*ترکیہ اور اسرائیل تعلقات: امت مسلمہ کے ساتھ کھلی شرمناک منافقت*
*شعلہ بیانی بمقابلہ زمینی حقائق: ترکیہ کا دوہرا معیار*
*ازقلم: اسماء جبین فلک*
امت مسلمہ کی خونچکاں تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ تلخ حقیقت پوری شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ اپنوں کی منافقت نے ہمیشہ غیروں کی تلواروں سے زیادہ گہرے گھاؤ لگائے ہیں۔ آج کے پرآشوب دور میں، جب ارضِ مقدس فلسطین کے در و دیوار مظلوموں کے لہو سے سرخ ہیں، کچھ اسلامی ممالک کا کردار انتہائی کربناک اور دوغلا نظر آتا ہے۔ ان ممالک میں ترکیہ کا نام سب سے نمایاں ہے، جس کی قیادت نے دہائیوں سے خود کو عالم اسلام کے نجات دہندہ اور مظلوم فلسطینیوں کے سب سے بڑے وکیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ عالمی کیمروں کے سامنے کی جانے والی شعلہ بیان تقریروں اور جذباتی نعروں نے مسلم دنیا کے سادہ لوح عوام کے دلوں میں ترکیہ کو ایک ہیرو کا درجہ دے رکھا ہے۔ لیکن جب جذبات کے دبیز پردوں کو ہٹا کر زمینی حقائق، مستند تاریخی حوالوں اور مصدقہ تجارتی اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جائے، تو ترکیہ کی سفارتی اور معاشی قلابازیوں کا ایک ایسا شرمناک اور بھیانک چہرہ بے نقاب ہوتا ہے جو کسی بھی باضمیر انسان کی روح کو چھلنی کر دینے کے لیے کافی ہے۔
یہ ایک ناقابل تردید اور سنگین تاریخی حقیقت ہے کہ امت مسلمہ کی پیٹھ میں پہلا خنجر اس وقت گھونپا گیا جب ترکیہ نے مسلم امہ کے متفقہ موقف سے انحراف کرتے ہوئے مارچ 1949 میں اسرائیل کو ایک جائز اور قانونی ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا۔ یہ وہ وقت تھا جب لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے آبائی گھروں سے بے دخل کر کے دربدر کیا جا چکا تھا اور فلسطینیوں کے زخم ابھی بالکل تازہ تھے۔ ترکیہ مشرق وسطیٰ کا وہ پہلا مسلم اکثریتی ملک بنا جس نے غاصب صیہونی ریاست کو سفارتی تنہائی سے نکال کر اسے خطے میں ایک انتہائی اہم تزویراتی اور جغرافیائی حلیف فراہم کیا۔ اس ابتدائی سفارتی تعلق نے ایک ایسی مضبوط بنیاد رکھی جس پر آنے والی دہائیوں میں معاشی اور دفاعی شراکت داری کی ایک فلک بوس عمارت تعمیر کی گئی۔ یہ قدم اس بات کی واضح اور روشن دلیل تھا کہ ترکیہ کے نزدیک اس کے قومی اور مغربی مفادات، قبلہ اول کی حرمت اور فلسطینیوں کے بہتے خون پر ہمیشہ فوقیت رکھتے تھے۔
وقت کے ساتھ ساتھ یہ تعلق محض سفارتی حد تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے عسکری اور انٹیلی جنس تعاون کی ان تاریک گہرائیوں کو بھی چھو لیا، جن کا تصور بھی کسی اسلامی ریاست کے لیے باعثِ ننگ و عار ہونا چاہیے۔ سال 1996 میں ترکیہ اور اسرائیل کے مابین دفاعی اور عسکری تربیت کے انتہائی حساس اور تزویراتی معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ ان معاہدوں نے دونوں ممالک کی افواج کے درمیان مشترکہ مشقوں، معلومات کے تبادلے اور ایک دوسرے کی فضائی و بحری حدود کے استعمال کی راہیں ہموار کیں۔ یہ امت مسلمہ کے لیے کس قدر رنجیدہ مقام تھا کہ ترک فضائیہ کے ایف 4 فینٹم جنگی طیاروں کو جدید ترین خطوط پر استوار کرنے کا کثیر لاگت کا ٹھیکہ بھی اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کو دیا گیا تھا۔ ان معاہدوں سے اسرائیل کی دفاعی صنعت کو نہ صرف اربوں ڈالر کا فائدہ پہنچا بلکہ اسے ایک مسلم ملک کی سرزمین پر اپنے عسکری پٹھوں کو مضبوط کرنے کا نادر موقع بھی فراہم ہوا۔
اس عسکری شراکت داری کی ہوس اس قدر بڑھ چکی تھی کہ ترکیہ نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے براہ راست اسرائیلی ٹیکنالوجی پر انحصار کرنا شروع کر دیا۔ 2005 سے لے کر 2008 کے درمیانی عرصے میں، ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان اوفیک نامی جدید ترین جاسوس سیٹلائٹ اور ایرو میزائل دفاعی نظام کی خریداری پر انتہائی اعلیٰ سطحی گفت و شنید اور مذاکرات جاری رہے۔ اگرچہ بعد ازاں عالمی سفارتی دباؤ اور دیگر وجوہات کی بنا پر یہ سودا حتمی شکل اختیار نہ کر سکا، لیکن یہ مذاکرات بذات خود اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ ترکیہ اپنے دفاع کو اس ریاست کے سپرد کرنے کے لیے تیار تھا جو روزانہ کی بنیاد پر مسلمانوں کا قتل عام کر رہی تھی۔ ایک طرف فلسطین کی آزادی کے بلند و بانگ دعوے اور دوسری طرف اسی قاتل ریاست سے جدید ترین مہلک ہتھیاروں اور انٹیلی جنس آلات کے حصول کی تگ و دو، یہ وہ دہرا معیار ہے جس نے امت مسلمہ کو ہمیشہ دھوکے میں رکھا ہے۔ کیا کوئی باشعور انسان اس کھلی منافقت کو محض سفارتی مصلحت اندیشی کا نام دے کر نظر انداز کر سکتا ہے؟
یہاں یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ 2010 کے المناک ماوی مرمرہ واقعے کے بعد ترکیہ نے اسرائیل کے خلاف سخت موقف اپنایا تھا، لیکن اس واقعے کا غیر جانبدارانہ تجزیہ بھی اسی دوغلے پن کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ اس واقعے میں اسرائیلی درندگی کے نتیجے میں بے گناہ ترک شہری شہید ہوئے، جس کے بعد ترکیہ نے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا اور عسکری تعلقات کو عارضی طور پر منجمد کر دیا۔ لیکن حیرت انگیز اور انتہائی تکلیف دہ امر یہ ہے کہ اس شدید ترین سفارتی بحران اور عوامی غم و غصے کے باوجود، ترکیہ کی سیاسی قیادت نے دونوں ممالک کے درمیان موجود آزاد تجارتی معاہدے کو ایک لمحے کے لیے بھی منسوخ یا معطل نہیں کیا۔ سفارتی سطح پر لفظی گولہ باری کا طوفان برپا رہا، مگر بحیرہ روم کے راستے اسرائیلی بندرگاہوں کی طرف جانے والے ترک مال بردار جہازوں کا سفر کبھی نہیں رکا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عوام کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے سفارتی سطح پر قطع تعلق کا ڈرامہ رچایا گیا، لیکن اصل لائف لائن یعنی معاشی اور تجارتی شریانوں کو کٹنے سے بچا لیا گیا۔
معاشی تعلقات کے اس تسلسل نے اسرائیل کو خطے میں ایک ناقابل تسخیر معاشی طاقت بننے میں بھرپور مدد فراہم کی۔ سال 2022 کے اختتام تک، دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کا حجم اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی تقریباً 8.91 بلین ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔ اس ہوشربا تجارتی حجم میں ترکیہ کی جانب سے اسرائیل کو فراہم کیا جانے والا سامان کوئی عام نوعیت کا نہیں تھا، بلکہ اس میں لاکھوں ٹن فولاد، سیمنٹ، کیمیکلز، اور صنعتی مشینری شامل تھی۔ یہ وہی فولاد اور سیمنٹ ہے جو اسرائیلی بستیوں کی تعمیر، اس کے بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی، اور بالواسطہ طور پر اس کے دفاعی حصار کو ناقابل تسخیر بنانے میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ یہ کیسا اسلامی اخوت کا رشتہ ہے کہ جس لوہے سے مظلوم فلسطینیوں کے گھر مسمار کرنے والے بلڈوزر اور ٹینک بنتے ہیں، وہ لوہا اس ملک کی فیکٹریوں سے آتا ہے جو خود کو خلیفۃ المسلمین کا وارث کہلاتا ہے؟
اکتوبر 2023 کے بعد غزہ پر مسلط کی جانے والی درندہ صفت اور ہولناک جنگ کے دوران ترکیہ کی یہ منافقت اپنے عروج پر پہنچ کر پوری دنیا کے سامنے طشت از بام ہو گئی۔ ایک طرف غزہ کے ملبے تلے دبے معصوم بچوں کی لاشیں اور ماؤں کی آہیں آسمان کا سینہ چیر رہی تھیں، اور دوسری طرف ترک صدر اپنی تقاریر میں اسرائیلی وزیر اعظم کو نازی جرمنی کے ہٹلر سے تشبیہ دے کر عالم اسلام سے داد سمیٹ رہے تھے۔ جب ترک عوام اور عالمی برادری کی جانب سے ترکیہ کے اس معاشی گٹھ جوڑ پر شدید تنقید شروع ہوئی، تو مئی 2024 میں ترک حکومت نے بظاہر ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تمام براہ راست تجارت پر مکمل پابندی کا اعلان کر دیا۔ دنیا بھر کے مسلمانوں نے اس اعلان پر سکھ کا سانس لیا اور اسے ایک عظیم اسلامی فتح قرار دیا، یہ سمجھے بغیر کہ پردے کے پیچھے ایک انتہائی گھناؤنا اور شرمناک کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ تھی کہ یہ تجارتی پابندی محض کاغذ کی حد تک تھی، جبکہ اسرائیلی معیشت کو زندہ رکھنے کے لیے ایک نیا اور انتہائی مکروہ راستہ تلاش کر لیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کے مستند بین الاقوامی تجارتی اعداد و شمار نے اس حکومتی جھوٹ اور منافقت کا پردہ بری طرح چاک کر دیا، جس نے پوری امت مسلمہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان مستند اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اعداد و شمار کے مطابق، مکمل تجارتی بائیکاٹ کے اس بلند و بانگ دعوے کے باوجود ترکیہ سال 2024 میں بھی اسرائیل کو برآمدات کرنے والا دنیا کا پانچواں سب سے بڑا ملک ثابت ہوا۔ اس خونی سال کے دوران، جب غزہ میں نسل کشی اپنے عروج پر تھی، ترکیہ کی جانب سے اسرائیل کو کی جانے والی برآمدات کا کل حجم حیران کن طور پر 2.86 بلین ڈالر کی خطیر رقم تک پہنچ گیا تھا۔ دنیا بھر میں محض چین، امریکہ، جرمنی اور اٹلی ہی وہ ممالک تھے جنہوں نے اس جنگ کے دوران اسرائیل کو ترکیہ سے زیادہ سامان فراہم کیا۔ یہ اعداد و شمار ترک حکومت کے اس بیانیے کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہیں کہ وہ فلسطینیوں کی خاطر معاشی قربانی دے رہے ہیں۔
اس منافقت کی سب سے تاریک اور وحشت ناک کڑی وہ طریقہ کار ہے جس کے ذریعے پابندی کے باوجود یہ اربوں ڈالر کی تجارت جاری رکھی گئی۔ ترک حکام اور تاجروں نے انتہائی عیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تجارتی سامان کو تیسرے ممالک اور بالخصوص خود مظلوم فلسطین کے کسٹم کوڈز کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی منڈیوں تک پہنچانا شروع کیا۔ ترک ایکسپورٹرز اسمبلی کے چونکا دینے والے اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر 2024 میں ترکیہ کی جانب سے فلسطین کو کی جانے والی برآمدات میں گزشتہ سال کی نسبت 672 فیصد کا ہوشربا اور غیر فطری اضافہ ہوا اور یہ 95.4 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس سے بھی زیادہ کربناک اور ناقابل فہم بات یہ تھی کہ اس عرصے میں فلسطین کے نام پر ترکیہ سے فولاد کی برآمدات میں 5400 فیصد کا ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو بڑھ کر 2.53 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اسی طرح آئرن اور غیر آہنی دھاتوں کی برآمدات میں تقریباً 26493 فیصد کا حیران کن اور محیر العقول اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہ۔
یہ اعداد و شمار کسی بھی ذی شعور اور باضمیر انسان کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں کہ تباہ حال، جنگ زدہ اور ملبے کا ڈھیر بن چکے غزہ یا مقبوضہ فلسطین کے نہتے شہریوں کو اچانک اتنی بھاری مقدار میں فولاد، صنعتی دھاتوں اور سیمنٹ کی کیا ضرورت پڑ گئی تھی؟ درحقیقت یہ سارا سامان کاغذات کی حد تک تو فلسطین کے نام پر بک کیا جا رہا تھا، لیکن یہ بحری جہاز سیدھے اسرائیلی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہو کر اسرائیلی منڈیوں اور وہاں کے جنگی و تعمیراتی انفراسٹرکچر کی ضروریات پوری کر رہے تھے۔ ترک حکومت کی آنکھوں کے سامنے ہونے والی یہ ٹرانزٹ تجارت اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ مظلوموں کے خون پر منافع خوری کا یہ مکروہ دھندہ حکومتی سرپرستی اور مکمل چشم پوشی کے ساتھ جاری رہا۔ یہ کس قدر شرمناک ہے کہ جن فلسطینیوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر ترک قیادت سیاست چمکاتی ہے، انہی کے نام کو استعمال کر کے قاتلوں تک خام مال پہنچایا جاتا رہا۔ بات صرف 2024 تک ہی محدود نہیں رہی، بلکہ اسرائیل کے سینٹرل بیورو آف سٹیٹسٹکس کی رپورٹس کے مطابق، سال 2025 کے ابتدائی چند مہینوں میں بھی ترکیہ کی جانب سے اسرائیل کو 394 ملین ڈالر مالیت کا سامان برآمد کیا گیا۔
ان تمام حقائق اور شواہد کا عمیق مطالعہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرنا بالکل ناگزیر ہے کہ ترکیہ کی خارجہ پالیسی سراسر دوغلے پن، ذاتی مفادات اور اخلاقی دیوالیہ پن پر مبنی ہے۔ ایک ایسی ریاست جو امت مسلمہ کے درد کا مداوا کرنے کی دعویدار ہو، وہ کبھی بھی اپنے معاشی مفادات کی خاطر ظالم کے ہاتھ مضبوط نہیں کر سکتی۔ تقریریں کرنا، ریلیاں نکالنا اور عالمی فورمز پر مگرمچھ کے آنسو بہانا ایک انتہائی سستا اور آسان کام ہے جس پر کوئی معاشی قیمت ادا نہیں کرنی پڑتی۔ لیکن حقیقی اور سچی قیادت وہ ہوتی ہے جو اصولی موقف کے لیے معاشی نقصانات اور عالمی دباؤ کو خندہ پیشانی سے برداشت کرے۔ ترکیہ نے اپنے قول و فعل کے اس بدترین تضاد سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس کے لیے فلسطین کی آزادی کا مسئلہ محض ایک سفارتی ہتھکنڈہ، عوامی ہمدردیاں سمیٹنے کا ایک آلہ اور انتخابی مہم کا ایک پرکشش نعرہ ہے۔
تاریخ کا یہ بے رحم فیصلہ ہے کہ جو قومیں اور حکومتیں اپنے اصولوں کا سودا معاشی مفادات کے عوض کرتی ہیں، وہ بالآخر اخلاقی زوال کے اس گڑھے میں گرتی ہیں جہاں سے واپسی ناممکن ہوتی ہے۔ غزہ کے شہیدوں کا لہو، یتیموں کی آہیں اور بے گھر ہونے والوں کی سسکیاں نہ صرف اسرائیل کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہیں، بلکہ یہ ترکیہ سمیت ان تمام نام نہاد اسلامی ہمدردوں کے ضمیر پر بھی ایک بوجھ ہیں جنہوں نے پردے کے پیچھے ظالم کو خنجر تیز کرنے کے لیے پتھر فراہم کیے۔ آج امت مسلمہ کو یہ بات تسلیم کر لینی چاہیے کہ کھوکھلے نعروں اور شعلہ بیان تقریروں کی چمک دمک میں منافقت کے وہ تاریک سائے چھپے ہیں جنہوں نے فلسطینیوں کی تحریکِ آزادی کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ جب تک اس منافقت اور دوہرے معیار کا پردہ چاک کر کے کھرے اور کھوٹے کی پہچان نہیں کی جائے گی، امت مسلمہ اسی طرح سرابوں کے پیچھے بھاگتی رہے گی اور اس کے حقیقی دشمن دوستوں کے روپ میں اس کا خون چوستے رہیں گے۔





