*ایران کے علمی مراکز پر امریکہ و اسرائیل کے عسکری حملے اور عالمی ضمیر کا نوحہ*
( *فکری نسل کشی: جدید استعمار کا نیا ہتھیار)*
*بقلم: اسماء جبین فلک*
عصرِ حاضر کے عالمی منظر نامے میں، جہاں ایک جانب تہذیب، انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، وہیں دوسری جانب طاقت کے بے دریغ استعمال نے بین الاقوامی نظام کی اخلاقی بنیادوں کو یکسر کھوکھلا کر دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی اور خاص طور پر ایران اور ملحقہ خطوں کی جامعات اور تحقیقی مراکز پر امریکہ اور اسرائیل کی عسکری و استراتیجک جارحیت نے عالمی ضمیر کے سامنے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ حملے محض اتفاقی یا جنگی کارروائیوں کا ضمنی نتیجہ (Collateral Damage) نہیں ہیں، بلکہ ایک انتہائی منظم اور سوچی سمجھی ادارہ جاتی تباہی (Institutional Destruction) کا حصہ ہیں۔ مغربی طاقتیں، جو دہائیوں سے دنیا کو اخلاقیات، آزادیِ رائے اور علم پروری کا درس دیتی آئی ہیں، ان حالیہ واقعات نے ان کے دوہرے معیار اور سفارتی استثنیٰ کے ناجائز استعمال کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ جن ممالک کے پاس عالمی امن کے قیام کا مینڈیٹ ہے، وہی ممالک ایک ترقی پذیر خطے کے علمی اور فکری مستقبل کو تاریک کرنے کے لیے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر سنگین جنگی جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
اس جارحیت کے پسِ پردہ محرکات کا بغور تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ان حملوں کا بنیادی ہدف اینٹ اور پتھر کی عمارتیں نہیں، بلکہ وہ سائنسی، تکنیکی اور فکری بالادستی (Technological Hegemony) ہے جو ان جامعات میں پروان چڑھ رہی ہے۔ جدید عالمی سیاست میں کوئی بھی قوم اپنے عسکری حجم سے زیادہ اپنی سائنسی اختراعات اور علمی خود مختاری کی بدولت پہچانی جاتی ہے۔ ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے نیوکلیائی اور سائنسی پروگرامز کو سبوتاژ کرنے کے لیے محض اقتصادی پابندیاں کافی ثابت نہیں ہوئیں، اس لیے اب براہِ راست علمی مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا ایک اور انتہائی خطرناک مقصد خطے میں ایک وسیع تر ‘برین ڈرین’ (ذہین افراد کے انخلاء) کی راہ ہموار کرنا ہے، تاکہ خوف اور عدم تحفظ کی فضا میں محققین، پروفیسرز اور سائنسدان اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں اور یہ خطہ کبھی بھی مغربی انحصار سے باہر نہ نکل سکے۔ جامعات کی تباہی دراصل اس خطے کو جدید دنیا کی دوڑ میں ساختیاتی طور پر مفلوج کرنے کی ایک سوچی سمجھی جیو پولیٹیکل سازش ہے۔
سیاسیات اور عمرانیات کے ماہرین اس رجحان کو ‘اسکالسٹیسائیڈ’ (Scholasticide) یا ‘علمی و فکری نسل کشی’ کی اصطلاح سے تعبیر کرتے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ استعماری طاقتوں نے ہمیشہ مفتوحہ یا حریف قوموں پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لیے ان کے تعلیمی اور ثقافتی ڈھانچے کو تباہ کیا۔ حالیہ برسوں میں متعدد ممتاز ایرانی سائنسدانوں اور محققین کی ٹارگٹ کلنگ اور تعلیمی تنصیبات پر سائبر اور فزیکل حملے، اسی استعماری تسلسل کی جدید ترین شکل ہیں۔ جب کسی قوم کی یونیورسٹیوں، تحقیقی مقالہ جات کے آرکائیوز اور جدید لیبارٹریز کو نشانہ بنایا جاتا ہے، تو دراصل اس قوم کی آنے والی کئی نسلوں کو ذہنی اور معاشی طور پر اپاہج کرنے کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا سنگین جرم ہے جس کے اثرات صرف موجودہ دور تک محدود نہیں رہتے، بلکہ دہائیوں تک اس قوم کی ترقی کے پہیے کو روکے رکھتے ہیں۔
بین الاقوامی قانونِ انسانیت (IHL) کی رو سے، تعلیمی اداروں کو مسلح تنازعات کے دوران خصوصی تحفظ حاصل ہے۔ چوتھا جنیوا کنونشن اور خاص طور پر دی ہیگ کنونشن برائے تحفظِ ثقافتی املاک (1954) اس بات کو واضح اور غیر مبہم انداز میں بیان کرتے ہیں کہ سویلین اور تعلیمی انفراسٹرکچر کو کسی بھی صورت میں فوجی کارروائیوں کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ رومسٹیٹیوٹ (Rome Statute) کے تحت تعلیمی اداروں پر دانستہ حملے صریحاً جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ تاہم، عالمی طاقتوں کی غیر مشروط سرپرستی میں ان تمام بین الاقوامی معاہدوں کو مسلسل پامال کیا جا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ذیلی اداروں، بالخصوص یونیسکو، اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کی مختلف رپورٹس میں تعلیمی اداروں پر ہونے والے ان حملوں پر گہری تشویش کا اظہار تو کیا گیا ہے، لیکن حیرت انگیز امر یہ ہے کہ یہ تشویش کبھی کسی ٹھوس تادیبی کارروائی یا عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) کے کٹہرے میں مجرموں کو کھڑا کرنے کا باعث نہیں بن سکی۔
اس تمام تر صورتحال کا سب سے تاریک پہلو وہ مغربی منافقت ہے جس نے انسانی حقوق کے نام پر دنیا کو واضح طور پر تقسیم کر رکھا ہے۔ جب ترقی پذیر ممالک میں کوئی معمولی سا واقعہ رونما ہوتا ہے، تو مغربی دارالحکومتوں سے اقتصادی پابندیوں اور مذمتی قراردادوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ مگر جب ان کے اپنے عسکری و اسٹریٹجک حلیف ایک پوری قوم کے علمی مستقبل کو تباہ کر رہے ہوتے ہیں، تو عالمی اداروں کے ہونٹوں پر پراسرار اور مجرمانہ خاموشی چھا جاتی ہے۔ سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کا بے دریغ استعمال اور انسانی حقوق کی اس کھلی پامالی پر چشم پوشی اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں انصاف اور اخلاقیات کے پیمانے طاقتور اور کمزور کے لیے یکسر مختلف ہیں۔ وہ تہذیب جو آزادیِ رائے اور علم کے فروغ کی دعویدار تھی، آج اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین کو جیو پولیٹیکل مفادات کی بھینٹ چڑھا رہی ہے۔
حتمی تجزیے میں یہ بات پورے وثوق اور علمی شواہد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ علم و آگہی کے مراکز کو عسکری جارحیت کا نشانہ بنانے والے کبھی بھی مہذب دنیا کے رہنما نہیں ہو سکتے۔ جامعات کو راکھ کے ڈھیر میں بدلنا اور محققین کی زندگیوں سے کھیلنا، دراصل ان سامراجی طاقتوں کی اپنی علمی، اخلاقی اور تزویراتی شکست کا اعتراف ہے۔ علم ایک ایسی روشنی ہے جسے جبر، پابندیوں اور عسکری طاقت کے بل بوتے پر قید نہیں کیا جا سکتا۔ تعلیمی عمارتیں منہدم ہو سکتی ہیں، تنصیبات تباہ کی جا سکتی ہیں، مگر جو فکری شعور اور سائنسی استقامت اس خطے کے نوجوانوں کے ذہنوں میں راسخ ہو چکی ہے، اسے کسی بھی جنگی کارروائی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ کا بے رحم قلم جب بھی اس صدی کے حقائق رقم کرے گا، تو انسانی حقوق کے ان عالمی ٹھیکیداروں کو تہذیب کے محافظوں کے طور پر نہیں، بلکہ ادارہ جاتی تباہی کے مرتکب اور علم کشی کے مجرموں کے طور پر یاد رکھے گا۔








