Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*جنگ سے حالات سنگین،ایوان میں بحث ہونی چاہئے*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

جنگ سے حالات سنگین،ایوان میں بحث ہونی چاہئے

سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد
رابطہ: 8099695186

مغربی ایشیا میں حالات اس وقت انتہائی ابتر ہوتے جارہے ہیں،ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جو جنگ مسلط کی گئی ہے اس کا اثر نہ صرف تیل کی منڈیوں کو متاثر کررہا ہے بلکہ عالمی سطح پر خوراک اور کھاد کی سپلائی کے نظام میں بڑی رکاوٹیں پیدا کر کے مستقبل کے غذائی تحفظ (فوڈ سیکیورٹی) کے لیے بھی خطرہ پیدا کردیا ہے۔اس بحران کو دیکھتے ہوئے ماہرین اقتصادیات اور دنیا کی مختلف حکومتیں اب عالمی زرعی تجارتی قوانین کا از سر نو مسودہ تیار کرنے کی تجویز پر عمل کررہی ہے،تاکہ مستقبل میں اس طرح کے جھٹکوں سے نمٹاجا سکے۔بھارتیہ ودیش ویا پار سنستھان کے سابق ڈبلیوٹی او چیئرمین،پروفیسر وشوجیت دھر نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے آمد و رفت میں آنے والی رکاوٹ نے یہ واضح کردیا ہے کہ توانائی، کھاد اور غذائی نظام ایک دوسرے سے کتنی گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں،ایل این جی کی سپلائی میں خلل اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہندوستان جیسے ممالک میں کھاد کی پیداوار اور قیمتوں پر براہ راست اثر پڑا ہے۔ممتاز ماہرین اقتصادیات کی جانب سے مجوزہ “ماڈل ٹریٹی آن ایگریکلچر ٹریڈ” میں یہ دلیل دی گئی ہے کہ عالمی تجارتی تنظیم کا موجودہ ڈھانچہ موسمیاتی تبدیلی،وبا اور جنگ جیسے حالات سے نمٹنے میں نااہل ثابت ہوا ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ڈھانچہ شروع سے ہی ناقص تھا اور اب عالمی سپلائی چین کے دباؤ کے ٹیسٹ میں ناکام پایا گیا ہے،ہندوستان اپنی ضرورت کا تقریبا پانچواں حصہ یوریا،آدھا حصہ ڈی اے پی اور تقریبا تمام پوٹاش درآمد کرتا ہے،خلیجی ممالک سے ہونے والی سپلائی اور سمندری راستوں میں بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث انشورنس پریمیم اور مال برداری کی لاگت میں بھاری اضافہ ہوا ہے جس سے کھادوں کی قیمتوں میں اچھال آیا ہے،حکام کے مطابق حکومت ہند نے فی الحال اس جھٹکے کو کسانوں تک پہنچنے سے روکنے کے لیے اسے زیادہ سبسیڈی کے ذریعے خود برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اگر حکومت ایسا نہ کرتی تو زرعی پیداوار میں کمی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا سنگین خطرہ پیدا ہوسکتا تھا،جو ایک بڑا مالیاتی بحران بن جاتا۔ مجوزہ نئے معاہدے کا مقصد تجارت کے بجائے غذائی تحفظ،ماحولیاتی پائیداری اور مساوات کو ترجیح دینا ہے،پروفیسر وشو جیت کے مطابق یہ معاہدہ حکومتوں کو ملک کی پیداوار بڑھانے،سپلائی چین میں تنوع لانے اور ضرورت پڑنے پر مارکیٹ میں مداخلت کرنے کا قانونی حق دینے کی وکالت کرتا ہے،ماہرین کے مطابق جنگ بندی ہونے کے باوجود آبنائے ہرمز سے ہونے والی تجارت میں وار رسک پریمیم مستقل طور پر شامل ہوسکتا ہے جس کا مطلب ہے کہ ہندوستان جیسے ممالک کے لیے توانائی اور کھاد کی قیمتیں ساختی طور پر ہمیشہ کے لیے بلند رہ سکتی ہیں،بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر ہندوستان اب پوٹاش اور فاسفیٹ کے لیے نئے ذرائع تلاش کررہا ہے اور غیر ملکی معدنی اثاثوں میں سرمایہ کاری بڑھارہا ہے۔
مشرق وسطی میں جاری کشیدگی نہ صرف خطہ بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے ایران اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ نے عالمی معیشت کو ہلا کررکھ دیا ہے،تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ،ابنائے ہرمز میں غیر یقینی صورتحال اور توانائی کے بحران نے خاص طور پر ان ممالک کو شدید متاثر کیا ہے جو درآمدات پر انحصار کرتے ہیں،ہندوستان بھی انہی ممالک میں شامل ہے جہاں اس بحران کے اثرات براہ راست عوام اور معیشت پر پڑرہے ہیں،ایسے نازک وقت میں جب ملک کو واضح حکمت عملی اور شفاف پالیسی کی ضرورت ہے،پارلیمنٹ میں اس اہم مسئلے پر جامع اور سنجیدہ مباحث کا نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے،حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت میں بحث سے پالیسیاں مضبوط ہوتی ہیں،حکومت کو چاہیے تھا کہ اپوزیشن کے خدشات کو دور کرے اور مکمل مباحث کی اجازت دے،اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مسلسل پارلیمنٹ میں تفصیلی مباحث کا مطالبہ کیا جا رہا ہے لیکن حکومت اس مسئلے پر مباحث کے لیے سنجیدہ نظر نہیں آتی،ایسے میں یہ سوال فطری ہے کہ آخر حکومت کو کس بات کا خوف ہے؟ کس چیز سے یہ حکومت ڈری اور گھبرائی ہوئی ہے؟ کیوں حکومت اہم مسائل پر بحث سے دور بھاگ رہی ہے؟حالانکہ وزیراعظم مودی نے 23 مارچ کو لوک سبھا اور 24 مارچ کو راجیہ سبھا میں بیان دیا جبکہ 25 مارچ کو کل جماعتی اجلاس طلب کیا گیا،اس اجلاس میں اپوزیشن نے حکومت کو بحران کے وقت تعاون کا یقین دلایا اور پارلیمنٹ میں مباحث کا مطالبہ کیا،اپوزیشن کا کہنا ہے کہ صرف بیانات اور اجلاس کافی نہیں بلکہ مکمل بحث ضروری ہے تاکہ عوامی مسائل سامنے آئے جبکہ حکومت کے مطابق وہ بحث پر نہیں بلکہ کاروائی پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے،اپوزیشن کا الزام ہے کہ حکومت اس لیے مباحث سے راہ فرار اختیار کررہی ہے کیونکہ اس سے خارجہ پالیسی کی کمزوریاں،معاشی دباؤ اور عوامی مسائل سامنے آئیں گے۔جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں اتحاد اور فوری اقدامات زیادہ ضروری ہیں۔ یہاں یہ ذکر بے جانا نہ ہوگا کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں،مہنگائی،ایل پی جی کی قلت اور خلیجی ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں ہندوستانی شہریوں کا مستقبل یہ سب ایسے مسائل ہیں جو براہ راست عام آدمی کی زندگی سے جڑے ہوئے ہیں اگر ان پر کھل کر گفتگو نہیں ہوگی تو عوامی بے چینی میں اضافہ ہونا فطری ہے،اپوزیشن کی جانب سے اس معاملے پر پارلیمنٹ میں مباحث کی درخواست کی گئی ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ مشرق وسطی میں جاری کشیدگی کے ملک پر اثرات کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لایا جائے۔کانگریس قائد پرینکا گاندھی نے کہا ہے کہ مودی حکومت بتائے کہ توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے کیا منصوبہ بنایا جا رہا ہے؟ہمارے شہریوں کو جنگ زدہ علاقوں سے محفوظ واپس لانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟پرینکا گاندھی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں مغربی ایشیا میں جاری جنگ پر بات چیت ہو،تجاویز پیش کی جائیں اور ممکنہ حل تلاش کیے جائیں،انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے جنگ بڑھ رہی ہے،مسائل میں بھی اضافہ ہورہا ہے،آج شہری گیس سلنڈر کے لیے پریشان ہیں اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو پیٹرول اور ڈیزل کی قلت بھی ممکن ہے،بلاشبہ ہنگامی حالات میں فوری فیصلے اور اقدامات ضروری ہوتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پارلیمانی نگرانی کو نظر انداز کر دیا جائے،خارجہ پالیسی اور معاشی حکمت عملی جیسے حساس معاملات میں شفافیت اور جواب دہی نہایت اہم ہوتی ہے،پارلیمنٹ میں مباحث نہ صرف حکومت کے فیصلوں کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ عوام کے اعتماد میں بھی اضافہ کرتے ہیں ایسے میں اپوزیشن کا یہ مطالبہ بھی وزن رکھتا ہے کہ اس مسئلے پر تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے مسلط کردہ جنگ کا عرصہ ایک مہینے سے زیادہ ہو گیا ہے،یہ ایک ماہ امریکہ اور اسرائیل کی توقعات سے کافی زیادہ کہا جاسکتا ہے کیونکہ دونوں ہی جارحانہ طاقتوں کو یہ گمان تھا کہ ایران اس جنگ کو زیادہ دیر تک جھیل نہیں پائے گا،امریکہ اور اسرائیل اپنے منصوبوں اور عزائم میں کامیاب ہو جائیں گے،امریکہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی کا خواہاں تھا اور چاہتا تھا کہ وہاں بھی اپنی کٹھ پتلی حکمرانوں کو مسلط کرتے ہوئے اپنے مقاصد کی تکمیل کی جائے۔اسرائیل کے توسیع پسندانہ اور جارحانہ عزائم کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے،اسرائیل نے اس جنگ کے تعلق سے امریکہ کو غلط باور کروایا تھا کہ بہت جلد مقاصد کو حاصل کرلیا جائے گا اور ایران دونوں ممالک کے حملوں کی تاب نہیں لائے گا،لیکن کسی نے بھی اس کے منفی اثرات پر غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی،اس جنگ کے جو اثرات خود امریکہ اور اسرائیل پر مرتب ہونے لگے ہیں وہ ان دونوں ممالک کے لیے اور ساری دنیا کے لیے بھی غیر متوقع ہی کہے جا سکتے ہیں،ایران اس جنگ کو طوالت دینے میں کامیاب ہو گیا ہے اور اب اس کے اثرات ساری دنیا پر مرتب ہونے لگے ہیں،جس طرح ہر جنگ میں ہوتا ہے اس جنگ میں بھی صرف تباہی ہی ہاتھ آرہی ہے،اس جنگ کو جن مقاصد کے لیے امریکہ اور اسرائیل نے شروع کیا تھا وہ پورے ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں،جنگ کے جہاں مختلف پہلو رہے ہیں،وہیں اس کا سب سے زیادہ اہم پہلو اس جنگ کے معاشی نقصانات کا ہے،اس جنگ میں ساری دنیا میں معاشی انحطاط کی کیفیت پیدا ہونے کے اندیشے لاحق ہو گئے ہیں،دنیا بھر میں سرمایہ کاروں کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس کے نتیجے میں عام آدمی متاثر ہورہا ہے،جس وقت سے جنگ چھڑی ہے،اس وقت سے دنیا بھر میں اتھل پتھل مچی ہوئی ہے،خود امریکہ میں اسٹاک مارکیٹس پر جو منفی اثرات ہوئے ہیں،ان کے نتیجے میں پانچ ٹریلین ڈالرز کا سرمایہ کاروں کو نقصان ہو چکا ہے،اسی طرح تیل کی قیمتوں میں بھی بھاری اضافہ ہو گیا ہے،چند ہی ممالک ایسے ہوں گے جو اس جنگ کے اثرات سے تاحال محفوظ رہ پائے ہوں،یہ حالات صرف امریکہ تک محدود نہیں ہے،دنیا کے کئی ایسے ممالک ہیں جو معاشی نقصانات سے دوچار ہورہے ہیں،اسرائیل و امریکہ کے جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کا یہ سلسلہ ایسا لگتا ہے کہ مزید دراز ہوجائے گا،امریکہ کے سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ جنگ چند مہینے نہیں بلکہ چند ہفتے مزید چل سکتی ہے،تاہم دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی ون سن وزیراعظم اسرائیل بنجامن نتن یاہو سے فون پر بات کرتے ہوئے امریکہ کو خاص طور پر صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو اس جنگ کے تعلق سے گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے،ان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے جنگ کے تعلق سے جوامکانات ظاہر کیے تھے وہ قطعی پورے نہیں ہوئے،اس طرح یہ اشارے بہت واضح ہونے لگے ہیں کہ یہ جنگ مزید کچھ ہفتے چل سکتی ہے،یہ بھی امریکی قیاس ہے،ہو سکتا ہے کہ جنگ اس سے بھی زیادہ وقت تک طوالت اختیار کرجائے،ابھی صرف ابتدائی ایک ماہ میں ہی جو نقصانات ہوئے ہیں وہ ناقابل بیان کہے جا سکتے ہیں،ساری دنیا میں اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ درج کی گئی ہے اور اس کے نتیجے میں سرمایہ کار اپنے لاکھوں کروڑ روپیوں سے محروم ہو گئے ہیں، گیس کی قلت،دنیا کے کئی ممالک میں پیدا ہو گئی ہے، گیس کی قلت کے نتیجے میں کمرشیل اور تجارتی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں،اس کے علاوہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ درج کیا جارہا ہے،یہ اضافہ بتدریج عوام پر بھی منتقل کیا جائے گا،معیشتوں پر منفی اثرات کے نتیجے میں روزگار متاثر ہونے کے اندیشے لاحق ہو گئے ہیں،مینو فیکچرنگ کا شعبہ بھی اس کے منفی اثرات سے محفوظ رہنے کا امکان نہیں ہے،اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی جنگ کے اثرات مرتب ہونے کے اندیشے بھی بے بنیاد نہیں ہیں،بحیثیت مجموعی گزشتہ ایک مہینے کی جنگ نے ساری دنیا کی معیشت کو ہلا کررکھ دیا ہے،مزید چند ہفتے اگر جنگ جاری رہتی ہے تو حالات انتہائی بدتر اور قابو سے باہرہوجائیں گے،ابھی تک کے جو اثرات ہیں ان کو بہتر بنانے میں طویل وقت درکار ہوگا،جنگ جتنی زیادہ طویل ہوگی،نقصانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے اور اس کے نتیجے میں جنگ کے نقصانات کی پابجائی کا عمل بھی اتنا ہی مشکل اور طویل ہوجائے گا۔ اسرائیل و امریکہ کی حمایت کی قیمت ساری دنیا چکانے پر مجبور ہورہی ہے،ایسے میں دنیا کے تمام صحیح الفکر ممالک کو آگے آتے ہوئے امریکہ پر اثر انداز ہونا چاہیے،تاکہ اس جنگ کو ختم کیا جا سکے،دنیا میں بہت ساری جنگیں ہوئی ہیں ماضی میں بھی ہوئی ہیں لیکن اب تک جنگ سے کیا حاصل ہوا ہے؟جنگ تو خود مسئلے پیدا کرتی ہے وہ مسئلوں کا حل بالکل نہیں ہے،یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی سطح پر بدلتی ہوئی صف بندیوں کے درمیان ہندوستان کی خارجہ پالیسی ایک نازک مرحلے سے گزررہی ہے،ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہیں تو دوسری طرف ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ اقتصادی مفادات وابستہ ہیں،ایسے میں توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے اور اس پر قومی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے،موجودہ حالات میں حکومت کو چاہیے کہ وہ پارلیمنٹ میں مکمل مباحث کرائے اور اپوزیشن کے سوالات کا جواب دے،اس سے نہ صرف جمہوری عمل مضبوط ہوگا بلکہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک متحد حکمت عملی بھی سامنے آئے گی، کیونکہ مضبوط جمہوریت وہی ہوتی ہے جہاں اختلاف رائے کو دبایا نہیں جاتا بلکہ اسے سن کر بہتر فیصلے کیے جاتے ہیں،مشرق وسطی کا جاریہ بحران وقتی محسوس نہیں ہوتا،اس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جا سکتے ہیں، ایسے میں شفاف مباحث اور مشترکہ حکمت عملی ہی وہ راستہ ہے جس سے ملک اس مشکل وقت کا بہتر طور پر مقابلہ کرسکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشی شعبے میں جو اتھل پتل چل رہی ہے اس کو قابو میں کرنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں،صورتحال قابو سے پوری طرح باہر ہونے سے قبل اس پر توجہ کرتے ہوئے حالات کو معمول پر لانے اور اسکو مستحکم بنانے پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے،ایسے حالات کو زیادہ دیر تک ان دیکھا نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی خاموشی اختیار کرتے ہوئے حالات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے اس معاملے میں فوری اقدامات ضروری ہیں۔بیرونی سرمایہ کار اداروں میں اعتماد برقرار رکھنے اور ڈالر کے مقابلے میں روپیے کی گھٹتی ہوئی قدر کو روکنے پر بھی خصوصی توجہ دی جانی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے جانے چاہیے کہ عام آدمی کو اس کے اثرات سے ممکنہ حد تک محفوظ رکھا جاسکے،دیگر امور سے زیادہ ان حالات کو بہتر بنانے پر حکومت کو توجہ کرنی چاہیے،معاشی شعبے کا عدم استحکام سارے ملک پر اثر انداز ہوسکتا ہے اور عام آدمی کی زندگی مزید مشکلات کا شکار ہوسکتی ہے،حکومت کو اس معاملے میں حالات قابو سے باہر ہونے سے پہلے حرکت میں آتے ہوئے مؤثر اور جامع اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو کسی بڑے بحران سے بچایا جاسکے۔
*(مضمون نگارمعروف صحافی،سیاسی تجزیہ نگار اور اسلامی اسکالر ہیں)*
sarfarazahmedqasmi@gmail.com