے ان مہیب محرکات کو بے نقاب کرتی ہے جو اب تک سفارت کاری کے پردوں میں ڈھکے ہوئے تھے، اور یہ رپورٹ واضح طور پر اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران پر ہونے والے ان تباہ کن امریکی اور اسرائیلی حملوں کے پیچھے سعودی عرب کی خفیہ لابنگ، مسلسل دباؤ اور تزویراتی خواہشات کا ایک ایسا جال بچھا ہوا تھا جس کا مقصد تہران کی عسکری اور سیاسی قوت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا تھا۔ اس رپورٹ کے مندرجات اس پراسرار خاموشی کو توڑتے ہیں جو ریاض نے حملے سے قبل اختیار کر رکھی تھی، جہاں ایک طرف دنیا کے سامنے امن اور سفارت کاری کے راگ الاپے جا رہے تھے، وہیں دوسری جانب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والے خفیہ فون کالز اور مراسلت میں ایک ایسے خوفناک حملے کی بنیاد رکھی جا رہی تھی جس کا حتمی ہدف ایرانی قیادت کا خاتمہ اور خطے میں تہران کے اثر و رسوخ کا مکمل صفایا تھا۔
واشنگٹن پوسٹ کے تجزیے کے مطابق، سعودی عرب کا یہ جارحانہ رویہ اچانک پیدا نہیں ہوا بلکہ یہ اس وجودی خطرے کا ردعمل تھا جو اسے ایران کی بڑھتی ہوئی میزائل صلاحیتوں اور خطے میں موجود اس کے حامی مسلح گروہوں سے محسوس ہو رہا تھا۔ رپورٹ یہ انکشاف کرتی ہے کہ سعودی انٹیلیجنس نے امریکی حکام کو ایسے شواہد فراہم کیے تھے جن کے مطابق ایران ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکا تھا جہاں اسے مزید رعایت دینا سعودی عرب کی اپنی سلامتی کے لیے خودکشی کے مترادف ہوتا، چنانچہ ولی عہد نے صدر ٹرمپ کو قائل کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایران کی تزویراتی گہرائی کو ختم کر دیا جائے۔ اس تناظر میں سعودی عرب کا نام اس جنگ میں صرف ایک سہولت کار کے طور پر نہیں بلکہ ایک کلیدی منصوبہ ساز کے طور پر ابھرا ہے، جس نے نہ صرف حملے کے لیے درکار انٹیلیجنس اور رسد کی مدد فراہم کی بلکہ امریکہ کو یہ ضمانت بھی دی کہ جنگ کے دوران تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے وہ اپنی پوری پیداواری صلاحیت کا استعمال کرے گا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے اس جنگ کی نوعیت تبدیل ہوئی اور یہ محض ایک محدود فوجی کارروائی کے بجائے ایک وسیع علاقائی جنگ کی صورت اختیار کر گئی جس میں سعودی عرب کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
اس معاملے میں یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ سعودی عرب نے کیوں ایران کی اس حد تک تباہی کو ناگزیر سمجھا، جس کی بنیادی وجہ ریاض کی وہ تزویراتی مایوسی تھی جو اسے پچھلے چند برسوں کی ناکام سفارت کاری سے حاصل ہوئی تھی۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، سعودی قیادت اس نتیجے پر پہنچ چکی تھی کہ ایران کی بڑھتی ہوئی ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی خلیج کی تیل کی تنصیبات کے لیے ایک ایسا مستقل خطرہ بن چکی ہے جس کا حل کسی میز پر بیٹھ کر نہیں بلکہ صرف میدانِ جنگ میں ہی ممکن ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جب صدر ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں آئے تو سعودی عرب نے اسے ایک سنہری موقع سمجھا کہ وہ واشنگٹن کی انتہائی دباؤ کی پالیسی کو فوجی کارروائی میں تبدیل کروا سکے، کیونکہ تہران میں حکومت کی تبدیلی ہی وہ واحد راستہ تھا جس کے ذریعے سعودی عرب خطے میں اپنی بلا شرکتِ غیرے بالادستی قائم کر سکتا تھا۔ اس لیے واشنگٹن پوسٹ یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس حملے کا مسودہ کئی ماہ پہلے ریاض اور واشنگٹن کے بند کمروں میں لکھا جا چکا تھا، جہاں ایران کی فوجی تنصیبات، جوہری مراکز اور قیادت کے ٹھکانوں کی فہرستیں ترتیب دی گئی تھیں۔
تاہم، ایران کی جانب سے ہونے والی فوری اور شدید جوابی کارروائی نے سعودی عرب کو اس جنگ کے شعلوں میں براہِ راست دھکیل دیا ہے، جب ایرانی میزائلوں نے ریاض، جدہ اور آرامکو کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کیا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ ایران اس حملے میں سعودی کردار سے بخوبی واقف تھا۔ ایران کا یہ موقف کہ جو ہمارے دشمن کو اڈے فراہم کرے گا وہ بھی ہمارا دشمن ہوگا اب ایک تلخ حقیقت بن کر سعودی عرب کے سامنے کھڑا ہے، کیونکہ اب سعودی فضائی حدود اور اڈے اس جنگ کے ہراول دستے کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال نے سعودی عرب کو ایک ایسی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے، اور اب وہ نہ صرف امریکہ اور اسرائیل کا اتحادی ہے بلکہ اس جنگ کا ایک ایسا فریق بن چکا ہے جس کا مستقبل اب اس ٹکراؤ کے نتائج سے وابستہ ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی یہ رپورٹ دراصل اس نئے مشرقِ وسطیٰ کا نوحہ بھی ہے اور تجزیہ بھی، جہاں پرانی دشمنیاں اب ایک فیصلہ کن جنگ کی صورت میں ڈھل چکی ہیں اور جس میں سعودی عرب کا نام تاریخ کے صفحات میں ایک ایسے کھلاڑی کے طور پر درج ہو رہا ہے جس نے اپنے حریف کو مٹانے کے لیے سب سے بڑا جوا کھیلا۔