Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*امریکہ: سپر پاور یا سپر منافقت ؟*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*امریکہ: سپر پاور یا سپر منافقت ؟*

(میڈ مین تھیوری اور امریکی سفارت کاری کے تضادات)

*ازقلم: اسماء جبین فلک*

امریکہ کی عالمی حیثیت کو عموماً طاقت، ادارہ سازی اور قواعد پر مبنی نظام کے استعارے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر اسی بیانیے کے نیچے ایک ایسی عملی سیاست کارفرما رہتی ہے جس میں اصول کم اور مفاد زیادہ بولتا ہے۔ جب طاقت اپنے لیے استثنا اور دوسروں کے لیے پابندی بن جائے تو منافقت محض اخلاقی الزام نہیں رہتی بلکہ عالمی طاقت کی حکمرانی کا باقاعدہ طریقۂ کار بن جاتی ہے۔
عالمی سیاست میں سپر پاور ہونا صرف فوجی ہتھیاروں اور معاشی حجم کا نام نہیں، بلکہ بیانیہ بنانے، اداروں میں اثر ڈالنے اور جائز و ناجائز کے پیمانے طے کرنے کی صلاحیت کا نام بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اکثر آزادی، انسانی حقوق، جمہوریت اور عالمی امن کے نام پر اپنی خارجہ پالیسی کو اخلاقی لبادہ پہناتا ہے، مگر زمینی سطح پر وہی پالیسی پابندیوں، دباؤ، اتحادیوں کی ترجیحات اور خطوں میں طاقت کے توازن کے حساب سے حرکت کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اس تضاد کی ساخت یوں بنتی ہے کہ ایک ہی عمل اگر امریکہ یا اس کے اتحادی کریں تو اسے سلامتی یا دفاع کہہ کر قابلِ قبول بنایا جاتا ہے، لیکن اگر وہی نوعیت کا عمل مخالف فریق کرے تو وہ جارحیت اور قانون شکنی قرار پاتا ہے؛ یوں اخلاقیات اصول نہیں رہتیں بلکہ حربہ بن جاتی ہیں۔
امریکہ کی منافقت کی بنیادی علامت اس کا قانون سے تعلق ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کو عموماً دوسروں کے لیے بطور عصا استعمال کرتا ہے اور اپنے لیے بطور ڈھال۔ جب کسی خطے میں اس کے مفادات کو خطرہ لاحق ہو تو قواعد سخت ہو جاتے ہیں، مگر جب وہی قواعد اس کے اپنے دائرۂ اختیار پر سوال اٹھائیں تو تاویلیں، استثنائی منطق اور قومی مفاد کی آڑ سامنے آتی ہے۔ یہی دوہرا معیار عالمی اداروں کی ساکھ کو بھی کمزور کرتا ہے، کیونکہ اگر قانون طاقتور کی ضرورت کے مطابق نرم اور کمزور کے لیے سخت ہو تو پھر قانون انصاف کی علامت نہیں رہتا بلکہ طاقت کی زبان بن جاتا ہے۔ نتیجتاً ریاستیں ضابطے کے بجائے توازنِ قوت پر بھروسہ کرنے لگتی ہیں، جو عالمی عدم استحکام کو بڑھاتا ہے۔
اس پورے رویّے کو سمجھنے کے لیے بین الاقوامی تعلقات کی بعض توضیحات خاص مدد دیتی ہیں، مثلاً میڈ مین تھیوری جس کے تحت کوئی رہنما خود کو غیر متوقع اور انتہائی جارح ظاہر کر کے مخالف کو نفسیاتی دباؤ میں لانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ رعایت دے دے۔ اس زاویے سے بعض تجزیے ٹرمپ کے اندازِ خارجہ پالیسی کو اسی حکمتِ عملی کے تسلسل کے طور پر دیکھتے ہیں، جہاں دھمکی اور ڈرامائی بیان بازی سفارت کاری کا متبادل بن جاتی ہے۔ لیکن اس حکمتِ عملی کا اخلاقی مسئلہ یہ ہے کہ یہ امن کو رضامندی کے بجائے خوف کی بنیاد پر قائم کرنا چاہتی ہے، اور خوف پر قائم نظم دیرپا نہیں ہوتا کیونکہ جہاں خوف ہو وہاں اعتماد نہیں رہتا، اور جہاں اعتماد نہ ہو وہاں معاہدے محض وقفۂ جنگ بن جاتے ہیں۔
ایران کے معاملے میں امریکہ کی اسی دوہری روش کی جھلک واضح طور پر نظر آتی ہے کہ ایک طرف انتہائی سخت لہجہ، دوسری طرف کشیدگی بڑھنے پر پسِ پردہ تناؤ میں کمی کی کھڑکیاں۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ایران کے ساتھ غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، سفارت کاری کی زبان نہیں بلکہ بالادستی کی شرطی منطق ہے۔ اس کے ساتھ ہی مختلف مواقع پر ثالثی اور رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی سامنے آتی رہیں، جو اس متوازی پالیسی کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ عوامی اسٹیج پر سختی اور بند کمروں میں راستہ نکالنے کی کوشش ساتھ ساتھ چل سکتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں منافقت ایک قابلِ مشاہدہ صورت اختیار کر لیتی ہے کہ ایک ہی وقت میں جنگی رعب بھی، اور جنگ کے انجام سے بچنے کی تدبیر بھی۔
امریکہ کی اس روش میں شر انگیزی سے مراد کوئی محض جذباتی گالی نہیں، بلکہ وہ ساختی بے رحمی ہے جس میں انسانی جانوں، خطّوں کے استحکام اور عالمی اعتماد کی قیمت پر تزویراتی فائدہ حاصل کرنے کو جائز سمجھا جاتا ہے۔ جب مذاکرات کو دھمکی کے نیچے رکھا جائے، جب قوموں کی خود مختاری کو مکمل اطاعت کی شرائط میں ناپا جائے، اور جب کمزور فریق کے لیے قانون اور طاقتور کے لیے استثنا معمول بن جائے تو یہ شر انگیزی اخلاقی زبان میں نہیں، پالیسی کے ڈھانچے میں بولتی ہے۔ اسی لیے دنیا کے کئی خطوں میں امریکہ کو امن کا ضامن نہیں بلکہ بحرانوں کا منتظم سمجھا جاتا ہے کہ وہ تنازع کو اس حد تک بڑھنے دیتا ہے کہ فریقین کمزور ہوں، پھر ثالثی کی کرسی پر بیٹھ کر اپنے لیے بہتر شرائط نکال لیتا ہے۔
اس طرزِ عمل کا سب سے بڑا نقصان خود امریکہ کی اخلاقی اتھارٹی کو ہوتا ہے۔ جب ایک ریاست بار بار یہ تاثر دے کہ وہ اصولوں کی پاسداری نہیں بلکہ اصولوں کی تشریح اپنے مفاد کے مطابق کرتی ہے تو پھر اس کی امن کی ہر پیش کش مشکوک ٹھہرتی ہے۔ اسی تناظر میں ایران کی قیادت کی جانب سے امریکی قیادت پر اعتماد نہ کرنے کے بیانات کو محض پروپیگنڈا نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ یہ عدم اعتماد اسی تاریخی اور عملی تجربے سے جنم لیتا ہے جس میں واشنگٹن کے اعلانات اور اقدامات میں فاصلہ دیکھا گیا ہے۔ اعتماد کے اس بحران کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سفارت کاری کے امکانات کم ہوتے ہیں، اور دفاعی صلاحیت کی منطق مضبوط ہوتی ہے یعنی وہی صورتِ حال جسے امریکہ بظاہر ختم کرنا چاہتا ہے مگر عملاً اس میں اضافہ کرتا ہے۔
مزید یہ کہ امریکہ کی منافقت کا دائرہ صرف مخالفین تک محدود نہیں بلکہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ بھی اکثر انحصار کا رشتہ قائم رکھتا ہے۔ سیکیورٹی کے نام پر اتحادیوں کو اپنے ساتھ باندھنا، پھر اسی بندھن کو سودے بازی، ہتھیاروں کی فروخت اور علاقائی ترجیحات منوانے کے لیے استعمال کرنا ایک ایسا طریقہ ہے جو وقتی طور پر اثر انگیز ضرور ہوتا ہے، مگر طویل مدت میں اتحادیوں کے اندر بھی بے چینی پیدا کرتا ہے۔ خلیج اور مشرق وسطیٰ جیسے خطوں میں جب کسی بحران کا سایہ گہرا ہوتا ہے تو اتحادی ریاستیں اپنے اندرونی دباؤ، عوامی رائے اور معاشی خدشات کے باعث اسی عالمی طاقت کے فیصلوں سے خوف زدہ بھی ہوتی ہیں اور اسی سے امید بھی لگاتی ہیں یہ انحصار خود ایک نرم دباؤ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
اس کے باوجود یہ بات بھی علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ امریکہ کوئی یک رنگ اکائی نہیں بلکہ وہاں ادارے، ایوانِ نمائندگان، میڈیا، مشاورتی مراکز، مفاداتی گروہ اور عوامی رجحانات ایک دوسرے سے متصادم رہتے ہیں، اور اسی داخلی کشمکش سے خارجہ پالیسی میں اتار چڑھاؤ پیدا ہوتا ہے۔ مگر بین الاقوامی سطح پر ریاست کو اس کے حتمی فیصلوں سے جانچا جاتا ہے، اور جب حتمی فیصلے بار بار دوہرے معیار کی طرف جھکیں تو دنیا کے لیے داخلی پیچیدگی عذر نہیں رہتی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ امریکہ ایک ایسی عالمی طاقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو اصولوں کو بیان میں رکھتا ہے اور مفاد کو عمل میں۔
چنانچہ امریکہ: منافقت و شر انگیزی کی عالمی طاقت کا مفہوم یہ نہیں کہ امریکہ صرف شر ہے اور باقی دنیا صرف خیر بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ طاقت کے عدم توازن میں جب ایک ریاست اخلاقی بیانیے کو اپنے مفاد کی ڈھال بنا لے، قانون کو انتخابی بنا دے، اور سفارت کاری کو دھمکی کے تابع کر دے تو وہ عالمی طاقت اپنی اخلاقی بنیاد کھو دیتی ہے۔ ایران جیسے معاملات میں ہتھیار ڈالنے کی شرطی زبان، میڈ مین قسم کی نفسیاتی حکمت عملیوں کی بحث، اور ساتھ ہی کشیدگی کم کرنے کے پس پردہ راستے یہ سب مل کر اسی بڑے سوال کو جنم دیتے ہیں کہ اگر عالمی نظم واقعی قواعد پر مبنی ہے تو قواعد سب کے لیے برابر کیوں نہیں؟ اور اگر برابر نہیں، تو پھر یہ نظم قواعد کا نہیں، طاقت کا نظم ہے اور طاقت کے نظم میں منافقت حادثہ نہیں، معمول بن جاتی ہے۔